ہاتھ دھونے کا عالمی دن ، یو ای ٹی کے طلباء نے عوام میں شعور بیدار کرنے کے لئے پمفلٹ تقسیم کئے ، ہاتھ دھونا بہترین سنت اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے پسندیدہ عمل ہے:ڈاکٹر تنویر قاسم

ہاتھ دھونے کا عالمی دن ، یو ای ٹی کے طلباء نے عوام میں شعور بیدار کرنے کے لئے ...
ہاتھ دھونے کا عالمی دن ، یو ای ٹی کے طلباء نے عوام میں شعور بیدار کرنے کے لئے پمفلٹ تقسیم کئے ، ہاتھ دھونا بہترین سنت اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے پسندیدہ عمل ہے:ڈاکٹر تنویر قاسم

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ہاتھ دھونے کا عالمی دن منایا گیا اور اس دن یونیورسٹی کے طلباء نے ہاتھ دھونے کا مظاہرہ بھی کیا،یو ای ٹی کی ’’میڈیا سوسائٹی ‘‘کے تحت یہ دن منایا گیا،جبکہ دنیا بھر میں یہ دن اس سال ’’ میک ہینڈ واشنگ ہیبٹ ‘‘کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے۔

میڈیاسوسائٹی کے ایڈوائزر ڈاکٹر تنویر قاسم کا کہنا ہے کہ 2008ء میں پہلی بار عالمی سطح پر یہ دن منایا گیا تھا،جس میں دنیا کے 70 ملکوں کے 120 ملین بچوں نے ہاتھ دھو کراس کی اہمیت اجاگر کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو دن کے پانچ اہم اوقات میں صابن سے دھو کر ڈائیریا ، بخاراور پیٹ کی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں،ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنا کر اس کے علاوہ بھی بے شمار بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واش روم کے بعد اور کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی عادت صحت مند کام ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت کے بارے میں آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے، اکثر اوقات صحت کے مسائل بچوں کی تعلیم میں حائل ہو جاتے ہیں جو کہ اساتذہ اور والدین کے لئے تشویش کا باعث بنتے ہیں،اس لئے تعلیمی اداروں میں صفائی کے حوالے سے طلباو طالبات میں شعور بیدار کرنا اور اس کی اہمیت و افادیت اور ہماری زندگی میں اس کے مثبت اثرات کے حوالے آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ یو ای ٹی کے طلباء میں اس دن کی مناسبت سے جو سرگرمی کرائی گئی اس کا مقصد بھی یہی تھا۔ ہاتھ دھونے میں صابن کا استعمال انتہائی جراثیم کْش عمل ہے اور اسے جراثیم سے بچنے کا محفوظ طریقہ بھی بتایا جاتا ہے۔تنویر قاسم کے مطابق اسلام کی بنیادی تعلیمات میں ہاتھ دھونا بھی بہترین سنت ہے اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ہمیں اسے اپنی زندگی کا پسندیدہ عمل بنانا ہوگا۔یو ای ٹی کی میڈیا سوسائٹی نے ہینڈ واشنگ ڈے کے موقع پر یونیورسٹی کے طلباء میں پمفلٹس بھی تقسیم کیے۔

مزید :

لاہور -