سیرل المیڈا

سیرل المیڈا
سیرل المیڈا

  

انگریزی روزنامہ’’ ڈان‘‘ میں شائع ہونے والی اس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کی ایک خبر نے اس قدر تہلکہ نہیں مچایا تھا جس قدر اس خبر پر ایکشن نے مچادیا ہے، کیا حکومت کیا فوج، ہر کوئی سیرل المیڈا کے پیچھے ہے اور جب سے حکومت نے سیرل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا ہے ، دنیا بھر کے اخبارات اور ہیومن رائٹس کی تنظیمیں بھی اس کی پشت پر آکھڑی ہوئی ہیں ۔ اب حکومت نے ان کا نام ای سی ایل سے نکال دیا ہے۔

اس کے باوجود کہ روزنامہ ڈان نے دو مرتبہ حکومتی تردید شائع کی ہے ، تسلسل کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ سیرل المیڈا اور ڈان اخبار حکومتی تردید کے باوجود اس سٹوری پر قائم ہیں جس کا لب لباب یہ تھا سیکرٹری خارجہ نے کہا ہے کہ حافظ سعید احمد اور مولانا مسعود اظہر کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان عالمی ڈپلومیسی میں تنہائی کا شکار ہو رہا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حوالے سے سٹوری میں لکھا گیا ہے کہ حکومت جب بھی ان پر ہاتھ ڈالتی ہے ، ایجنسیاں آڑے آجاتی ہیں۔ ڈان اخبار کا کہنا ہے کہ وہ صحافت کے زریں اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی خبر پر قائم ہے کیونکہ انہوں نے خبر دینے سے قبل اس کو کراس چیک کیا تھاجبکہ حکومت نے قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت انکوائری شروع کی ہے ایک ایسے وقت میں جب پاک بھارت کشیدگی انتہا پر ہے ایسی خبر کیوں شائع کی گئی؟ اس میں شک نہیں کہ سیرل نے وہی کچھ لکھا ہے جو دراصل بھارت کا موقف رہا ہے کہ پاکستانی ایجنسیاں حافظ سعید اور مولانا اظہر کو تحفظ دیتی ہیں جبکہ وہ دونوں بھارت کو مطلوب ہیں۔

دوسری جانب جیو ٹی وی کے ایک اینکر نے سینئر فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہیں ڈان اخبار یا اس کے سٹاف سے مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ اس کی تلاش میں ہیں جس نے ایسی خبر اخبار کو دی۔اس کا مطلب ہے کہ حکومت سیرل کے خلاف اسی لئے تحقیقات کرنا چاہتی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اسے یہ خبر کس نے دی، مگر جیو کے اینکر سمیت عالمی میڈیا کہہ رہا ہے کہ سیرل کو کچھ نہ کہیں اور اس سے پوچھے بغیر اس شخص کو تلاش کریں جس نے یہ خبر لیک کی تھی، اگر کی تھی کیونکہ حکومت تو ایسی کسی بات سے انکاری ہے۔اگر سیرل سے تحقیق نہیں کی جاتی تو اس کے بغیر تو یہ بھوسے سے سوئی ڈھونڈنے کے مترادف ہوگا۔

اسی طرح ڈان اخبار کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ یہ سٹوری دے کر اس نے ایک با مقصد، سچی اور بے خوف رپورٹنگ کی ہے لیکن کوئی ان صاحبان عقل و دانش سے پوچھے کہ کیا بامقصد، درست اور بے خوف صحافت قومی سلامتی سے بڑھ کر ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو تحقیق ہونے دی جائے کیونکہ حکومت تو واضح تردید کر چکی ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ، چنانچہ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ رپورٹ کس قدر صحیح اور درست ہے۔ ایسا ہونا اس لئے بھی ضروری ہے کہ بھارت پہلے ہی ایسا پراپیگنڈہ کر رہا ہے کہ حافظ سعید اور مولانا اظہر ایجنسیوں کی شہہ پر دہشت گردی کر رہے ہیں۔ڈان اخبار پر تسلسل کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اس قومی سلامتی کی تعریف کی جائے جس کی بنا پر اس خبر کو چیلنج کیا جا رہا ہے ، کوئی ان سے پوچھے کہ وہ اس سچ کی تعریف کریں جس کی بنا پر رپورٹ کی وکالت کی جا رہی ہے کیونکہ اگر قومی سلامتی ایک مبہم اصطلاح ہے تو سچ اس سے زیادہ مبہم اصطلاح ہے کیونکہ ہر آدمی کے سچ کا معیار اپنا ہوتا ہے جو ضروری نہیں کہ دوسر ے کا بھی وہی معیار ہو۔

تینوں جیہڑی پُڑی نروئی

مینوں چاڑ دوے او تاپ

کیہڑا پُن تے کیہڑا پاپ!

بلوچ علیحدگی پسندوں کے بارے میں جو سچ پاکستان کا ہے وہ بھارت کا نہیں ہے اور کشمیر فریڈم فائٹرز کے حوالے سے جو سچ انڈیا کا ہے وہ پاکستان کا نہیں ہے لیکن اگر کوئی اخبار ایسا سمجھتا ہے تو اسے نئی دہلی سے ڈکلیریشن اپلائی کرنا چاہئے۔اگر قومی سلامتی کے نام پر امریکہ ایئرپورٹ پر پاکستانیوں کو کپڑے اتار کر چیکنگ پر اصرار کر سکتا ہے تو پاکستان کسی کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر رکھ کسی معاملے کی تحقیق کیوں نہیں کر سکتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ڈان اخبار نے جس طرح خبر کو ہینڈل کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ قبل اس کے اس کو ڈان میں شائع کیا گیا یہ خبر ہندوستان ٹائمز کے ڈیسک پر دوبارہ سے لکھی گئی تھی کیونکہ اس خبر سے غیر جانبداریت اور پیشہ وارانہ اپروچ بالکل نہیں جھلکتی۔پھر یہ کیا مذاق ہے کہ ڈان اخبار حکومت کی تردید بھی شائع کر رہا ہے اور اس پر بھی بضد ہے کہ اس کی خبر درست ہے ، یہ کیسے ممکن ہے کہ بیک وقت خبر اور اس کی تردید دونوں درست ہوں۔ خاص طور پر جب متنازعہ خبر میں کہیں بھی حکومت یا فوج کا موقف نہیں لیا گیا تھا ۔ اس کے باوجود اخبار کا اصرار ہے کہ اس کی خبر صحافتی اصولوں کے عین مطابق ہے۔اس سے قبل ایسا ہی ایک الزام حامد میر کے بھائی عامر میر نے پریس کانفرنس کے ذریعے لگایا تھا جو بعد میں کہیں ثابت نہیں ہوا، ڈر یہ ہے کہ جو حال ان دنوں جیو کا ہو چکا ہے وہی کہیں ڈان کانہ ہو جائے!

ڈان اخبار کا یہ اصرار بھی ہے کہ دنیا بھر کے اخبارات بالخصوص امریکہ میں بڑے بڑے سکینڈل اسی طرح طشت از بام ہوئے ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے ڈان اخبار بھول جاتاہے کہ امریکہ کے ہمسائے میں بھارت جیسا بد خصلت ہمسایہ نہیں ہے۔ ہم ڈان اخبار کے منتظمین سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ نہیں سمجھتے کہ ان کی اس خبر کی اشاعت کے بعد پاکستان کی دنیا بھر میں تنہائی میں اضافہ ہوا ہے؟

مزید :

کالم -