خدارا سسٹم کو چلنے دیں

خدارا سسٹم کو چلنے دیں
 خدارا سسٹم کو چلنے دیں

  

پاناما کیس کے پنڈورا بکس نے سیاسی میدان تو ضرور گرم کیا ہے،لیکن کئی ایسے باب بھی کھل گئے ہیں جن سے قومی سطح پر نقصان کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ سے مخالف کو پچھاڑنے کا جو سلسلہ شروع ہے وہ دست و گریبان تک بھی پہنچ سکتا ہے،خدا نہ کرے ایسا ہو لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ معاملہ کچھ زیادہ اچھا نہیں۔

میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے بعد نیب کے ریفرنسز نے سیاست میں طوفان بپا کر رکھا ہے محض شریف خاندان کو احتساب کا ہدف بنا کر ملک بھر میں ہیجان کی ایک کیفیت پیدا کر دی گئی ہے۔ ہر طرف شور وغوغا ہے، جسے دیکھو دوسرے کی پگڑی اُچھالنے کو تیار بیٹھا ہے۔ احتساب عدالت میں داخلے سے روک کر کیا پیغام دیا گیا ہے۔

رینجرز کی تعیناتی بھی معمہ بن گئی اور کئی روز گزرنے کے بعد بھی اس امر کا تعین نہیں ہو سکا کہ رینجرز کے اہلکار نے وزیر داخلہ کو عدالت میں داخل ہونے سے کیوں روکا یوں محسوس ہوتا ہے کوئی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ بعض مناصب ایسے ہوتے ہیں جن کے کچھ تقاضے بھی ہیں، جنہیں فراموش کر دیا جائے تو سسٹم چلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

اداروں کی باہمی چپقلش برباد کر دیتی ہے ۔ایک ادارہ دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش میں اپنے حدود و قیود سے تجاوز شروع کر دے تو نظام خاک چلے گا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اپنا کام ہے، مقننہ کا اپنا اور عدلیہ کا اپنا اگر ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کا سلسلہ شروع ہو جائے تو نتیجہ کھلی جنگ کی شکل میں نکلتا ہے۔ جمہوریت کا حسن تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اداروں کو اپنی حدود میں رہنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔

جب سے میاں نواز شریف نااہل ہوئے ہیں اور شریف خاندان کے خلاف نیب میں ریفرنسز کی سماعت شروع ہوئی ہے،ملک کے اندر اور باہر افراتفری کا عالم ہے۔ عدالتی امور میں مداخلت کا اختیار کسی کو نہیں،لیکن ماورائے قانون اقدامات کسی بھی ادارے کو زیب نہیں دیتے۔

ان کیسوں کی بدولت دیگر اہم قومی امور پسِ پشت ڈال دیئے گئے ہیں،ملکی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے،وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ناجائز اثاثہ کیس کا اثر بھی قومی مالیاتی امور پر پڑ رہا ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں مندی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، ماہرین اقتصادیات خود بھی پریشان ہیں کہ اس معاشی ناہمواری سے کیسے نپٹا جائے۔سی پیک جیسے بین الاقوامی منصوبے بھی موجودہ حالات کے تناظر میں اعتراضات کا شکار ہیں اور یہ سوچے سمجھے بغیر کہ عالمی سطح پر اس کا کیا اثر ہو گا بعض لوگ بیان بازی میں مصروف ہیں، بعض ابلاغی اداروں نے تو محض تنقید کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے، کئی ٹاک شوز کی ابتدا اور اختتام بھی قومی اداروں یا بین الاقوامی منصوبوں پر بے جا تنقید پر ہی ہوتا ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کچھ ڈور ہلانے والے اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہے۔ چیئرمین نیب کے تقرر سے قبل اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے لئے جو سرگرمی دیکھنے کو ملی وہ بھی مثبت نہیں تھی۔ جسٹس(ر) جاوید اقبال چیئرمین نیب نے بھی ’’احتساب سب کا‘‘ کا نعرہ لگایا ہے، قوم پُرامید ہے اور توقع کرتی ہے کہ احتساب کے معاملے میں پسند ناپسند کے بجائے عدل کا سہارا لیا جائے گا اور فردِ واحد یا کسی مخصوص خاندان کو ٹارگٹ کرنے کی بجائے کرپشن کے خاتمے کے لئے بے رحمانہ اور غیر جانبدارانہ احتساب کیا جائے گا۔

مزید : کالم