فراڈ کا الزام، محکمہ اینٹی کرپشن نے محکمہ ایکسائز کے انسپکٹر سمیت 4اہلکاروں کو گرفتار کر لیا

فراڈ کا الزام، محکمہ اینٹی کرپشن نے محکمہ ایکسائز کے انسپکٹر سمیت 4اہلکاروں ...

  

لاہور(رپورٹ: محمد یو نس با ٹھ)محکمہ اینٹی کرپشن نے دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں محکمہ ایکسائز کے انسپکٹر سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کر کے انسپکٹر سمیت 4اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ محکمہ ایکسائز نے فراڈ کے مرتکب ڈیٹا آپریٹر (ڈی ای او)زاہد کو برطرف کر دیا ہے ۔افسوسناک امر یہ ہے کہ تفتیشی افسر نے فراڈ میں ملوث برطرف ہونے والے اصل ملزم زاہد کو گرفتار نہیں کیا۔جبکہ گرفتار ہونے والوں کو انکوائری کے بہانے اپنے دفتر بلوایا اور انہیں گرفتار کر لیا۔ ایکسائز کے افسران کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسر عمر مقبول اصل ملزم سے ساز باز ہیں اور ایکسائز کے بے گناہ افسروں کو ہراساں کر کے ان کے محکمانہ کام میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں ۔جس سے حکومت کو ملنے والا نہ صرف ریونیو متاثر ہو رہا ہے بلکہ سائلین بھی ان کی گرفتاری سے متاثر ہو رہے ہیں ۔غازی روڈ کے رہائشی اور مقدمہ کے مدعی محمد اسلم نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کو دی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس نے ایک گاڑی نمبر LXC-6000جو کہ ہائی لکس صرف ڈالہ بیان کیا جاتا ہے کا سودا عباس علی ولد میاں قادر بخش جو کہ عباس نگر کنگنی پور قصور کے رہائشی ہیں سے ساڑھے 13لاکھ میں طے کیا ۔اور اس نے کہا کہ گاڑی میرے نام پر ہے ۔اس میں کسی قسم کا فراڈ نہیں ہے ۔کاغذات مکمل ہیں اور تمام تر میری ذمہ داری ہے ۔جس پر وہ اور سرور ایجنٹ اور عباس علی دفتر ایکسائز والٹن گئے اور وہاں پر ڈیوٹی پر موجود اہلکار سے گاڑی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کاغزات چیک کرنے کے بعد بتایا کہ گاڑی کے کاغذات کلیئر ہیں آپ گاڑی کے ٹوکن جمع کروا دیں ۔جس پر اس نے گاڑی کے ٹوکن 11ہزار 8سو 13روپے جمع کروا دیئے اور نیشنل بینک میں 13لاکھ 40ہزار روپے عباس علی کے اکاونٹ میں جمع کروا دیئے جبکہ 10ہزار اسے پہلے ہی دیئے جا چکے تھے ۔اس طرح کل رقم 13لاکھ 61ہزار 800روپے دیئے بعد ازاں معلوم ہوا کہ گاڑی کے تمام کاغذات درست نہیں ہیں اور ان کے ساتھ دھوکہ اور فراڈ کیا گیا ہے ۔لہذا میاں عباس علی ،ڈیٹا آپریٹر و انسپکٹر ایکسائز اور دیگر اہلکاران جو اس میں ملوث ہیں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جس پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔اس بارے میں جب ایکسائز افسران کو معلوم ہوا تو انہوں نے ڈیٹا آپریٹر زاہد کے خلاف انکوائری عمل میں لاتے ہوئے اسے ملازمت سے برطرف کر دیا جبکہ مقدمہ کے تفتیشی اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمر مقبول نے مقدمہ کی تفتیش شروع کرتے ہوئے موٹر رجسٹر اتھارٹی کے اہلکار قاری غلام رسول و انسپکٹر وحید میو ،کلرک شکیل طاہر اور کانسٹیبل شفیق کو انکوائری کے سلسلے میں اپنے دفتر بلوایا اور ہتھکڑیاں لگا کر جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد انہیں جیل بھجوا دیا ہے جس پر محکمہ ایکسائز کا پورا سٹاف سراپا احتجاج ہے اور ان کا موقف ہے کہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ اصل ملزمان زاہد اور عباس کو پکڑنے کی بجائے بے گناہ افراد کو ہراساں کر رہی ہے ۔تفتیشی افسر عمر مقبول نے اس بارے میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ تفتیش میرٹ پر کر رہا ہے.انہوں نے ملزم میاں عباس کو جو کہ ایک پرائیویٹ آدمی اور کنگن پور کا ذمیندار ہے اسے گزشتہ روز گرفتار کر لیا ہے جس نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ اس نے یہ گاڑی علاقہ کے ایک ایجنٹ سرور کی مدد سے ایکسائز کے ملازم زاہد سے ہی حاصل کی تھی وہ زاہد کی گرفتاری کے لئے دن رات چھاپے مار رہے ہیں اسے بھی جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہو گی۔

فراڈ کا الزام

مزید :

صفحہ آخر -