ہربنس پورہ، سامان کی لوڈنگ کے دوران کرنٹ لگنے سے 3نوجوان جاں بحق، شادی والا گھر ماتم کدہ بن گیا

ہربنس پورہ، سامان کی لوڈنگ کے دوران کرنٹ لگنے سے 3نوجوان جاں بحق، شادی والا ...

  

لاہور(وقائع نگا ر) ہربنس پورہ میں شادی والے گھر میں سامان ٹرک پر لادتے ہوئے بجلی کی تاروں کیساتھ لگ جانے پر کرنٹ لگنے سے 3نوجوان زندگی کی بازی ہار گئے ،ورثا کا شالیمار ہسپتال اور مغلپورہ چوک پر لیسکو کے خلاف شدید احتجاج اور نعرے بازی ،پولیس نے دو نوجوانوں کی لاشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثاکے حوالے کر دیں جبکہ ایک نوجوان کی لاش ورثا کے نہ پہنچنے پر مردہ خانہ میں جمع کروا دی گئی ۔جبکہ مظاہرین کو انصاف کی فراہمی کے وعدے کے ساتھ پر امن طور پر منتشر کر دیا۔جوان بیٹوں کی لاشیں گھر میں پہنچنے سے شادی والے گھر میں صف ماتم بچھ گیا اور ہر آنکھ اشک بار دکھائی دیتی تھی ۔متوفین کی مائیں اپنے بیٹوں کی لاشوں سے لپٹ کر روتی رہیں ۔بعد ازاں متوفین کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں ہربنس پورہ میں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے اہل علاقہ پولیس اور متوفین کے ورثا و مظاہرین نے بتایا کہ وہ ہربنس پورہ کے علاقہ شاہد پارک کے رہائشی ہیں ۔گزشتہ روز گھر میں آصف نامی نوجوان کی شادی کی تقریب تھی اس ہی سلسلے میں رشتہ دار اور محلہ کے دوست و احباب آئے ہوئے تھے ۔انہوں نے بتایا کہ تقریب کا آغاز شام کو 8بجے ہونا تھا اسی سلسلہ میں دولہا آصف کا بھائی کاشف ،دوست ابراہیم اور کزن معظم ضروری سامان ٹرک سے نکال رہے تھے جبکہ کچھ سامان کو گھر سے دولہا کے نئے گھر میں شفٹ بھی کیا جا رہا تھا جو کہ یہ تینوں نوجوان کر رہے تھے جبکہ ان کی مدد ٹرکوں کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر اور چند مہمان بھی کر رہے تھے ۔انہوں نے بتایا کہ شام 5بجے کے قریب جب زیادہ تر سامان ایک ٹرک میں رکھا جا چکا تھا تو دولہے کا بھائی کاشف مزید سامان رکھنے کیلئے ٹرک کے اوپر چڑھ گیا اسی دوران معظم اور ابراہیم بھی ایک لوہے کی الماری لیکر آ گئے جس کو وہ تینوں پہلے سے ٹرک میں رکھے ہوئے سامان کے اوپر رکھنے کی کوشش کرنے لگے ۔اسی دوران الماری گلی میں سے گزرتی ہوئی بجلی کی تاروں سے ٹکرا گئی اور اس میں کرنٹ آ گیا جس کی وجہ سے تینوں نوجوان کرنٹ کا جھٹکا لگنے سے بری طرح زخمی ہو گئے ۔ زخمیوں کو فوری طور پر شالیمار ہسپتال میں منتقل کیا گیا لیکن وہ وہاں پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تینوں نوجوان زندگی کی بازی ہار گئے ۔تینوں نوجوانوں کے جاں بحق ہونے پر ورثا کے شالیمار ہسپتال کے سامنے اور بعد ازاں مغلپورہ پل پر شدید احتجاج کیا اور لیسکو کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔مظاہرے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جنہوں نے مظاہرین سے مذاکرات کر کے ان کو پر امن طور پر منتشر کر دیا جبکہ 22سالہ کاشف اور 25سالہ ابراہیم کی لاشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیں ۔متوفی معظم کے ورثا کے آنے میں تاخیر کی وجہ سے اس کی لاش کو مردہ خانہ میں جمع کروا دیا گیا۔متوفین کی لاشیں گھر پہنچنے پر کہرام برپا ہو گیا اور شادی والے گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی ۔متوفین کی مائیں اپنے لخت جگروں کی لاشوں سے لپٹ لپٹ کر رو رہی تھیں ،بعد ازاں متوفین کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

مزید :

صفحہ آخر -