سرینگر ، کپوارہ میں چوتھے روز بھی ہڑتال ،نظام زندگی معطل ،متعدد کشمیری گرفتار

سرینگر ، کپوارہ میں چوتھے روز بھی ہڑتال ،نظام زندگی معطل ،متعدد کشمیری ...

سری نگر (نیوزایجنسیاں) منان وانی کی شہادت پرکپوارہ میں چوتھے روز بھی مسلسل ہڑتال رہی،بھارتی فوج نے متعدد نوجوانوں کو گرفتار کر لیا،پلوامہ میں شہید نوجوان شبیر احمد ڈار کو سپردخاک کر دیاگیا،کشمیریوں کا ڈھونگ بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ بھارت اور عالمی برادری کے لیے چشم کشا ہے، اتحا دالمسلمین،بھارتی پولیس نے انجینئر رشید کو حراست میں لے لیا،تفصیلات کے مطابقکشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے کمانڈر پی ایچ ڈی سکالر منان وانی کی شہادت پرکپوارہ میں چوتھے روز بھی ہڑتال رہی۔مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج ہوگئی جبکہ لولاب کے مختلف علاقوں میں فورسز کی جانب سے پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کیا گیا جس کے نتیجے میں متعدد نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ شہدا کی یاد میں پورے کپوارہ ضلع میں ہڑتال کی وجہ سے نظام زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب رہی ۔سوگام ،لالپورہ ، واورہ ، لنگیٹ ،کرالہ گنڈ ،کلنگام، چوگل ، ترہگام اور کرالہ پورہ علاقوں میں احتجاجی ہڑتال رہی۔ پورے ضلع میں انٹرنیٹ سروس تیسرے دن بھی معطل رہی جبکہ کرناہ کیرن اور مژھل کو چھوڑ کر ضلع میں چھوڑے بڑے تمام سکول بند رہے۔ پلوامہ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید نوجوان شبیر احمد ڈار ساکن سانبورہ کو سپردخاک کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے ضلع بانڈی پورہ میں 5نوجوانوں پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرکے انہیں جیل بھیج دیاہے۔ بانڈی پورہ کے علاقے نسو سے تعلق رکھنے والے 21سالہ عادل بشیر بٹ،کلوسہ سے تعلق رکھنے والے فاروق احمد گنائی،سجادحسین گنائی اوربلال احمد گنائی اور چندیگیر حاجن سے تعلق رکھنے والے اظہرالدین پرے کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جموں کی کوٹ بھلوال جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اتحاد المسلمین کے جنرل سیکرٹری سید مظفر رضوی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں پارٹی صدر اور حریت رہنما مولانا مسرور عباس انصاری کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قراردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کیاجاسکتا۔ دریں اثنا انجینئر رشید نے ڈاکٹر شہید منان وانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی پاداش میں یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے معطل اور انکے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کیخلاف سرینگر کے علاقے جواہر نگر میں اپنی سرکاری رہائش گاہ سے بڑی تعداد میں پارٹی کاکنوں کے ہمراہ راج باغ کی طرف مارچ کی کوشش کی ۔ علاقے میں تعینات بھارتی پولیس اہلکاروں نے ان پر دھاوا بول کر انجینئر رشید کو درجنوں کارکنوں کے ہمراہ حراست میں لے لیا۔

کشمیر ہڑتال

مزید : صفحہ آخر