سعودی فرماں رواشاہ سلمان بن عبدالعزیز کا تاریخی دورہ روس

سعودی فرماں رواشاہ سلمان بن عبدالعزیز کا تاریخی دورہ روس
 سعودی فرماں رواشاہ سلمان بن عبدالعزیز کا تاریخی دورہ روس

  

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے روس کا دورہ کیا۔ سعودی عرب اور روس ہی نے تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کے درمیان خام تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق سمجھوتا طے کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان کی کوششوں کی بدولت اوپیک اور غیر اوپیک ممالک نے مارچ 2018ء تک تیل کی پیداوار میں کمی سے اتفاق کیا تھا تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مزید گرنے سے روکا جاسکے اور ان میں استحکام لایا جاسکے۔ روسی حکومت نے کہا تھا کہ سعودی شاہ کے دورے کے موقع پر تجارت ،توانائی ،زراعت ، اقتصادی اور صنعتی شعبے میں دو طرفہ تعاون بڑھانے سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار کا جائزہ لیا جائے گا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا کہنا ہے کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا ماسکو کا دورہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن و استحکام کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک حقیقی موڑ ثابت ہو گا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ریاض اور ماسکو کے درمیان تعاون ایک یکسر نئی سطح پر منتقل ہو گا۔

لاؤروف کے مطابق سعودی مملکت اور روس کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر سیاسی بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا،جہاں دونوں جانب سے تجارتی تعاون اور مشترکہ انسانی روابط کو مضبوط بنانے کے لئے کوششوں کو وسیع کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ سعودی فرماں روا نے جدہ میں کابینہ کے اجلاس کے دوران اس امید کا اظہار کیا کہ ان کے روس کے آئندہ دورے اور ماسکو میں صدر ولادیمر پیوتن اور دیگر روسی عہدے داروں سے بات چیت کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں میں تعلقات مضبوط ہوں گے اور یہ دورہ مشترکہ مفادات اور بین الاقوامی سطح پُر امن اور استحکام کو یقینی بنانے میں کارآمد ہو گا۔

سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور روسی صدر ولادی میر پیوتن نے ماسکو میں اپنی سربراہ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔شاہ سلمان نے صدر پیوتن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم عالمی استحکام کے لئے روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چا ہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے اور ان کے مالی وسائل کی روک تھام کے لئے کوششوں کو مربوط بنانا چاہتا ہے۔انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک مرکز کے قیام کی ضرورت پر زوردیا ہے۔شاہ سلمان نے کہا کہ ہم تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لئے روس کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔سعودی فرماں روا نے فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے ، ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور خطے کے ملکوں کے داخلی امور میں ایران کی مداخلت کو روکنے کی ضرورت پر بھی زوردیا ہے۔انہوں نے یمن اور شام میں جاری بحرانوں کے سیاسی حل اور عراق کی وحدت کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔شاہ سلمان نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسندوں کی ظالمانہ کارروائیوں کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے،دنیا کو اس کی ذمے داری قبول کرنی چاہئے۔

روسی صدر ولادی میر پیوتن نے شاہ سلمان سے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو سراہا ہے۔انہوں نے کہا: ’’مجھے امید ہے آپ کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید تقویت ملے گی‘‘۔شاہ سلمان نے اس موقع پر روسی صدر کو سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی ہے تاکہ باہمی مفادات سے متعلق امور پر مشاورت کے عمل کو مکمل کیا جاسکے۔

خادم الحرمین الشریفین کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان اربوں ڈالر مالیت کے معاہدے طے پائے ہیں۔ان میں دفاعی شعبے میں تعاون کا ایک سمجھوتا بھی شامل ہے، جس کے تحت سعودی عرب روس سے اس کا مشہور زمانہ ایس 400 میزائل دفاعی نظام خرید کرے گا۔

اس کے علاوہ روس کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ ( پی آئی ایف) اور سعودی عرب کے درمیان شراکت داری کا ایک سمجھوتا طے پایا ہے،اس کے تحت انفرااسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔دونوں ممالک نے ایک ارب ڈالر مالیت کے مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے۔خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے دورۂ روس کے دوران روسی صدر ولادی میر پیوتن نے مہمان نوازی کا حق ادا کیا ہے۔انہوں نے تمام سرکاری پروٹوکول اور صدارتی روایات سے ہٹ کر کریملن صدارتی محل میں شاہ سلمان کو خود اپنے ہاتھ سے چائے پیش کی۔

کریملن ہاؤس کی دیگر پیچیدگیوں میں مہمانوں کے ساتھ برتاؤ بھی شامل ہے، مگر صدر پیوتن نے سرکاری پروٹوکول کو نظرانداز کرتے ہوئے شاہ سلمان کا خصوصی استقبال کیا۔ ایک چھوٹی میز پرشاہ سلمان، صدر کے درمیان بات چیت ہوئی، ان دونوں کے درمیان ان کا مترجم ہی موجود تھا۔

شاہ سلمان گزشتہ روز روس کے سرکاری دورے پر ماسکو پہنچے تھے،جہاں انہوں نے روسی صدر ولادی میر پیوتن سمیت ملک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدوں کی منظوری دی گئی۔روس اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں 1990ء کے بعد سے گرم جوشی آئی ہے۔1990ء کے بعد دونوں ملکوں کی قیادت کے دوروں نے دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کیا ہے۔کریملن محل دنیا کے مشہور صدارتی محلات میں اپنی خاص شہرت رکھتا ہے۔ روسی زبان مین ’’کریملن‘‘ کا لفظ قلعہ یا انتہائی محفوظ مقام کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اسی کریملن محل میں روسی صدر نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ہمراہ آئے وفد کا استقبال کیا۔کریملن محل دارالحکومت ماسکو کے وسط میں تل بورفیٹسکی کے مقام پر واقع ہے۔

محل کے بائیں طرف دریائے موسکوا بہتا ہے۔سابق روسی بادشاہ آنجہانی ایون سوئم نے1440ء سے 1505ء کے دوران روس پر حکومت کی۔ اس نے اس محل کی تیاری کے لئے روسی اور اطالوی معماروں کی خدمات حاصل کیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ محل روسی اور اٹلی دونوں تہذیبوں کے فن تعمیر کی ایک یادگار سمجھا جاتا ہے۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے پیروکاروں کے درمیان مکالمہ جاری رکھنے کے لئے کام کرنے کی اہمیت کو باور کرایا ہے جس کا مقصد رواداری کے بنیادی اصولوں کو مضبوط کرنا ، غْلو اور شدت پسندی کا انسداد عمل میں لانا اور بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ سعودی فرماں روا نے یہ بات روسی مسلمانوں کی مرکزی مذہبی انتظامیہ کے سربراہ مفتی اعظم شیخ طلعت تاج الدین سے ملاقات کے دوران کہی۔ روسی مفتی اعظم اور ان کے ساتھیوں نے شاہ سلمان کے تاریخی دورے کے دوران سعودی فرماں روا سے ملاقات پر اپنی گہری مسرّت کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس بات کی بھی خواہش ظاہر کی کہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے پیروکاروں کے درمیان اعتدال اور رواداری کو پھیلایا جائے اور ساتھ ہی دہشت گردی اور شدت پسندی کے انسداد کے لئے مل کر کام کیا جائے۔

مزید :

کالم -