ایف بی آر نے 16ہزار رئیل اسٹیٹ ٹیکس نادہندہ گان کی فہرست تیار کر لی

ایف بی آر نے 16ہزار رئیل اسٹیٹ ٹیکس نادہندہ گان کی فہرست تیار کر لی

اسلام آباد( آن لائن ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے ٹیکس نادہندہ گان کی فہرست مرتب کردی ہے جنہوں نے گزشتہ 2 سال کے دوران اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کیا۔ایف بی آر کی جانب سے 16 ہزار افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے ریئل اسٹیٹ کے بزنس میں سرمایہ کاری کی لیکن ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہیں، جبکہ ان ہی میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) بھی نہیں ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اعداد وشمارمیں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 2 سال کے دوران 80 ہزار لین دین ہوئیں، جن کی کل مالیت ڈپٹی کمشنر ریٹ کے مطابق 8 سو ارب روپے ہے جبکہ اس کی حقیقی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔مذکورہ اعداد و شمار ایف بی آر کے ذیلی ادارے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں جو 40 لاکھ سے زائد کی سرمایہ کاری کو ایف بی آر نظام میں ریکارڈ کر دیتا ہے۔ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے دستاویزات کو درست رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے اپنے بجٹ اعلان میں جولائی کے بعد سے ہونے والی ٹرانزیکشنز کو ٹیکس ریٹرن سے مشروط کردیا تھا۔ایف بی آر ذرائع نے کہا ہے کہ ادارہ ایسے افراد کو رجسٹرڈ کرنے کے لیے پہلے ہی نوٹس جاری کر چکا ہے، جو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے افراد جو ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں لیکن اپنے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروارہے، انہیں بھی نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ اب تک ملک بھر میں 200 افراد کو نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے ایف بی آر سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایسے افراد جن کی جائیدادیں بہت زیادہ ہیں اور وہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایف بی آر حکام نے بتایا کہ مختلف ذرائع سے ایسے افراد کا ڈیٹا جمع کرنے کے باوجود ابھی تک وزیرِ خزانہ اسد عمر کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایف بی آر ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کا پورا منصوبہ تیار کرچکا ہے۔ایف بی آر نے ایسے ایک ہزار افراد کو بھی نوٹس جاری کیا ہے جنہوں نے دبئی اور برطانیہ میں جائیدادیں خریدیں، جبکہ ایف بی آر نے ایسے افراد کی بھی نشاندہی کی ہے جنہوں نے این ٹی این نمبر نہ ہونے کے باوجود لگڑری گاڑیاں خریدیں۔

مزید : کامرس