”یہ حافظ جی نہیں“15 اکتوبرنابینائوں کا دن

”یہ حافظ جی نہیں“15 اکتوبرنابینائوں کا دن
”یہ حافظ جی نہیں“15 اکتوبرنابینائوں کا دن

  

تحریر: رانا اعجاز حسین ( ملتان)

دنیا بھر کے نابینا افراد کو ماہ اکتوبر کا شدت سے انتظا ر رہتا ہے کیونکہ ماہ اکتوبر کے وسط میں نابینا افراد کا عالمی دن ” یوم سفید چھڑی “ منایا جاتا ہے ، اور اس دن منعقد ہونے والے پروگرام نابینا افراد کے لئے انتہائی پر مسرت ہوتے ہیں ۔اقوام متحدہ کے زیر اہتمام سفید چھڑی کے تحفظ کا عالمی دن ”انٹرنیشنل وائٹ کین ڈے“ ہر سال 15 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔1930 میں فرانس کے شہر پیرس میں عام لاٹھیوں کو سفید رنگ دے کر اس دن کو متعارف کرانے کی روایت ڈالی گئی تھی اور15 اکتوبر 1965 سے عالمی علامتی دن کے طور پر اسے اقوام متحدہ کے چارٹر میں باضابطہ طور پر شامل کرلیا گیا۔ پاکستان میں یہ دن پہلی بار15 اکتوبر 1972 کو منایا گیا۔اس وقت دنیا بھر میں 45ملین افراد آنکھوں کی روشنی سے محروم ہیں جبکہ سب سے زیادہ نابینا افراد بھارت میں ہیں جن کی تعداد 2کروڑ سے زائد ہے۔ پاکستان میں تقریباً 20 لاکھ افراد بینائی سے مکمل طور پر محروم ہیں یہاں اندھے پن کی شرح 1.08 ہے، جبکہ پاکستان میں جزوی طور پر نابینا افراد کی تعداد تقریباً60 لاکھ کے قریب ہے، پاکستان کی 17 فیصد آبادی ذیابیطس کی شکار ہے جو اندھے پن کی ایک اہم وجہ ہے۔

سفید چھڑی کا عالمی دن منانے کا مقصد نابینا افراد کو درپیش مسائل اور مشکلات کے متعلق معاشرے کو آگاہی فراہم کرنا اور دنیا کو یہ باورکرانا ہے کہ معذور افراد بھی تھوڑی سی توجہ کے ساتھ ایک ذمہ دار اور مفید شہری ثابت ہوسکتے ہیں۔سفید چھڑی تو نابینا افراد کو چلنے پھرنے میں تحفظ فراہم کرتی ہے تاہم سفر زیست کے لیے تعلیم، روزگار، صحت اور آبادی میں اضافہ توجہ طلب مسائل ہیں۔یوم سفید چھڑی کے حوالے سے چیئرمین بلائینڈ ایسوسی ایشن پاکستان قاضی نوید ممتاز کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کے علاوہ نجی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ نابینا لوگوں کو روزگار فراہم کرنے میں معاونت کریں۔ 15اکتوبر کا یہ خاصہ ہے کہ 1999ءتک یہ دن بھر پورانداز سے منا یا جاتا رہا ، اورسرکاری اور نجی سطح پر منانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے لیکن پھر دنیا کے سرمایہ دار اداروں نے اس دن پر شب خون مارا اور اس دن کو گلوبل ہینڈ واشنگ ڈے یعنی ہاتھ دھونے کا دن مقرر کروادیا جس کا مقصد شعور کی بیداری کے نام پر اپنی مصنوعات کی تشہیر اور خود کو سماجی حیثیت میں سامنے لانا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یوم سفید چھڑی پر کمرشل پر ست میڈیا گلوبل ہینڈ واشنگ ڈے کے اشتہارات کی چکاچوند میں ایسا غرق ہوا کہ نابینا لوگوں کو اپنے دن پر صرف ڈھائی منٹ کوریج کی خیرات ملتی ہے، کیونکہ نابینا اداروں کے پاس تشہیر کیلئے پیسہ نہیں اس لیے ان کے مسائل آگے پہنچانے والا کوئی نہیں حکومتی سطح پر بھی یہ دن نظر انداز ہوتا رہا ہے۔ جبکہ معاشرے کے پڑھے لکھے افراد بھی نابینا افراد کو حافظ جی کہہ کر بلاتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ کھلی تضحیک ہے جو ان کے ساتھ روا رکھی جاتی ہے۔ ان حالات میں میڈیا کواپنی قومی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے نہ صرف نابینا لوگوں کے مسائل اجاگر کرنا چاہئے بلکہ نابینا افراد کی کارکردگی بھی سامنے لانا چاہئے۔ اس کے علاوہ سرمایہ دار کمپنیوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ انہوں نے ایک عظیم مقصد کیلئے منانے والے دن کے ساتھ جو زیادتی کی ہے وہ اس کا ازالہ کریں تاکہ معاشرے کا یہ طبقہ جو بظاہر فیوز بلب کی مانند دکھائی دیتا ہے ، اقوام عالم کی تھوڑی توجہ اور حوصلہ افزائی انہیں ایسے روشن چراغ میں تبدیل کرسکتی ہے جو معاشرے کے دیگر افراد میں بصیرت کا نور پھیلانے کا باعث بنے اور نابینا افرا کی تاریخ ایسے لوگوں سے خالی نہیں۔

حماس کا بانی کوئی سرمایہ دار یا جاگیر دار نہیں بلکہ ایک نابینا مجاہد تھا جو آج کے عرب حکمرانوں سے بہتر اور برتر تھا ۔ پاکستان بھر کی بلائینڈ ایسوسی ایشنز اس دن کو پرجوش انداز سے منانے کے لئے مختلف شہروں میں رنگا رنگ پروگرام منعقد کررہی ہیں جن کا مقصد نابینا افراد کو تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تمام مکاتب فکر تک نابینا افراد کے مسائل سے آگاہ کرنا اور نابینا افراد میں موجود قابلیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ نابینا افراد کے مسائل حل ہوسکیں ، ان کو آسانیاں میسر آئیں اور وہ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار با حسن و خوبی ادا کرسکیں۔

مزید :

بلاگ -