ری پبلکن پارٹی کو ٹرمپ کے باعث تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا

ری پبلکن پارٹی کو ٹرمپ کے باعث تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا

  

واشنگٹن (تجزیاتی رپورٹ، اظہر زمان) ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے باعث پارٹی کو تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ پارٹی اسٹیبلشمنٹ نے نہ چاہنے کے باوجود پارٹی کنونشن میں مندوبین کا فیصلہ مانتے ہوئے ٹرمپ کی رسمی توثیق کردی تھی تاہم پارٹی کے اہم ارکان مسلسل تحفظات کا اظہار کرتے رہے اور خواتین کے ساتھ بے ہودہ حرکتیں کرنے والی 2005ء کی ڈونلڈ ٹرمپ کی ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد جہاں امریکی خواتین سمیت عوام میں شدید ردعمل سامنے آیا وہاں بعد میں پارٹی کے اہم لیڈروں نے کھلے عام یا درپردہ اس کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ اگرچہ اسٹیبلشمنٹ نے ٹرمپ کی باقاعدہ عدم توثیق نہیں کی لیکن ٹرمپ نے اس کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ’’بے وفا‘‘ پارٹی قیادت پر بھروسہ کرنے کیلئے براہ راست ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی جدوجہد کریں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ اپنے تمام تر ناپسندیدہ روئیے اور عجیب و غریب نظریات کے باوجود قدامت پسند ووٹروں کی خاصی تعداد اس کی حامی ہے اور اس کی انتخابی ریلیاں بعض ریاستوں میں اپنی مخالف ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن سے زیادہ بڑھی ہوتی ہیں۔ تاہم ’’فوکس نیوز‘‘ کے ایک تازہ انتخابی جائزے میں ہیلری کلنٹن کو 45 فیصد اور ڈونلڈ ٹرمپ کو 38 فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔ اس طرح اس وقت ہیلری کلنٹن کو اپنے حریف کے مقابلے میں 7 پوائنٹ کی برتری حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ جیسے معتبر اخبار کے ایڈیٹوریل نے ہیلری کلنٹن کی توثیق کردی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ری پبلکن پارٹی کو صدارتی انتخابات کے ساتھ ساتھ دو دوسرے معاملات درپیش ہیں جو اس سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے یا ہارنے سے زیادہ اسے اپنا وجود برقرار رکھنے اور آپس میں اتحاد برقرار رکھنے کی زیادہ فکر ہے۔ اسے تشویش ہے کہ ٹرمپ کے باعث کہیں یہ پارٹی زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو۔ اس وقت کانگریس کے دونوں ایوانوں ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کو ڈیمو کریٹک پارٹی کے مقابلے پر اکثریت حاصل ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو جو دوسرا اہم مسئلہ درپیش ہے کہ کیا وہ 8 نومبر کو ہونے والے کانگریس کے انتخابات میں اپنی برتری برقرار رکھ سکے گی۔ اس وقت اگرچہ صدر بارک اوبامہ کا تعلق ڈیمو کریٹک پارٹی سے ہے لیکن کانگریس میں برتری کے باعث ری پبلکن پارٹی عموماً مالیاتی امور میں اپنی مرضی منوا لیتی ہے۔ صدارتی انتخابات کے ہنگامے میں عام طور پر یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ 8 نومبر کو پورے ملک کی ریاستوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے مخصوص کوٹے کی بنا پر جہاں 538 مندوب منتخب ہوں گے وہاں اسی تاریخ کو تمام ریاستوں میں کانگریس کے انتخابات بھی ہوں گے۔ ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ میں سے جس کے حامی کم از کم 270 مندوب منتخب ہو جائیں گے وہ صدر قرار پائے گا اور اس کی ٹیم کا نائب صدر بھی ساتھ ہی منتخب ہو جائے گا۔ 8 نومبر کو امریکہ کی تمام ریاستوں میں جو کانگریس کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں ان میں ایوان نمائندگان کی کل 435 سیٹوں کیلئے چناؤ ہوگا جو ہر دو سال بعد ہوتا ہے۔ 2014ء میں وسط مدتی انتخابات ہوئے تھے جس میں ری پبلکن پارٹی کو 247 اور ڈیمو کریٹک کو 188 سیٹیں ملی تھیں۔ سینیٹ کی کل سو سیٹوں میں سے اس وقت ری پبلکن پارٹی کے پاس 54 اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے پاس 44 سیٹیں ہیں۔ سینیٹ کے ارکان کی مدت ھچ سال ہوتی ہے تاہم ہر دو سال بعد کل 100 سیٹوں کی ایک تہائی یعنی 34 سیٹوں کا انتخاب ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 18 نومبر کے صدارتی انتخاب کے ساتھ ساتھ ایوان نمائندگان کی کل 435 سیٹوں اور سینیٹ کی 34 سیٹوں کا فیصلہ بھی ہوگا جس کے بعد کانگریس میں پارٹی پوزیشن کا معاملہ واضح ہوگا۔

مزید :

صفحہ آخر -