طاہر القادری کے وکیل کا غلام حسین اور عارف نظامی کو 5ارب ہرجانے کا نوٹس

طاہر القادری کے وکیل کا غلام حسین اور عارف نظامی کو 5ارب ہرجانے کا نوٹس

  

لاہور(خبر نگار خصوصی) عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری کے وکیل ندیم سعید نے 24 چینل کے پروگرام ڈی این اے کے میزبان چودھری غلام حسین اور عارف نظامی کو ڈاکٹر طاہر القادری کے بارے میں لغو ،گھٹیا اور بے بنیاد الزام تراشی کرنے پر 5ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے اور 15 یوم کے اندر آن ایئر غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔بصورت دیگر کریمینل ایکٹ پر ایف آئی آر درج کروائی جائیگی۔لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ رائیونڈ مارچ سے قبل ڈاکٹر طاہر القادری کو میاں نواز شریف کی والدہ کا کوئی فون آیا اور نہ کسی ذرائع سے رابطہ ہوا۔اخراجات کی مد میں 8 کروڑ روپے لیے جانے کا الزام انتہائی بے ہودہ ،گھٹیا اور بے بنیاد ہے۔سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ندیم سعید نے نوٹس میں کہا ہے کہ میرے Clientڈاکٹر طاہر القادری ایک بین الاقوامی مذہبی سکالر اور عوامی تحریک کے سربراہ ہیں۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کا نام 500 بااثر مسلم شخصیات کی فہرست میں 121 ویں نمبر پر ہے اور انہیں دنیا کے مختلف ممالک میں علم، امن اور انتہا پسندی کے خاتمے کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دینے پر مختلف اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پروگرام ڈی این اے کے میزبان 15 یوم کے اندر غیر مشروط طور پر آن ایئر معافی مانگیں ورنہ 5ارب ہرجانے کے اس نوٹس کو حتمی سمجھا جائے نہ صرف اس حوالے سے قانونی چارہ جوئی کی جائیگی بلکہ لغو الزام تراشی کے کریمینل ایکٹ پر ایف آئی آر بھی درج کروائی جائیگی۔

مزید :

صفحہ آخر -