کون کیا کہتا ہے، یہ دیکھو کہ کیا کہتا ہے، خورشید شاہ نے جو کہا، غور کرو!

کون کیا کہتا ہے، یہ دیکھو کہ کیا کہتا ہے، خورشید شاہ نے جو کہا، غور کرو!
کون کیا کہتا ہے، یہ دیکھو کہ کیا کہتا ہے، خورشید شاہ نے جو کہا، غور کرو!

  

تجزیہ :چودھری خادم حسین:

پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں اور اکثر پتے کی باتیں بھی کرتے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تو ان کو تنخواہ دار ہونے کا طعنہ دیا لیکن وہ اپنے طور پر بات کرتے رہتے ہیں اور ان سے موسوم پارٹی پالیسی کی یہ بات بھی ہے کہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اب انہوں نے سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ایک ’’کال‘‘ دے کر ناکام ہوتے ہیں تو پھر نئے احتجاج کی ’’کال‘‘ دے دیتے ہیں۔ یوں وہ خود وزیراعظم محمد نوازشریف کے سب سے بڑے ہمدرد ہیں کہ اس طرح وزیراعظم مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے۔ یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے لیکن یہاں تو بات بھی سیاسی اور پتے کی ہے اور کہنے والا بھی ایک تجربہ کار سیاستدان اور اہم شخصیت ہے۔

جہاں تک تحریک انصاف کے عمران خان کا تعلق ہے تو وہ اب تک وزیراعظم کے استعفے پر بضد ہیں اور ان کے احتساب کا نعرہ لگاتے ہیں تاہم اب تک انہوں نے وہ طریق کار نہیں بتایا جس کے تحت وزیراعظم کا احتساب ہو، جوڈیشل کمیشن پر فریقین نے اتفاق کیا۔ پھر ٹی او آر پر تنازعہ ہو گیا۔ حکومت کے ٹی او آر مسترد کر دیئے گئے اور کمیٹی میں جو ٹی او آر اپوزیشن کی طرف سے پیش کئے گئے وہ حکومت نے منظور نہ کئے یہ ڈیڈ لاک ہوا تو کمیٹی کا بائیکاٹ بھی کر دیا گیا۔ اس وقت تک پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف بھی ایک صفحہ پر تھیں تاہم پھر جب عمران خان استعفے پر بضد رہے اور سولو فلائٹ کا مظاہرہ کرتے چلے گئے توں توں متحدہ اپوزیشن میں بھی دراڑیں پڑیں اور اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان عوامی تحریک اور جماعت اسلامی بھی تحریک انصاف کے ساتھ نہیں اور اسلام آباد بند کرنے کا ایڈونچر بھی تحریک انصاف اور عمران خان خود ہی کر رہے ہیں اور یہ بھی سولو فلائٹ ہے۔ عمران خان بضد ہیں کہ وزیراعظم مستعفی ہوں اور مسلم لیگ (ن) کوئی دوسرا وزیراعظم چن لے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس واضح اکثریت ہے۔ عمران خان کسی حمایت کا بھی تاثر پھیلا رہے ہیں۔وزیراعظم پر استعفے کے دباؤ کی وجہ یہ بھی ہے کہ آئینی طریقے سے عمران خان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے، اس لئے ایجی ٹیشن ہی واحد راستہ رہ گیا ہے۔

عمران خان کے اس طرز عمل کے حوالے سے عام شہریوں اور میڈیا میں بھی بحث اور اختلافات کا آغاز ہو گیا ہے اور عمران خان سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ اسلام آباد بند کرنے کے حوالے سے جو حالات پیدا ہوں گے اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی کہ حکومت اپنی حکمت عملی کے تحت اہم عمارتوں کی حفاظت کے لئے پہلے کی طرح رینجرز اور فوج طلب کرلے گی اور اسلام آباد کی ناکہ بندی روکنے کے لئے انتظامی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ایسے میں اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تصادم ہوا اور جانی و مالی نقصان ہو گیا تو اس کاذمہ دار کون ہوگا؟ کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ حکومت اس مرتبہ اسلام آباد کی ناکہ بندی برداشت نہیں کر سکتی اور وہ کسی بھی حد تک جائے گی۔ اگرچہ پہلا عمل یہی ہوگا کہ کوئی جانی نقصان نہ ہوتاہم احتجاج کرنے والوں کو روکنے سے تصادم کو خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا، ایسے میں عمران خان کے ویژن پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔عام شہری جس کا تعلق تحریک انصاف سے نہیں وہ یہ پوچھ رہا ہے کہ وزیراعظم کے احتساب اور استعفے کا مطالبہ ہی صرف ملک کا مسئلہ ہے۔ یہاں بے روزگاری، بھوک ، افلاس، لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور رشوت ستانی مسائل نہیں ہیں کیا مسلم لیگ (ن) کا وزیراعظم تبدیل ہونے سے یہ سب مسئلے حل ہو جائیں گے یا پھر یہ ضد کا معاملہ ہے کہ محمد نوازشریف وزیراعظم نہ رہیں۔

دوسری طرف خود حکومت اور وزراء کا رویہ بھی اپنی جگہ ہے ، عمران خان چیف جسٹس کے ریمارکس کو بھی کیش کروا رہے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ حکومت نے براہ راست میڈیا سے پھڈا لے لیاہے۔ ڈان کی خبر پر خود ہی کارروائی کی اور رپورٹر کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا اور یہ بھی الزام لگایاکہ وہ فرار ہونے والا تھا جبکہ رپورٹر کے مطابق یہ پروگرام ایک ماہ پہلے سے تھا، اس کے علاوہ تحقیقاتی کمیٹی بھی جے آئی ٹی کی طرز پر بنائی جس کے سربراہ وزیرقانون زاہد حامد ہیں۔ سیرل المیڈا نے بیان دینے کے لئے کمیٹی کی دعوت مسترد کردی ہے، اب کمیٹی خود ہی تحقیقات کرکے فیصلہ کرلے، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے پریس کانفرنس کی تو ان کی بدن بولی (باڈی لینگوئج) صاف بتا رہی تھی کہ وہ دباؤ میں ہیں لیکن انہوں نے انداز اپنے والا ہی اختیار کیا اور پھر اے پی این ایس اور سی پی این ای کو دعوت دے دی کہ وہ ان کا موقف سن لیں۔ یہ دونوں اور کارکنوں کی تنظیمیں پہلے ہی واضح موقف دے چکیں کہ تحقیقات سے انکار نہیں، اختلاف طریق کار سے ہے، مطالبہ یہ ہے کہ پریس کونسل ہے تو یہ جے آئی ٹی کیوںَ اور یہی سوال ملاقات میں بھی زیر غور ہوگا، بہرحال حکومت پریس کونسل والی تجویز مان کر کارکنوں اور میڈیاکی ایجی ٹیشن اور تنقید سے کسی حد تک بچ سکتی ہے کہ دلائل آزاد صحافت کے حق میں ہیں۔

مزید :

تجزیہ -