خالص دودھ کے نام پرکیمیکل ملے دودھ کی کھلے عام فروخت

خالص دودھ کے نام پرکیمیکل ملے دودھ کی کھلے عام فروخت

  

پشاور (حافظ ارشد ڈار) پشاور کے شہری خالص دودھ کے نام پر کیمیکل ملا کھلا دودھ مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں یہ کیمیکل ملا کھلا دودھ گوالے پشاور کے مختلف علاقوں میں بڑی بڑی دکانوں پر کھلے عام فروخت کررہے ہیں یہ دودھ بڑے ڈرمز میں برف کی صورت میں پنجاب اور پشاور کے نواحی علاقوں کے ڈیری فارم سے لایا جاتا ہے جہاں ا س کو دکانوں میں رکھے ہوئے بڑے ڈرموں میں ڈال کر ٹھنڈا رکھا جاتا ہے اور پھر یہی دودھ عوام کو خالص دودھ کے نام پہ 100روپے کلو میں فروخت کیا رہاہے، محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق کیمیکل ملا دودھ استعمال کرنے والے کئی طرح کے پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور آہستہ آہستہ پیٹ کے نظام انہضام کو خراب کردیتاہے، اس کے علاوہ کینسر اور ذیابطیس جیسی خطرناک بیماریوں کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے جب اس بارے ڈسٹرکٹ فوڈ انسکپٹر سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی کوئی لیبارٹری نہیں کہ جس میں دودھ میں کیمیکل کا پتہ لگا یا جاسکے البتہ سٹینڈرٖڈ اور سب سٹینڈرڈ دودھ کا پتہ لگایا جا سکتا ہے اور سب سٹینڈرڈ دودھ بیچنے والے کو متعلقہ مجسٹریٹ کے پاس چالان کیلئے بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ چند ہزار روپے جرمانہ ادا کرکے پھر سے اپنی دکان پر دودھ فروخت کرتے نظر آتے ہیں،اس مسئلے کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے بھی مضر صحت دودھ چیک کرنے اور فروخت بارے پالیسی لانے کے احکامات صادر کئے مگر ابھی تک حکومت اس پر کوئی پالیسی نہ بناسکی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -