بوریوالا بار کے مقتول جنرل سیکرٹری کا بھائی دن دہاڑے قتل

بوریوالا بار کے مقتول جنرل سیکرٹری کا بھائی دن دہاڑے قتل

  

وہاڑی،بوریوالا،روجھان، رحیم یار خان،کوٹ ادو،چوک سرور شہید،دائرہ دین پناہ،چشتیاں (نمائندگا ن) مختلف واقعات میں8افراد قتل کردئیے گئے۔ بوریوالا سے تحصیل رپورٹر اور وہاڑی سے بیورو رپورٹ کے مطابقآتشیں اسلحہ سے مسلح موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کر کے بوریو الا بار کے مقتول جنرل سیکرٹری سردار ندیم ڈوگر ایڈوکیٹ(بقیہ نمبر9صفحہ12پر )

کے بھائی محکمہ ہائی ویز کے روڈ انسپکٹر محمد صابر ڈوگر کو قتل کردیا اور فرار ہوگئے محمد صابر ڈوگر صبح سات بجے اپنی اہلیہ سکول ٹیچر کو اس کے سکول چونگی نمبر5چھوڑکر واپس اپنی موٹر سائیکل پر سیٹلائٹ ٹاؤن گرلز ہائی سکول کے قریب سے گزر کر گھر جارہے تھے کہ ان کے تعاقب میں آنے والے نامعلوم ملزمان نے انتہائی قریب سے ان کی کنپٹی پر پسٹل سے فائر کیا جوآرپار گزر گیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی بورے والا مہر ذوالفقار علی سندرانہ اور ایس ایچ او سٹی مہر پرویز اختر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور نعش کو پوسٹمارٹم کے لئے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بورے والاروانہ کردیا مقتول محمد صابر ڈوگر کے بھائی سردار ندیم ڈوگر ایڈوکیٹ کو 15دسمبر 2008کی شب ان کے بعض مخالفین نے شہر کے مرکزی قبرستان کے گیٹ پر فائرنگ کر کے شدید زخمی کردیاتھا جو آٹھ روز بعد 23دسمبر کو شیخ زید ہسپتال لاہور میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران اپریشن جاں بحق ہوگئے تھے ان کے قتل کا مقدمہ ان کے کزن مسلم لیگ ن کے ممبرپنجاب اسمبلی ڈاکٹر نذیرمٹھو ڈوگر گرفتار ہوکر جیل پہنچ گئے تھے ایک سال بعد 31مئی کی شب ڈاکٹر نذیرمٹھو ڈوگر قتل کردئیے گئے اور ان کے مقدمہ قتل میں آج قتل ہونے والے صابر ڈوگر ان کے بہنوئی عبدالستار ڈوگر اور بھتیجے عمران سرور ڈوگر کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیاگیا تھا اور دس ماہ بعد صابر ڈوگرضمانت پررہاہونے کے بعد دوران تفتیش بے گناہ ہوگئے تھے بعدازاں سیشن کورٹ بورے والا نے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے عبدالستار ڈوگر اور عمران ڈوگرکو سزائے موت کا حکم سنایا تھا سیشن کورٹ کے اس فیصلے کو تین ماہ قبل ہائی کورٹ ملتان نے معطل کر کے دونوں کورہاکردیا تھا مقتول محمد صابر ڈوگر کی عمر58سال تھی انہوں نے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور ایک بیٹا سوگوار چھوڑے ہیں ان کا بیٹاعلی ڈوگر جرمنی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہا ہے دریں اثنا پولیس تھانہ سٹی نے مقتول کے بھائی محمد سرور ڈوگر کی درخواست پر ڈاکٹر نذیراحمد مٹھو ڈوگر مرحوم کے چھوٹے بھائی خلیل احمد پنوں ڈوگر ان کے بیٹے دلاور خلیل ڈوگر ان کے ملازم نیازاحمد جوئیہ اور ایک نامعلوم ملزم کے خلاف زیر دفعہ 302/34ت پ مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔رحیم یار خان سے بیورو نیوز کے مطابق گھر سے فرارہونے والی دوشیزہ کو گھر واپس آنے پر رشتہ د ار وں نے مشروب میں زہر پلاکر موت کے گھاٹ اتاردیا ۔چک9 اے کی رہائشی 16سالہ سمیرا بی بی جس نے چک11اے کے رہائشی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوان مکھنی سے تعلقات استوار کررکھے تھے 23مئی کے روز سمیرا بی بی گھر سے غائب ہوگئی تاہم 24تاریخ کو اپنے گھر واپس آگئی اسی دور ان قریبی رشتہ داروں نے 16سالہ سمیرا کو مشروب میں زہر پلادیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی اسی دوران ورثاء نے سمیرا بی بی کو دفنانے کی کوشش کی تاہم معلوم پڑنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر سمیرا کی نعش قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کی گزشتہ روز ملنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سمیرا کی ہلاکت زہر دینے سے ہونا ثابت ہوگئی جس پر پولیس نے مقتولہ کے قریبی رشتہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی۔کوٹ ادو سے تحصیل رپورٹر اور چوک سرور شہید سے سپیشل رپورٹر کے مطابق شوہر نے ساتھیوں سے ملکر بیوی قتل کر دی۔تھانہ چوک سرورشہید کے علاقہ چک نمبر582ٹی ڈی اے مجاہد حسین کے بیٹے محمد عامر کی شادی سمراء برادری کے چک نمبر428ٹی ڈی اے غلام شبیر جٹ سمراء کی بیٹی منور بی بی 5ماہ قبل ہوئی جبکہ وٹہ میں غلام شبیر کے بیٹے سعید احمد کی شادی شاہرو ہوئی گزشتہ روز گھر یلو جھگڑے پر جاوید اور شاہرو غلام شبیر کے گھر آئے اور اپنی بیٹی نادیہ لیکر گھر چلے گئے اور اپنی بیٹی منور بی بی کو بھی لے جانے کا کہاشام کے وقت غلام شبیر اپنی بیٹی منور بی بی کو لینے گیا تو وہاں پر موجود اس کے شوہر عامر نے اپنے دیگر ساتھیوں پرویز اور جاوید کے ہمراہ اس پر وحشیانہ تشدد کیا جس سے منور بی بی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی پولیس سرورشہید نے نعش کوقبضہ میں لیکر مقتولہ کے والد غلام شبیر سمراء کی مدعیت میں مقدمہ نمبر375/16زیر دفعہ 34-302درج کرکے قاتلوں کی تلاش شروع کر دی ہے ۔دائرہ دین پناہ سے نمائندہ خصوصی اور نامہ نگار کے مطابق نواحی چاہ ہزارہ کے رہائشی کریم بخش اور غلام مرتضٰی ولد ولی محمد قوم مراث جن کا آپس میں زمین کا تنازع چلا آ رہا تھا گزشتہ شب کریم بخش گھر میں سویا ہوا تھا کہ اچانک گھر سے باہر گیا صبح گھر والے بیدار ہوئے تو کریم بخش موجودنہ تھا جس کی تلاش شروع کی تو قریبی کھیتوں میں نعش ملی متوفی کے بیٹے محمد عرفان کی مدعیت میں پولیس نے متوفی کے بھائی غلام مرتضٰی اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف قتل کا مقدمی درج کر کے ملزم کی تلاش شروع کر دی ۔چشتیاں سے نمائندہ پاکستان کے مطابق 1موضع حسام کی بستی آراقریشیاں میں رشتہ داری کے تنازعہ پر تین ملزمان نے نوجوان کو قتل کر کے اس کی نعش کھیتوں میں پھینک دی ۔شہر فرید پولیس کے مطابق موضع حسام کی بستی آراقریشیاں کے رہائشی محنت کش حاجی سعید احمد کا نوجوان بیٹا محمد کلیم عرف حاجی اپنے گھر میں موجود تھا کہ ملزمان دانش اور کلیم وغیرہ اسے اپنے ساتھ لے گئے اور رشتہ داری کے تنازعہ پر اسے تیز دھار آلے کے پے در پے وار کر کے قتل کر دیا ۔مقتول کی نعش کو کھیتوں میں پھینک دیا ۔شہر فرید پولیس نے مقتول کے والدکی رپورٹ پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مقتول کی نعش کو قبضہ میں لے کر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چشتیاں پہنچا دیا ہے ۔روجھان سے نمائندہ پاکستان کے مطابق نواحی علاقہ کچہ اراضی میں عنصر نامی نوجوان گھر جارہا تھا کہ اسلحہ سے لیس جرائم پیشہ گروپ نے اسے راستے میں گھیر لیا اور موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی جس پر اس نے شور مچانا شروع کردیا اسکا شور سن کر قریبی کماد میں کام کرنے والے مزدور آگئے مزدوروں کے دیکھتے ہی اسلحہ سے لیس جرئم پیشہ گروپ نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس پر تین مزدور حبیب،جمیل اور غفور عرف شربت جاں بحق جبکہ جرائم پیشہ گروپ موقع سے فرر ہونے میں کامیاب ہوگئے بنگلہ اچھا پولیس نے کارروائی شروع کردی ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -