مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کی ملکیت کا دعویٰ مسترد، قبلہ اول صرف مسلمانوں کا ہے، یونیسکو کا فیصلہ

مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کی ملکیت کا دعویٰ مسترد، قبلہ اول صرف مسلمانوں کا ہے، ...

  

مقبوضہ بیت المقدس (اے این این)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت یونیسکو نے مسجد اقصی پر یہودیوں کی طرف سے دائر کردہ ملکیت کا دعوی مسترد کرتے ہوئے اسے صرف مسلمانوں کا مقدس مذہبی مقام قرار دیا ہے۔ یونیسکو کے اس کے فیصلے پر صہیونی ریاست کے ذرائع ابلاغ میں سخت بے چینی پائی جا رہی ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز یونیسکو نے ایک فیصلے کی منظوری دی جس میں قرار دیا گیا ہے کہ قبلہ اول(مسجد اقصی)صرف مسلمانوں کا مقدس مذہبی مقام ہے جس پر یہودیوں کا دعوی باطل ہے۔یونیسکو میں گذشتہ روز قبلہ اول کے حوالے سے ہونے والی رائے شماری میں 26ممالک نے قرارداد کے حق میں جب کہ 6نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ 26 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جب کہ دو ملک غیرحاضر رہے۔خیال رہے کہ صہیونی ریاست نے یونیسکو میں قبلہ اول کے حوالے سے ہونے والی رائے شماری روکنے کے لیے بھرپور کوشش کی اور یورپی ملکوں کو رائے شماری سے روکنے میں کامیاب بھی رہا ہے تاہم اس کے باوجود قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔اسرائیلی وزیر زراعت اوری ارئیل کا کہنا ہے کہ ان کی کوششوں کا مقصد یونیسکو میں مسجد اقصی پر رائے شماری کیلئے پیش کی گئی قرارداد کو بے معنی اور غیر موثر کرنا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قرارداد میں اسرائیل کی جانب سے طاقت کے استعمال اور مسلمانوں پر عبادت کیلئے پابندیاں عائد کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد فلسطین اور مشرقی یروشلم کی مخصوص ثقافت کا تحفظ ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے یونیسکو کی قرارداد پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس پر سیاسی مقاصد کا الزام عائد کیا ہے۔ بنجمن یاہو نے کہا ہے کہ یہ یونیسکو کا ایک بے کار ڈرامہ ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ ادھر فلسطینی صدر محمود عباس نے قرارداد پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ یونیسکو کی قرارداد اسرائیل کے لیے اہم پیغام ہے کہ وہ اپنا قبضہ ختم کر کے یروشلم کو مسلمانوں کا دارالحکومت تسلیم کرے۔خیال رہے کہ یونیسکو اسی نوعیت کے ایک فیصلے میں گزشتہ اپریل میں ایک قرارداد میں قبلہ اول کو مسلمانوں کی ملکیت قرار دے چکی ہے۔ اس وقت یونیسکو کی قیادت فرانس کے پاس تھی۔ فرانسیسی حکومت نے اسرائیلی دباؤ میں آ کر کہا تھا کہ اسے یونیسکو میں ہونے والی رائے شماری پر افسوس ہے اور وہ آئندہ اس طرح کی کسی بھی رائے شماری کو روکنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -