عدلیہ کے خلاف وکلاءتنظیمیں متحد ہوگئیں ،نمائندہ وکلاءکنونشن میں ججوں پر سخت تنقید ،تند و تیز قراردادیں منظور

عدلیہ کے خلاف وکلاءتنظیمیں متحد ہوگئیں ،نمائندہ وکلاءکنونشن میں ججوں پر سخت ...
عدلیہ کے خلاف وکلاءتنظیمیں متحد ہوگئیں ،نمائندہ وکلاءکنونشن میں ججوں پر سخت تنقید ،تند و تیز قراردادیں منظور

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پاکستان بار کونسل ، پنجاب بار کونسل ،سپریم کورٹ بار، لاہور ہائی کورٹ بار ، لاہور بار سمیت نمائندہ تنظیمیں عدلیہ کی طرف سے وکلاءکے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر متحد ہو گئے ۔اس سلسلے میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئر مین ڈاکٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں ہونے والے وکلاءنمائندہ کنونشن نے عدالت عالیہ کی سپروائزری کمیٹی کے خاتمہ اورلاہور ہائیکورٹ میں ججز کی خالی اسامیوں پر تقررکے لئے جوڈیشل کمشن کو بھجوائے گئے مجوزہ ناموں کی فہرست منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا۔وکلاءکنونشن میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف بھی قرار داد منظور کی گئی ۔نمائندہ وکلاءکنونشن میں پاکستان بار کونسل،پنجاب بار کونسل،سپریم کورٹ باراورلاہورہائیکورٹ بار سمیت ضلعی بار ایسویسی ایشنوں کے عہدیداروں نے شرکت کی ۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وکلاءرہنماوں نے کہا کہ ججز کی تعیناتیوں پر سخت تحفظات ہیں,وکلاءعہدیداروں کا کہنا تھا کہ وکلاءکے خلاف قائم سپروائزری کمیٹی کی تشکیل غیر قانونی ہے جسے تسلیم نہیں کرتے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل 209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف آنے والی درخواستوں کو جلد نمٹایا جائے اور لاہور ہائیکورٹ کی انسپکشن ٹیم کے پاس ججز کے خلاف زیر التواءدرخواستوں کی فہرست کو منظر عام پر لایا جائے۔اجلاس میں وکلاءنمائندوں کی طرف سے عدلیہ پر زبردست تنقید کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ ہم عدلیہ کی حدود میں مداخلت نہیں کرتے تو عدلیہ کو بھی چاہیے کہ وہ ہماری حدود میں مداخلت سے باز رہے ۔ہم بتانا چاہتے ہیں کہ وکلاءاپنی حدود کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے ۔سیمینار اینڈ سیمپوزیم کمیٹی پنجاب بار کونسل کے زیر اہتمام کو پنجاب بار کونسل میں وکلاءنمائندہ کنونشن میں ڈاکٹر فروغ نسیم وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل، اشتیاق اے خان ، غلام مصطفی کندوال، شعیب شاہین، مقصود احمد بٹر، طاہر نصراﷲ وڑائچ، محمد شفیق بھنڈاراہ، رشید اے رضوی و عبدالستار خاں ممبران پاکستان بار کونسل، سید علی ظفر صدر سپریم کورٹ بار ، اسد منظور بٹ، سیکرٹری، رانا ضیاءعبد الرحمن صدر لاہور ہائی کورٹ بار و سیکرٹری انس غازی، ارشد جہانگیر جھوجھہ صد ر لاہور بار، چوہدری محمد حسین وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل ¾ ممتاز مصطفی چیئر مین ایگزیکٹو، ، جاوید ہاشمی چیئرمین سیمینار اینڈ سیمپوزیم ، منیر حسین بھٹی، جمیل اصغر بھٹی، خواجہ قیصر بٹ، و جملہ ممبران پنجاب بار کونسل، شوکت روف صدیقی صدر بار راولپنڈی، محمد رمضان خالد جوئیہ اور پنجاب بھرکی کئی بار ایسوسی ایشنز کے صدور و سیکرٹریز و دیگر عہدہداران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئر مین ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ہم وکلاءاپنے آپ کو مِس یوز نہیں ہونے دیں گے اپنے تمام تر حقوق کا دفاع اور تحفظ کریں گے انہوں نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ کی سپروائزری کمیٹی کے خلاف پنجاب بار کونسل نے کوئی فیصلہ دیا ہے تو وہ درست فیصلہ ہے انہوں نے کہاکہ وکلاءکی عزت و وقار پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں انہوں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ ہم ان کے ساتھ کھلے ذہن سے ملنے کے لیے تیار ہیں لیکن اگر وہ ہمارا ملنا بھیگ مانگنے کے مترادف سمجھتے ہیں تو ہم ایسا ہر گز نہیں ہونے دے گے انہوں نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ بار اور بنچ لازم وملزوم ہیں وکلاءنے ہی تشدد برداشت کر کے آپ کو عدلیہ آزادی تحریک کے ذریعے بحال کرایا اس کے بعد وکلاءکے ساتھ ججز کا وکلاءکے ساتھ منفی رویہ کو برداشت نہیں کیا جائے گا ڈاکٹر فروغ نسیم نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں ہمارے نمائندے موجود ہوتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ وکلاءکی نمائندگی کرتے ہوئے بھر پور طریقہ اے نمائندگی کریں فروغ نسیم نے کہا کہ اگر وکیل اور سائل کسی جج سے ڈرتے ہوئے پیش ہوتا ہے تو وہ جج نا اہل ہے ججوں کا رویہ سائل اور وکلاءکے ساتھ مثبت اور پیار بھرا ہونا چاہئے انہوں نے کہاکہ گذشتہ نو ماہ میں پاکستان بار کونسل کی کارکردگی سب کے سامنے ہے ۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئر مین ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کسی کا ٹرائل سے قبل فیصلہ دینا کسی ملک کی کسی جوڈشری میں کوئی قانون موجود نہیں ، لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے وکلاءکے خلاف کی جانےو الی کارروائیوں کے لیے تشکیل دی جانے والی سپروائزری کمیٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ، اگر عدلیہ وکلاءکے خلاف ضوابط بنائیں گے تو پھر وکلاءتنظیمیں بھی ججز کے خلاف ضوابط بنائیں گے ہمارے ساتھ عدلیہ انصاف کرے یا نہ کرے لیکن ہم عدلیہ کے ساتھ انصاف ضرور کریں گے ، ملک کے ہر ادارے میں احتساب کے لئے شعبہ جات موجود ہیں بار کے احتساب کے لیے بنچ کو کوئی اختیار نہیں ، سیکشن 54کا یہ ہر گز یہ مطلب نہیں کہ عدلیہ وکلاءکے لائسینس معطل کر ے۔

کنویشن میں قرار داد منظور کی گئی جس میںمطالبہ کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ فوری طور پر مستعفیٰ ہو جائیں کیونکہ وہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اور سیاسی بنیادو پر انتظامی فیصلے کر رہے ہیں۔ وکلاءکے معاملات کے سلسلہ میں تشکیل شدہ سپروائزری کمیٹی کوفی الفور تحلیل کیا جائے اور سپروائزری کمیٹی کے تمام فیصلے غیرموثر قرار دئیے جائیں۔متعلقہ بار کونسلز کے اختیارات میں مداخلت نہ کی جائے اگر عدلیہ کو کسی وکیل کے خلاف شکایت ہو تو اس وکیل کے خلاف متعلقہ بار کونسل کو ریفرنس بنا کر بھیج دیا جائے۔لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج نئی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو بھیجی گئی فہرست فوراً واپس لی جائے۔17اکتوبر کوہونے والی جوڈیشل کمیشن کی میٹنگ کی کاروائی منسوخ کی جائے اور 18 اکتوبرکو جوڈیشل کمیشن کے رولز تشکیل دینے کے لیے 5رکنی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد ان قواعد کی روشنی میں نئی فہرست مرتب کی جائے۔آرٹیکل209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو ججوں کے خلاف بھجوائے گئے ریفرنس کا فور۱ً فیصلہ کیا جائے اور بار کونسلز کو اس سلسلہ میں اعتماد میں لیا جائے۔لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ1973 ءکی دفعہ 54 کے خاتمہ کے لیے قانون سازی کی جائے۔پانچ ڈویژنز ڈیرہ غازی خان، ساہوال، سرگودھا، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ہائی کورٹ کے علیحدہ علیحدہ بنچ قائم کیے جائے۔اگرایک ماہ کے اندر ان قراردادوں پر عمل نہ ہوا تو آئندہ پھر نمائندہ کنونشن منعقد کر کے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

مزید :

لاہور -