حکومت کی ’’منفی سبسڈی‘‘ کا شکار کسان مجبور ہو کر سڑکوں پر آچکا ہے: شاہ محمود قریشی

حکومت کی ’’منفی سبسڈی‘‘ کا شکار کسان مجبور ہو کر سڑکوں پر آچکا ہے: شاہ ...

  

ملتان( سپیشل رپورٹر) پاکستان تحر یک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کا کسان حکومت کی منفی سبسڈی کا شکار ہے ،ملکی کسانوں نے ہمیشہ صبر شکر سے کا م لیا مگر تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث مجبور ہوکر سڑکوں پر آچکا ہے ،موجودہ دور حکومت میں ملک کیلئے اناج اور غذائی اجناس پیدا کرنے والے کسانوں پر اوکاڑہ اور لاہور میں ڈنڈے برسائے گئے کیا جمہوریت میں ایساہوتا ہے وہ گزشتہ شام(بقیہ نمبر41صفحہ12پر )

نواں شہر چوک ملتان میں پاکستان کسان اتحاد کی احتجاجی ریلی میں شریک کسانوں سے خطاب کررہے تھے جس میں کسان اتحاد کے عہدیداروں کے ہمراہ کسانوں کی بڑی تعداد شریک تھی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج اسلا م آباد میں ایک حکومتی اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں پھٹی کے بعد گنے کے کاشتکاروں کو ذبح کرنے کا پروگرام بنایا جارہا اور گنے کی سپورٹ پرائس ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔انھوں نے کہا کہ اگر ایساکیا گیا تو سندھ ،پنجاب اور جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کے ساتھ ملکر اسے نامنظور کرتے ہوئے سڑکوں پر آکر احتجاج کریں گے ۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فی الفور گنے کی سپور ٹ پرائس اڑھائی سور وپے فی من مقررکی جائے ۔انھوں نے کہا کہ پورا جنوبی پنجاب پاکستان کی 85فیصد پھٹی پیدا کرتا ہے جس سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کا پہیہ چلتا ہے مگر صنعتکاروں کو مفاد پہنچانے کیلئے پھٹی کا نرخ 8سو روپے فی من تک گر چکا ہے جبکہ دوسری جانب ہمارے حکمران مودی سے یاری نبھانے کیلئے بھارت سے 50لاکھ گانٹھ روئی درآمد کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپنے حق کی آواز اٹھانے والے نہتے کسانوں پر اوکاڑہ اور لاہور میں لاٹھیا ں برسائی گئیں کیا اسی کا نام جمہوریت ہے انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے کسان پیکچ کے دوران کسانوں سے بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے بجلی ٹیرف میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کم قیمتوں کے سپیشل ٹیرف کا وعدہ کیا لیکن ابھی تک وہی پرانی چھری چلائی جارہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک بھارت کی سرکار اپنے کسان کو سپورٹ کرنے کیلئے ہزاروں ارب کی سبسڈی دیتی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کا کسان منفی سبسڈی کا شکار ہے ۔انھوں نے کہا کہ کسان بھارت کے ساتھ زرعی اجناس کی تجارت ،پھٹی کے 28سوروپے فی من نرخوں اور واپڈا کے ڈبل ریٹ بلوں کو مسترد کرتے ہیں اس موقع پر مخدوم شاہ محمود قریشی نے کسان اتحاد کی ریلی میں شریک کسانوں کو قائد تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں جلسے کی دعوت دیتے ہوئے گو نواز گو کے نعرے بھی لگوائے ۔قبل ازیں پاکستان کسان اتحاد کی احتجا جی ریلی کا آغاز این ایل سی بائی پاس سے ہوا جس میں ٹریکڑ ٹرالیوں پر کسانوں کی بڑی تعداد خانیوال روڈ پر میپکو ہیڈ کوارٹر پہنچی اور میپکو ہیڈ کوآرٹر کے سامنے بجلی بلوں کے ٹیر ف اور اووربلنگ پر احتجاج کیا بعدازاں مذکورہ ریلی چونگی نمبر 9چوک کچہری سے ہوتی ہوئی نواں شہر چوک پہنچی جہاں پر حکومت کیخلاف اور مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی گئی احتجاجی ریلی سے پاکستان کسان اتحاد کے رہنما خالد محمود کھوکھر ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -