حکومت ناکام ہوئی تو آگے کوئی راستہ نہیں ، ملک چلانے کیلئے پیسے نہیں لوگوں کو ریلیف کہاں سے دیں ، شاہ محمود

حکومت ناکام ہوئی تو آگے کوئی راستہ نہیں ، ملک چلانے کیلئے پیسے نہیں لوگوں کو ...

اسلام آباد(آن لائن)’’ہم مے خانے میں پہلے مفت کی پیتے تھے ، پھر سرکار کی پیتے رہے ، پھر ادھار کی پیتے رہے ، اب بھیک میں بھی کوئی دینے کو تیار نہیں ‘‘۔ یہ باتیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں ملک بھر سے آئے ہوئے سینئر صحافیوں سے خصوصی ملاقات میں کہیں ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں عیاشی کی عادت نے تباہ کر دیا، ہمارے سیاستدانوں نے کبھی خود کو سنبھالنے کی کوشش ہی نہیں کی، صحافیوں کے ایک سوال پر تحریک انصاف کی حکومت کے چند سخت اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ معیشت کی حالت خراب سے خراب تر ہو رہی ہے ۔ مہنگائی کے باعث عوام پریشان ہیں لیکن لوگوں کو یہ سمجھنا ہو گا ہمارے حکمران سرکاری خزانے سے عیاشیاں کرتے رہے ۔ اب حالت یہ ہے کہ لوگ قربانی دینے کو تیار نہیں ۔ ہمارے منہ کو لگی ہوئی چھوٹ نہیں رہی۔ صورت حال یہ ہے کہ کوئی ہمیں قرضہ دینے کو بھی تیار نہیں ۔ انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کر کے پوچھا کہ جب خرانہ ہی خالی ہے تو ہم معاملات ریاست کیسے چلائیں ۔ عوام کو ریلیف کہاں سے دیں ۔ ہمیں احساس ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ناکام ہوئی تو آگے کوئی راستہ نہیں ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس ساری صورت حال کے باوجود ہمیں پرامید رہنا چاہئے کہ حالات جلد درست ہو جائیں گے ۔

شاہ محمود قریشی

مزید : صفحہ آخر