سب سے بڑا خطرہ سعودی عرب کے سرپر آن پہنچا! انتہائی تشویشناک خبر آگئی

سب سے بڑا خطرہ سعودی عرب کے سرپر آن پہنچا! انتہائی تشویشناک خبر آگئی
سب سے بڑا خطرہ سعودی عرب کے سرپر آن پہنچا! انتہائی تشویشناک خبر آگئی

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) تیل برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کی خوشحالی کبھی ایک مثال سمجھی جاتی تھی لیکن جب 2014ءمیں اس ملک نے تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باوجود پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کیا تو اس کے نتیجے میں سعودی معیشت پر وہ وقت بھی آگیا کہ جس کا کبھی کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ اب صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ جریدے فوربز کی ایک رپورٹ میں یہ تک کہہ دیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے اچھے دن گزرچکے ہیں اور اب اس کا خزانہ اتنی تیزی سے خالی ہورہا ہے کہ دیوالیہ ہونے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔

یہ تہلکہ خیز دعویٰ آئل مارکیٹ کے بین الاقوامی شہرت یافتہ تجزیہ کار و مصنف ٹم ڈائس نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب 2014ءمیں سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ کیا اور اس اضافے کی وجہ سے قیمتوں میں ہونے والی کمی کو نظر انداز کرتے ہوئے پیداوار کی سطح برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ،تو شاید اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس کی اپنی معیشت کے لئے اس فیصلے کا کس قدر خطرناک نتیجہ برآمد ہوگا۔ ٹم کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یہ کام امریکی شیل گیس کی صنعت کا دیوالیہ نکالنے کے لئے کیا لیکن اس ہتھیار سے سعودی عرب نے خود کو ہی زخمی کرلیا اور اس کی اپنی معیشت بحران میں گھر گئی ہے۔

’اب کسی بھی غیر ملکی سے صرف وہی سعودی لڑکی شادی کرسکتی ہے جو۔۔۔‘ سعودی عرب نے سخت ترین پابندی لگادی، ایسا حکم جاری کہ پوری دنیا ہکابکا رہ گئی

سعودی عرب کو تاریخ میں پہلی مرتبہ 98 ارب ڈالر (تقریباً 98 کھرب پاکستانی روپے) کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس سال بھی 87 ارب ڈالر (تقریباً 87 کھرب پاکستانی روپے) خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ سعودی عرب کو پہلی بار قرضے لینے پڑے ہیں اور اپنے سب سے قیمتی اثاثے سرکاری آئل کمپنی آرامکو کے حصص فروخت کے لئے پیش کرنا پڑے ہیں۔ سعودی حکومت کی جانب سے عوام کو غیر معمولی سبسڈی دی گئی، جس میں اربوں ڈلر خرچ ہوتے رہے ہیں، لیکن اب یہ سلسلہ بھی جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔

آپ کو معروف ترین ریسلر انڈرٹیکر تو یاد ہوگا، اب یہ کس حال میں ہے؟ دیکھ کر آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

عالمی پابندیوں سے آزاد ہونے کے بعد ایران بھی اپنی پیداوار بڑھارہا ہے، تو عراق جیسے ملک نے بھی تیل کی پیداوارمیں اضافے کے لئے بین الاقوامی کمپنیوں کی مدد طلب کرلی ہے ۔ عراقی وزارت تیل کا کہنا ہے کہ پیداوار کو 60 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اب سعودی عرب نے پیداوار میں کمی کی بھی تو اس کا فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس کمی کو ایران، عراق، روس اور امریکہ کی شیل انڈسٹری پورا کرے گی، جبکہ انگولا، وینز ویلا، نائیجیریا جیسے ملک بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب سعودی عرب کے لئے یہ مسئلہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ وہ مارکیٹ میں اپنا حصہ قائم رکھنے کے لئے پیداوار میں کمی نہیں کر پا رہا۔

فیس بک پر دوستوں کی شادیوں کی خبریں دیکھ دیکھ کر دلبرداشتہ نوجوان لڑکی نے ایسی چیز سے شادی رچالی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

دفاعی بجٹ پر خرچ ہونے والے کھربوں ڈالر کے باعث صورتحال مزید مشکل ہوگئی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق مملکت اپنے بجٹ کا 25 فیصد دفاع پر خرچ کررہی ہے ، جسے خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کم نہیں کیا جاسکتا۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو اس بحران سے نکلنے کے لئے نہ صرف عوام کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنا ہوگی بلکہ فیملی پلاننگ اور پاپولیشن کنٹرول کے ساتھ معیشت کے تنوع کے لئے جاری کوششوں کو بھی تیز کرنا ہوگا جبکہ دفاعی بجٹ میں بھی کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعوی عرب کو اب اس تلخ حقیقت کے لئے تیار ہونا ہوگا کہ اگلے کچھ سالوں کے لئے تیل کی قیمت بڑھنے والی نہیں، لہٰذا اسے بدلے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔

مزید :

عرب دنیا -