میڈیا کو اگلے جمعہ کا انتظار کرنا ہوگا!

میڈیا کو اگلے جمعہ کا انتظار کرنا ہوگا!
میڈیا کو اگلے جمعہ کا انتظار کرنا ہوگا!

  


ویسے تو یہ آیہء قرآنی ہے کہ :’’جب تک کوئی انسان خود اپنے آپ کو نہیں بدلتا، خدا بھی اس کی حالت تبدیل نہیں کرتا‘‘، لیکن یہ آئتِ کریمہ قرآن حکیم میں صرف ایک بار آئی ہے جبکہ ایک اور آئت ایسی ہے جو کئی بار دہرائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ: ’’اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔

خدا کی لامحدود قوت اور بندے کی محدود طاقت کا تقابل تو نعوذ باللہ کسی ذی روح کے خیال میں بھی نہیں آ سکتا لیکن ہمارے اسی قرآن میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اس کرۂ ارض پر انسان خدا کا خلیفہ ہے۔ اگر عسکری لغت میں بات کی جائے تو اگر خدا کمانڈنگ آفیسر (CO) ہے تو انسان اس کا سیکنڈ اِن کمانڈ (2IC) ٹھہرتا ہے۔ اسی لئے تو انسان کو نائبِ خدا اور خلیفہ ء ایزد بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جب کمانڈنگ آفیسر کہیں چھٹی پر چلا جاتا ہے یا کسی کورس پر بھیج دیا جاتا ہے یا کسی اور وجہ سے کچھ دنوں کے لئے یونٹ سے غیر حاضر ہو جاتا ہے تو سیکنڈ اِن کمانڈ کو تقریباً وہی اختیارات مل جاتے ہیں جو کمانڈنگ آفیسر کے ہوتے ہیں۔ اس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ یونٹ کا روز مرہ کا کاروبار چلتا رہے۔

خدا نے اگر انسان کو اس دھرتی پر اپنا نائب مقرر کیا ہے(اور یہ ارشاد قرآن کا حصہ بھی بنا دیا ہے) تو ساتھ ہی خدا نے اپنے سی او (CO) ہونے کی وہ صفات بھی بیان کر دی ہیں جو کسی بھی یونٹ کمانڈنگ آفیسر کو حاصل نہیں ہوتیں۔ اس نے فرما دیا ہے کہ میں واحد ہوں، میرا کوئی ثانی نہیں۔ میں کسی کی اولاد نہیں اور نہ کوئی میری اولاد ہے۔ میں ہمہ وقت موجود اور ہمہ اختیار ہوں، کبھی رخصت پر نہیں جاتا اور نہ کسی کورس پر Detailہوتا ہوں۔ مجھے نہ نیند آتی ہے اور نہ اونگھ اور میں ازل سے ہوں اور ابد تک رہوں گا۔۔۔ یہی وہ صفاتِ خداوندی ہے جن کے سامنے انسان اپنے نائب خدا ہونے کے باوصف اُف تک نہیں کر سکتا۔تقدیرِ خداوندی اور تدبیرِ انسانی کی حدود و قیود کا مسئلہ بہت الجھا دیا گیا ہے۔ اللہ نے جو تھوڑا سا دماغ بندے کو عطا کر دیا ہے وہ اس کی خاص الخاص دین ہے لیکن اس تھوڑے سے دماغ کو اس نے بے انتہا امکانات (Potentials) کا حامل بھی بنا دیا ہے، اس کے سینے میں امیدوں اور آرزوؤں کا ایک لامتناہی سلسلہ تخلیق کر دیا ہے جس کے بل پر انسان نے شیخیاں بگھارنی شروع کر دی ہیں اور یہاں تک چلا گیا ہے کہ:

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی

مقامِ بندگی دے کہ نہ لوں شانِ خداوندی

انسان اپنے آپ میں بیک وقت عاجزبھی ہے اور بااختیار بھی۔ اس کے اختیارات کا حجم چونکہ اس کی انسانی کاوشوں کے حساب سے منسلک ہے اس لئے خدا نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ انسان جتنی سعی کرتا ہے اس کو اتنا ہی صلہ ملتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس یہ ضرب المثل بھی ہر زبان میں پائی جاتی ہے کہ خدا جب دینے پر آتا ہے تو چھپڑپھاڑ کر دیتا ہے۔ لیکن اس چھپڑ کے پھاڑے جانے کا وقت اور لمحہ صرف اللہ کو معلوم ہے۔ انسان کوشش کرتا ہے تو چھپڑ کے پھاڑے جانے کی امید بھی رکھتا ہے۔ البتہ یہ امید کب بر آتی ہے اور کب بر نہیں آتی اس کا پتہ صرف اسی کو ہے:

سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی باقی بتانِ آذری

اس ’’لَیس للانسان اِلّا مَا سعیٰ‘‘ کا اطلاق فرد بھی پر ہوتا ہے اور قوم پر بھی۔ وہ جب چاہتا ہے کسی قوم کو دوسری قوم پر برتری عطا کر دیتا ہے۔۔۔ کسی کو محکوم کر دیتا ہے تو کسی کو حاکم بنا دیتا ہے۔۔۔ حضرت میاں محمد بخش فرماتے ہیں کہ مالی کا کام درختوں اور پودوں کو پانی دینا ہے،جبکہ پھل اور پھول اگانا مالک کا کام ہے۔۔۔

وہ جو چاہے تو اٹھے سینہ ء صحرا سے حباب

اب ایک اور پہلو کو دیکھئے۔۔۔پاکستان، اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں لایا گیا تھا۔ برصغیر میں بتوں کو پوجنے والوں اور خدا کی عبادت کرنے والوں میں امتیاز کرکے پہلی بار یہ تجربہ کیا گیا کہ دیکھیں اس زمین پر کفر ترقی کرتا ہے یا اسلام پھلتا پھولتا ہے۔14اگست 1947ء سے لے کر آج تک ہم قیامِ پاکستان کو ایک معجزہ ہی سمجھتے ہیں۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو ہم بھی شائد ایک ہزار برس تک کافروں کے غلام رہتے۔ کس کو خبر تھی کہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرنے والا سب سے آخری اسلامی ملک ہو گا؟۔۔۔ خود قائداعظم کے الفاظ میں تو وہ دیمک خوردہ (Moth-Eaten)۔۔۔ دو ٹکڑوں میں تقسیم۔۔۔ پائی پائی کا محتاج۔۔۔ اور عسکری ساز و سامان سے محروم صرف ان فوجیوں کا ملک تھا جن کے تن پر صرف ایک ہی وردی تھی اور کاندھے پر تھری ناٹ تھری برانڈ کی ایک رائفل دھری ہوئی تھی اور بس۔۔۔ نہ کوئی اسلحہ ساز فیکٹری اور نہ کوئی دوسرا مشینی کارخانہ۔۔۔

اس بے سروسامانی کے عالم میں اگر یہی پاکستان 1971ء کی جنگ میں کفار کے ہاتھوں دو نیم ہونے کے بعد بھی ہمت نہیں ہارتا اور دنیا کی پہلی اسلامی جوہری طاقت بن جاتا ہے تو اس کو تقدیرِ پاکستان کہیں گے یا تدبیرِ پاکستان کا نام دیں گے!

1971ء کی ہماری شکست کے بعد امید و بیم کا ایک عجیب و غریب سلسلہ شروع ہوا۔ ایک طرف ہم سیاسی خلفشار کا شکارہوتے گئے تو دوسری طرف جوہری اور میزائلی قوت حاصل کرکے دشمن کو اپنی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا کوئی موقع نہ دیا۔ مجھے خبر نہیں قارئین اس حقیقت سے انکار کریں گے یا اقرار کہ جب سے پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے پاکستان بڑی شدت سے سول اور فوجی دو کلبوں میں تقسیم ہو گیا!۔۔۔ ایک طرف ہم نے اپنی فوجی قوت میں اضافہ شروع کیا، ایٹم بم بنائے،ہائڈروجن بم بنائے اور حتف اول میزائل سے غوری ششم میزائل تک پہنچ کر ملک کو فوجی لحاظ سے انڈیا کے مقابلے میں ناقابلِ تسخیر بنا دیا تو دوسری طرف سیاسی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ کئی حضرات یہ دلیل لائیں گے کہ سویلین حکمرانوں کو مسلسل اور جم کر حکومتی اداروں کو مضبوط بنانے کی مہلت نہیں دی گئی اور بار بار مارشل لا کی تلوار سے وار کئے جاتے رہے، جس سے ایک طرف حکمرانی کا سارا تانا بانا ٹوٹتا بکھرتا رہا، تو دوسری طرف فوجی کمانڈروں نے اس استدلال کا سہارا لیا کہ سیاست دانوں کو عوام کی فکر سے زیادہ ’’اپنا غم‘‘ کھانے لگا ہے۔

یوں عوام کے نام پر حکومت کے خزانے خالی ہوتے چلے گئے اور ان کے نجی اکاؤنٹ کے بیلنس اربوں کھربوں تک جا پہنچے۔ یہ کوئی نئی بحث نہیں۔آج بھی اس کا بھرپور شور برپا ہے۔اگرچہ عشروں پر پھیلی طرزِ حکمرانی کے طور اطوار بدل چکے ہیں،پرانے اور روایتی پاور ہاؤس، پاور لیس(Powerless) ہو چکے ہیں اور نئے بجلی گھروں کی آزمائش ہو رہی ہے تو ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اجالے، اندھیروں پر غالب آئیں گے یا اندھیرے مزید گہرے ہو جائیں گے۔آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس سیال صورتِ حال میں بھی خدائے ذوالجلال کی اُس رحمت کو جوش آنے لگا ہے کہ جس نے گزشتہ71 برسوں سے نیم بے ہوش قوم کو جھنجھوڑ کر جگا دیا ہے۔ میں نے کالم کے شروع میں عرض کیا تھا کہ انسانی تدبیر سے خدائی تقدیر کا مقابلہ تو نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اب خدا نے خود ایسے اسباب پیدا کر دیئے ہیں جن کے طفیل مجھے یقین سا ہونے لگا ہے کہ اس کی نگاہِ کرم آخر ہم گنہ گاروں پر پڑنے لگی ہے اور یاس کی کالی گھٹاؤں میں آس کی تیز روشنی کی ایک پھوٹتی کرن نظر آ رہی ہے جو دن بدن تیز تر ہوتی جا رہی ہے!

پاکستان میں تین اشاریئے (Indicators) ایسے ہیں جو پاکستان میں گئے وقتوں میں کبھی ایک صفحے پر شاذ ہی رہے ہوں گے۔ سیاست دان اور فوجی ہمیشہ مختلف راہوں کے مسافر رہے ہیں ۔جہاں تک عدلیہ کا تعلق ہے تو وہ ہمیشہ نیمے دورں، نیمے بروں، کی حالت میں رہی۔۔۔ کبھی عاشقِ صادق کی بغل میں اور کبھی رقیبِ رو سیاہ کی گود میں۔۔۔ لیکن حکومت کے ان تینوں ستونوں(انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ) میں کئی عشروں سے باہم جدائی کے ادوار تو دیکھے جاتے رہے، اجتماعی ملاپ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔لیکن اب عدلیہ، فوج، انتظامیہ اور مقننہ ایک ہی صفحے پر ہیں۔ مقننہ اگرچہ تقسیم ہے لیکن اس کا تقسیم ہونا ہی ملک کی ترقی کا ضامن ہے۔۔۔پاکستان کے وزیراعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف ماضی میں کبھی صدقِ دل سے ایک دوسرے کے ساتھ ویسی یگانگت پیدا نہیں کر سکے جو آج کل نظر آتی ہے۔

میں دو روز قبل(12اکتوبر) فاضل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا ایک خطاب سن رہا تھا جو لاہور میں وہ کسی وکلا برادری کی کسی تقریب سے کر رہے تھے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک وہ بولتے رہے۔۔۔ فی البدیہہ، بے تکان اور بغیر کسی کاما اور فل سٹاپ کے۔۔۔ کیا اندازِ خطابت تھا!۔۔۔ کیا روانی تھی!۔۔۔ اور کیا زورِ بیان تھا!۔۔۔ میں نے آج تک کسی اور جج، جسٹس یا چیف جسٹس کو اس جذبِ دروں سے بولتے نہیں سنا۔ انگریزی، اُردو اور پنجابی کا امتزاج اتنی بے ساختگی لئے تھا کہ مجھے بار بار سامعین کی تالیوں کے ساتھ سنگت کرنے کو دل چاہتا رہا!۔۔۔126 دنوں کے دھرنے میں عمران خان کا اندازِ تخاطب بھی والہانہ اور اوریجنل تھا اور چیف آف آرمی سٹاف کو بھی میں نے جب بھی بولتے سنا ہے ان کے لب و لہجے میں بھی حقیقی حب الوطنی اور خالص قوم پرستی جھلکتی نظر آئی ہے۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ ان تمام مثبت اشاریوں کی موجودگی میں واقعی پاکستان یک جان ہو کر آگے بڑھے گا۔

حکومت سے ٹکراؤاور مخالفت، اپوزیشن کا حق ہے اور جمہوریت کا حسن بھی ہے، لیکن اگر کارِ جہاں دراز ہو تو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کم از کم پانچ سال کا انتظار تو نوشت�ۂ دیوار لگتا ہے۔ لیکن اس دوران حکومت کا چوتھا ستون یعنی ہمارا میڈیا کیا کرے گا؟ اس کے تیور تو روزِاول (یعنی 19اگست سے) بدلنے شروع ہو گئے تھے۔ میں تو شروع ہی سے ڈھنڈورہ پیٹتا آیا ہوں کہ اہل میڈیا اپنے آپ کو ’’سپر گورنمنٹ‘‘ اور اپنے چینل کو ’’سپر مارکیٹ‘‘ گردانتے ہیں۔ جس کسی اینکر اور صحافی کو سکرین پر دیکھو حکومت کو مفت مشورے اور پندو نصایح دے رہا ہوتا ہے۔ بعض تو باقاعدہ نام لے لے کر اعیانِ حکومت کی سرزنش کرتے نہیں تھکتے بلکہ موقع میسر آئے تو گوشمالی تک بھی چلے جائیں ۔

ان میڈیا ہاؤسز کی اس اچانک کایا پلٹ کے جو اسباب نظر آتے ہیں وہ نصف سیاسی امور سے تعلق رکھتے ہیں اور نصف اس مالیات سے جو باہر سے (مثلاً را، موساد ،سی آئی اے وغیرہ) آ رہی ہے۔ لیکن کب تک؟۔۔۔ جن پختہ کار صحافیوں کو معلوم ہے کہ پہاڑوں پر برف باری بند ہو جائے تو دریا سوکھنے لگتے ہیں، وہ ابھی سے مصنوعی برف برسانے کے جتن کر رہے ہیں۔یہ اگرچہ ایک عبوری وقفہ ہے لیکن میرا خیال ہے کہ جلد ہی ان ٹی وی چینلوں کا جمعہ بازار اپنی دکانیں بڑھانے پر مجبور ہو جائے گا۔ اور جو دکاندار ایسا نہیں کر سکیں گے وہ اگلے جمعہ کا انتظار کریں گے!

مزید : رائے /کالم