عمرہ 2 ہزار ریال مہنگا ہو جائے گا؟

عمرہ 2 ہزار ریال مہنگا ہو جائے گا؟
عمرہ 2 ہزار ریال مہنگا ہو جائے گا؟

  

دنیا بھر سے عمرہ کا کاروبار کرنے والے بالعموم اور عمرہ کرنے کے خواہش مند بالعموم نئے ہجری سال 1438 میں بڑے خوش تھے کہ سعودی حکومت نے دیرینہ مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے عمرہ سیزن جلد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اس کے لئے بڑے پیمانے پر تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ عمرہ ایجنٹوں نے ایئر لا ئنز کی 10 اکتوبر سے ایڈوانس بکنگ حاصل کر لی۔ سعودی عمرہ ایجنٹوں سے ایگریمنٹ کرنے میں بھی جلدی دکھائی گئی، کیونکہ خبریں یہی تھیں کہ یکم محرم سے عمرہ اپروول شروع ہو جائے گی بعض حلقے تحفظات کا اظہار کر رہے تھے ان کا موقف تھا 15 محرم تک حجاج کرام سعودیہ میں مقیم ہوتے ہیں۔ اس لئے سعودیہ حکومت حجاج کرام کی روانگی سے پہلے عمرہ شروع کرنے کا رسک نہیں لے سکتی۔ اس کے باوجود سعودی عمرہ کمپنیاں اور سعودی وزارت زور شور سے اقدامات ا ور اعلانات کر رہی تھیں یقین ہو چلا تھا کہ ہو سکتا ہے عمرہ واقعی یکم محرم سے شروع ہو جائے، حالانکہ دنیا بھر کے کئی ممالک کی طرح پاکستان کے بی یکم محرم تک 40 ہزار کے قریب پاکستانی حجاج کرام سعودی عرب میں مقیم تھے۔ انہی دنوں سعودی ولی عہد و وزیر داخلہ محمد بن نایف کی زیر صدارت ہونے والے غیر معمولی اجلاس میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے جرمانوں سمیت سعودی کابینہ نے ویزہ فیسوں کے نئے شیڈول کی منظوری دے دی۔ سعودی کابینہ کے غیر معمولی فیصلوں پر عمل در آمد کے لئے تاریخ بھی یکم محرم الحرام یعنی نئے اسلامی سال 1438 کی تاریخ دی گئی ویزہ فیس کے نئے جاری ہونے والے شیڈول کے مطابق مملکت کا سفر اختیار کرنے والے تمام افراد کو سنگل انٹری کے لئے دو ہزار سعودی ریال یعنی 533 امریکی ڈالر فیس ادا کرنا ہو گی تاہم پہلی دفعہ عمرہ و حج کے لئے جانے والے مسافر اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

چھ ماہ کے لئے ملٹی پل ویزہ کی فیس تین ہزار سعودی ریال جبکہ ایک سال کے لئے ملٹی پل ویزہ انٹری فیس 5000 سعودی ریال ادا کرنا ہوں گے۔ اسی طرح دو برس کی ملٹی پل ویزہ انٹری کے لئے خوش نصیبوں کو 8 ہزار سعودی ریال ادا کرنا ہوں گے۔ ٹرانزٹ فیس 300 سعودی ریال ادا کرنا ہوں گے۔ بندر گاہوں سے بیرون ملک سفر کرنے والوں کو 50 سعودی ریال ایگزٹ ویزہ فیس کی مد میں ادا کرنا ہوں گے۔ سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی تاریکن وطن دو ماہ کے لئے مملکت سے باہر سفر اور دوبارہ داخلے پر دو سو سعودی ریال ادا کرنا ہوں گے دو ماہ سے زیادہ مقیم افراد مملکت سے باہر رہیں گے، انہیں سو ریال جو مزید ری انٹری اور ایگزٹ ادا کرنا ہوں گے تین ماہ کی مدت کے دوران متعدد مرتبہ مملکت سے باہر اور دوبارہ واپسی کے خواہش مند مقیم حضرات کو 500 سعودی ریال فیس ادا کرنا ہو گی۔

سعودی کابینہ کے دھماکہ خیز فیصلوں کے مثبت کی بجائے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں ان طاقتوں کو بات کرنے کا موقع مل رہا ہے جن کا موقف ہے حرمین شریفین سب کے ہیں، حج و عمرہ کی کوئی فیس نہیں ہونا چاہئے۔ حرمین شریفین پر کنٹرول بین الاقوامی اسلامک بورڈ کا ہونا چاہئے۔ ایران اور دیگر ممالک کے اس مطالبے کو سعودی کابینہ کے نئے فیصلوں سے تقویت مل رہی ہے۔ زمینی حقائق بھی یہی کہتے ہیں کہ حرمین شریفین میں داخلہ فری ہونا چاہئے۔ حرمین شریفین کی توسیع کے لئے خادم حرمین شریفین کے اقدامات قابل ستائش ہیں حج کے معاملات بھی بہتر سے بہتر کئے جا رہے ہیں، مگر عمرہ سمیت دیگر ویزوں کے لئے نئی فیسوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اضطراب کا شکار کیا ہے۔ سعودی عمرہ کمپنیوں نے پہلے ہی اندھیر نگری مچا رکھی ہے ویزہ سٹیکر پر فری ویزہ لکھا ہوتا ہے، مگر سعودی عمرہ کمپنیاں 300 سے 500 سعودی ریال اپروول کی مد میں وصول کر رہی ہیں۔

سعودی حکومت کے نئے فیصلے پر پوری دنیا کے اسلامی ممالک میں سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ انڈونیشیا کے ہزارروں مرد و خواتین نے سعودی قونصلیٹ کے سامنے مظاہرہ کیا ہے اور عمرہ کرنے والوں پر 2 ہزار ریال لازمی کی شرط کو مسترد کر دیا ہے قارئین کے علم میں یہ بات بھی لانا چاہوں گا کہ پاکستان سے عمرہ کے لئے رجسٹرڈ ہونے والوں کو سعودی عمرہ کمپنیوں کے ساتھ ایگریمنٹ کرنے کے لئے دو لاکھ سعودی ریال ادا کرنا پڑتے ہیں۔ سعودی عمرہ کمپنیوں سے ایگریمنٹ کے لئے پاکستانی عمرہ کمپنیاں کا ایاٹا ہونا ضروری ہے ایاٹا کمپنیاں پہلے ہی 80 لاکھ کی گارنٹی دے رہی ہیں پاکستانی وزارت مذہبی امور جو عمرہ کو حج کی طرح رجسٹرڈ کرنا چاہتی ہے اس کے مشیروں نے بھی وزارت مذہبی امور میں رجسٹریشن کے لئے 10 لاکھ روپے کی شرط کی تجویز پیش کی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہر بیورو کریٹ اپنے آپ کو عقل کُل تصور کرتا ہے اور ان کے مشیر اپنے آپ کو وزارت کے کرتا دھرتا تصور کرتے ہیں۔ ہر سال نیا قانون مسلط کر کے اپنی چودہراہٹ کا لوہا منوانا فرض سمجھتے ہیں حالانکہ عمرہ و حج کے لئے قانون اسلامی مملکت میں نہ ہونا اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے حج تو آج کا موضوع نہیں ہے عمرہ پر بات کرنی ہے۔ عمرہ کے لئے قوانین مرتب کرتے ہوئے عمرہ کے کاروبار سے وابستہ افراد سے مشاورت کی جانی چاہئے، مگر افسوس ایسا نہیں ہو رہا۔ سعودیہ سے بھائی بندی، لازوال تعلق اپنی جگہ مگر اپنے ملک کے وقار اور عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ اپنے عوام کے مفادات کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

عمرہ ویزہ پر اگر دو ہزار ریال پہلی دفعہ یا دوسری دفعہ لگائے گئے تو عمرہ کاروبار 50 فیصد متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، یعنی آدھا کاروبار رہ جائے گا، اس کے ساتھ ملٹی پل ویزہ اور دیگر سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں کو اقامہ کی رینول کے لئے فیسوں میں بے تحاشا اضافہ سے لاکھوں افراد کے بے روز گار ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ایک فرد جو مزدوری کرتا ہے سالانہ 12 ہزار ریال کماتا ہے، اس کو رینول کے لئے 5 ہزار ریال دینا پڑھیں گے چھٹی کے لئے 500 ریال سالانہ دینا پڑیں گے 6 لاکھ روپے کا ویزہ خرید کر وہ سعودیہ پہنچا ہوتا ہے دو برس میں یہ اخراجات اگر وہ خود کرتا ہے تو پلے سے مزید دے کر وہ وطن واپس آئے گا، ایک درجن سے زائد ممالک نے سعودیہ کی طرف سے نئی فیسوں کو مسترد کیا ہے پاکستانی حکومت کو بھی دو ٹوک انداز میں بات کرکے سفارتی سطح پر بھی آواز بلند کرنا چاہئے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف مداخلت کرتے ہوئے فوری طور پر دو ہزار ریال کی شرط ختم کرائیں ورنہ پاکستان میں لاکھوں خاندانوں کے بے روز گار ہونے کا خدشہ ہے عمرہ اور حج مقدس عبادات ہیں ان کے لئے سہولتیں مہیا کرنا اور اسے آسان بنانا سعودی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اللہ کے مہمانوں پر ٹیکس لگانا کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لئے سعودی حکومت کو دیگر ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔ حرمین شریفین میں آنے والوں کے لئے آسانیاں پہنچانا سعودی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مزید :

کالم -