افغانستان ، جھڑپوں میں ضلعی پولیس سربراہ سمیت 13اہلکار ہلاک

افغانستان ، جھڑپوں میں ضلعی پولیس سربراہ سمیت 13اہلکار ہلاک

کوہاٹ؍کابل(این این آئی) افغانستان میں طالبان کے ساتھ جھڑپوں کے مختلف واقعات میں ایک ضلعی پولیس سربراہ سمیت 13سیکیورٹی اہلکار جبکہ جوابی کاروائی اورامریکی فوج کی بمباری کے نتیجے میں19 طالبان سمیت مجموعی طورپر40 افرادہلاک ہوگئے۔ یہاں موصولہ اطلاعات اور افغان مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی صوبہ زابل کے ضلع میزان میں طالبان کے ایک مسلح گروہ نے گزشتہ شب افغان سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرکے پولیس کے ضلعی سربراہ اسدماما کو قتل کردیا۔ صوبہ زابل کے گورنر رحمت اللہ یارمانی نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے مزید بتایا کہ صوبہ زابل ہی کے ضلع شیرصفا میں طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں مزید 7 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔اْن کادعویٰ تھا کہ اس جھڑپ میں طالبان کو کافی جانی نقصان اْٹھاناپڑا ہے تاہم تفصیلات نہیں بتائیں۔ادھر صوبہ قندوز کے ضلع دشت آرچی میں مسلح طالبان نے افغان فوجیوں کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کردیا جس میں افغان نیشنل آرمی کے ایک مقامی کمانڈر عبدالرحمن اپنے چار فوجیوں سمیت مارے گئے جبکہ حکام کے مطابق اس حملے میں 11 طالبان بھی ہلاک کردیئے گئے تاہم طالبان نے کوئی ردعمل ظاہرنہیں کیا ہے۔آمدہ اطلاعات کے مطابق صوبہ لغمان کے ضلع علی نگر میں افغان سیکیورٹی فورسز نے 6 طالبان عسکریت پسندوں کو اْس وقت ہلاک کردیا جب وہ مین روڈ پر بارودی سرنگ نصب کررہے تھے جس پر افغان فورسز نے فائرنگ کرکے اْنہیں موت کے گھاٹ اْتاردیا۔دریں اثناء افغان فوجی حکام کے مطابق مشرقی صوبہ نورستان میں امریکی فوج نے ضلع نورگرم اور دوآبہ کے مابین شاہراہ پر طالبان کے قائم کئے گئے ایک خودساختہ چیک پوسٹ کو نشانہ بناکر بم برسائے جس کی زدمیں آکر دو طالبان ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت سعیدالرحمن اور گل کے نام سے کی گئی ہے۔ادھر گزشتہ روز صوبہ تخار کے ضلع روستک میں خاتون اْمیدوار نظیفہ یوسفی بیگ کے انتخابی جلسہ پر کئے گئے خودکش حملہ میں ہلاکتوں کی تعداد14سے بڑھ کر 22 تک جاپہنچی ہے جن میں ایک انٹیلی جنس اہلکار بھی شامل ہے۔

افغانستان

مزید : علاقائی