ٹرانسفارمر ز ، قیمتی سامان چوری میں ملوث افسروں کو بچانے کی تیاریاں ، مافیا متحد

ٹرانسفارمر ز ، قیمتی سامان چوری میں ملوث افسروں کو بچانے کی تیاریاں ، مافیا ...

ملتان ( اعجاز مرتضیٰ سے)بجلی کمپنیوں میں37 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن دبا دی گئی۔پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی ( پیپکو) کے اعلی ٰ حکام نے کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی )کے کرپٹ افسران کے ساتھ ڈیل کرکے 339انکوائریا ں اور محکمانہ (بقیہ نمبر30صفحہ12پر )

کارروائیاں سرخ فیتے کی نذر کردیں ۔معلوم ہوا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں ( ڈسکوز ) اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی ( این ٹی ڈی سی )میں غبن‘ غیر معیاری کام‘ اووربلنگ‘ٹرانسفارمرز اور دیگر سامان کی چوری میں ملوث افسروں کو بچانے کے لئے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کے اعلی ٰ حکام نے ملی بھگت کرلی ہے اور ان کرپٹ افسروں کے خلاف کارروائیاں روک دی ہیں ۔قومی خزانے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کے کیس لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی ( لیسکو) میں پیش آئے جن کی تعداد313ہے ۔ ان کیسوں میں مجموعی طور پر قومی خزانے کو 32کروڑ63لاکھ80ہزار روپے نقصان پہنچایا گیا ۔لیسکو اور پیپکو حکام نے ان تمام کیسوں کی فائلیں سرخ فیتے کی نذر کرتے ہوئے ان کیسوں میں ملوث افسروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ملتان الیکٹرک پاور کمپنی ( میپکو )میں غبن ‘ سامان چوری ‘غیر معیاری کام وغیرہ کی 10انکوائریاں اور محکمانہ کارروائیاں سرخ فیتے کی نذر کر دی گئی ہیں جن میں قومی خزانے کو 91لاکھ70ہزار روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے ۔اسی طرح گجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی ( گیپکو) کے افسروں و اہلکاروں کے خلاف کل 9کیس سرخ فیتے کی نذر کئے گئے جن میں قومی خزانے کو 44لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی ( این ٹی ڈی سی )میں مختلف نوعیت کے 3کیسز کی انکوائریاں بند کر دی گئی ہیں جن میں قومی خزانے کو 3کروڑ36لاکھ 40ہزار روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔اسی طرح پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی ( پیسکو) کے افسروں کی جانب سے قومی خزانے کو 10لاکھ40ہزار روپے کا نقصان پہنچایا گیا مگر انکوائریاں اور کارروائیاں روک دی گئی ہیں ۔اسی طرح 339کیسوں کو سرخ فیتے کی نذر کرنے سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر 37کروڑ 66لاکھ 30ہزار روپے کا نقصان پہنچایا گیا ۔پیپکو ذرائع کے مطابق ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے انتظامیہ کو تمام کیسوں میں کارروائی فوری طور پر مکمل کرکے آڈٹ کرانے کی ہدایت کی گئی مگر اس پرکوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے ۔ واضح رہے کہ پیپکو رولز کے مطابق ادارے کے کسی بھی شعبے کے افسروں و اہلکاروں کی طرف سے ادارے کو نقصان پہنچایا جائے گا تو متعلقہ شعبے کا سربراہ بھی اس میں برابر کا ذمہ دار ہوگامگر اس پر عمل نہیں کیا جا رہاہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر