نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال‘ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم

نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال‘ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم
 نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال‘ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم

  

قومی احتساب بیورو نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کیلئے قومی احتساب بیورو بغیر کسی پروٹوکول کے قومی احتساب بیورو میں اپنے دفتر پہنچے۔ انہوں نے عہدے کا چارج سنبھالنے سے پہلے وضو کیا اور 2 رکعت نماز حاجات پڑھی اور پھر اپنے عہدے کا چارج سنبھالا۔

اس کے بعد نیب ہیڈ کوارٹرز میں سینئر افسران سے غیر رسمی ملاقات کی اور کہا کہ آج سے میں اپنے دفتر میں چائے، پانی اور کھانے کے اخراجات اپنی ذاتی جیب سے ادا کروں گا، میں سرخ فیتے کا قائل نہیں، میری میز پر پڑی ساری فائلیں اسی دن کلیئر ہوں گی، میرے دروازے تمام افسران/اہلکاروں کیلئے ہر وقت کھلے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ محنت، ایماندار قابل اور قانون کے مطابق کام کرنے والے میرے دوست جبکہ نااہل، بددیانت اور غیر قانونی کام کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور اس سلسلہ میں کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کسی تعارف کے محتاج نہیں، وہ 1946ء میں پیدا ہوئے اور سیشن جج کوئٹہ، بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائمقام چیف، پریس کونسل کے چیئرمین، ایبٹ آباد کمیشن کے چیئرمین رہے جس کا 71 لاکھ معاوضہ نہیں لیا کیونکہ وہ اس کو ایک قومی المیہ سمجھتے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال اس وقت لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین ہیں اور ان کی ذاتی اور انتھک کاوشوں کی بدولت 2700 سے زائد افراد بازیاب ہو چکے ہیں، لاپتہ افراد کے کمیشن کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے چہرے پر انتہائی اطمینان اور خود اعتمادی نمایاں ہوتی ہے، ان کا اﷲ تعالیٰ اور اﷲ تعالیٰ کے رسول حضرت محمدؐ پر پختہ یقین ہے اس لئے وہ کبھی ناامید نہیں ہوتے بلکہ ان کے چہرے پر چمک اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے کام کو ایک صدقہ جاریہ کے طور پر سرانجام دے رہے ہیں کیونکہ جو بھی شخص بازیاب ہوتا ہے اس شخص کا سارا خاندان جسٹس جاوید اقبال کو دعائیں دیتا ہے، دعائیں سن کر جسٹس جاوید اقبال کی خوشی دیدنی ہوتی ہے، وہ ایک طرف اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس نیک کام کا فریضہ ان کو سونپا، دوسری طرف وہ مزید محنت، لگن اور جذبہ کے ساتھ دن رات کی پرواہ کئے بغیر اپنے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں اور پہلے سے زیادہ کام کرتے ہیں، انہی دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں قومی احتساب بیورو کا چیئرمین بنایا جس پر حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں متفق ہیں اور ان کی ایمانداری، دیانتداری، پیشہ وارانہ مہارات اور بے پناہ صلاحیتوں کی معترف ہیں اور برملا اس کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال جہاں چیئرمین نیب بننے پر اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں وہاں اس عزم کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ جب سپریم کورٹ آف پاکستان میں قائمقام چیف جسٹس تھے تو ہم نے ’’انصاف سب کیلئے‘‘ کا پیغام پورے ملک تک پہنچایا اور آج قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کے طور پر ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے ’’احتساب سب کا‘‘ کا پیغام دیا ہے۔ آپ صرف پیغام نہیں دیتے بلکہ جو بات کہتے ہیں اس کو کرکے دکھاتے ہیں، آپ کی صلاحیتوں خصوصاً ایمانداری، دیانتداری اور اصول پسندی کے سب معترف ہیں۔ انہوں نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد نیب ہیڈ کوارٹرز اور نیب راولپنڈی کے افسران سے اپنے پہلے خطاب میں جس طرح دوٹوک الفاظ میں پیغام دیا کہ قومی احتساب بیورو ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گا، بیگناہ افراد کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے گا اور بدعنوان افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے میرٹ، شفافیت اور قانون کے مطابق احتساب عدالتوں میں ان کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے جائیں گے تاکہ ان سے ملک کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائی جائے گی۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین ملک سے بدعنوانی کو ایک ناسور سمجھتے ہیں جس کے خاتمہ کیلئے وہ زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپناتے ہوئے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہیں۔

مزید :

کالم -