پنجاب اسمبلی، حکومت کا سرکاری ہسپتالوں میں کارڈیک سرجنز کی کمی کا اعتراف

پنجاب اسمبلی، حکومت کا سرکاری ہسپتالوں میں کارڈیک سرجنز کی کمی کا اعتراف

  

لاہور( نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پنجاب حکومت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ صوبے میں کارڈیک سرجن کی بدترین کمی ہے اس کو ہماری ناکامی کہا جائے یا کچھ اور مگر حقیقت یہی ہے کہ پنجاب سمیت پورے ملک میں بھی کارڈیک سرجن کی کمی ہے ۔حکومت صوبے کے40بڑے ہسپتالوں کو آئی ٹی سمیت دیگر شعبوں میں اپ گر یڈ کر رہی ہے اور ان میں بر ن یونٹ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے جہاں 20/25فیصد متاثر ہونے والوں کا فوری علاج ممکن ہوسکے گا ہم یہ نہیں کہتے کہ محکمہ صحت میں ہم نے شہد اور دودھ کی نہر یں بہا دیں مگر تیز ی کیساتھ بہتر ی لا رہے ہیں 4ہزار نرسز بھی بھرتی کی جائیں گی ۔ محکمہ صحت کے پار لیمانی سیکرٹری برائے صحت خواجہ عمران نذیر نے پیپلزپارٹی کی خاتون رکن فائزہ ملک کے سوال کے جواب میں کہا کہ جناح ہسپتال اور گنگا رام میں ایمر جنسی سمیت دیگر شعبوں میں تمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور گنگارام کی ایمر جنسی میں بیک وقت100مر یضوں کو سہولتوں کی فراہمی دی جا تی ہے جس پر فائزہ ملک نے کہ پار لیمانی سیکرٹری کا جواب کسی بھی لحاظ سے درست نہیں وہاں تو ایک ایک بیڈ پر 4،چارمر یض پڑ ے ہوتے ہیں اور جناح ہسپتال میں مر یضوں کو مفت ادویات بھی مکمل نہیں ملتی جسکے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ہم پنجاب میں جن40ہسپتالوں کو اپ گر یڈ کر رہے ہیں ان 25ڈسٹر کٹ ہسپتال جبکہ15تحصیل ہسپتال ہے اور اپ گر یڈ ہونیوالے ہسپتالوں میں جناح ہسپتال بھی شامل ہے وہاں آئی ٹی کی شعبے میں بھی اپ گر یڈ کیا جا رہاہے ۔ پی ٹی آئی کی رکن نبیلہ حاکم علی خان کے سوال کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ہر یونین کونسل میں بی ایچ یوز بنائے مگر ڈاکٹرز کی کمی کی وجہ سے وہاں مسائل رہے ہیں مگر اب وزیر اعلی پروگرام کے تحت اب تک صوبے میں70فیصد بی ایچ یوز میں مکمل سہولتوں کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے اور باقی پر بھی انشاء اللہ جلد ازجلد سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا ۔ حکومتی رکن میاں طارق کے سوال کے جواب میں پار لیمانی سیکرٹری صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیر آباد کارڈلوجی ہسپتال کوفعال کر نے میں اس وجہ سے بھی تاخیر ہوئی ہے کیونکہ 2008میں جب اس وقت کی حکومت نے اس کا آغاز کیا مگر وہاں اس کیلئے فنڈز مختص نہیں رکھے بلکہ جلدی میں اوپننگ کر دی مگر اب حکومت وہاں بھر پور سہولتیں فراہم کر رہی ہے اور وہاں پر آپر یشنز سمیت دیگر سہولتوں کیلئے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں مگر ہمیں کارڈ ک سر جن نہیں مل رہا جسکی وجہ سے لاہور سے ایک ڈاکٹر ہفتے میں وہاں جاتے ہیں اور جیسے ہی سر جن ملے گا اس کی بھی تعیناتی کر دی جائے گی ۔ تحر یک انصاف کے ملک احمد خان کے سوال کے غلط جوابات پر پار لیمانی سیکرٹری خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ محکمہ صحت کے افسران سوالوں کے غلط جوابات دیتے ہیں اور سر گودھا کے مولا بخش ہسپتال سمیت دیگر ہسپتالوں کے متعلق غلط جوابات دینے پر ہم نے2افسران کو معطل کر دیا ہے یہ بات درست ہے کہ پیدائش کے ایک ماہ کے اندر انتقال کر جانیوالے بچوں کی تعداد زیادہ ہے اور اس حوالے سے میں نے محکمہ صحت کے ذمہ داروں کے ساتھ ملکر سر ی لنکا دورہ بھی کیا ہے جہاں سر ی لنکا اور پنجاب حکومت میں ایم اویوبھی سائن ہو چکا ہے اور ہم ایسے بچوں کی اموات کو روکنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں پاکستان میں1ہزار میں76بچے ایسے ہیں جو پیدائش کے ایک ماہ کے اندر انتقال کر جاتے ہیں مگر اب بچوں کی جان کو بچانے کیلئے ہسپتالوں میں ایکوبیٹر سمیت دیگر سہولتیں فراہم کر نے کیلئے بھر پور اقدامات کر رہے ہیں ۔عامر سلطان چیمہ کے سوال کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ جون2017تک پنجاب کے40بڑ ے ہسپتالوں میں برن یونٹ کے قیام کو یقینی بنایا جائیگا اوربر ن کے حوالے سے ریٹاٹرڈ ہونیوالے ڈاکٹرز سے بھی دوبارہ رابطہ کیا جا رہا ہے اور جو نئے ڈاکٹرز بن رہے ہیں ان کیلئے بھی ضروری ہوگا وہ کم ازکم 5سال محکمہ صحت کے ضرور کام کر یں گے ۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -