معاملات کی نگرانی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مظفر گڑھ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر نیکا حکم

معاملات کی نگرانی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مظفر گڑھ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر ...

مظفرگڑھ (بیورو رپورٹ ‘سپیشل رپورٹر) سپریم کورٹ آف پاکستان میں سردار کوڑا خان ٹرسٹ کیس کے درخواست گزار مظفر حسین خان مگسی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بینچ نے ہماری عرضداشت کی سماعت مکمل (بقیہ نمبر8صفحہ12پر )

کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مظفرگڑھ کی سربراہی میں سردار کوڑا خان ٹرسٹ قائم کرتے ہوئے سردار کوڑا خان جتوئی مرحوم کے نام سے قائم ضلع مظفرگڑھ کے چاروں تعلیمی اداروں کو ٹرسٹ کی تحویل میں دینے کے احکامات صادر کیے ہیں جوکہ ہماری 26 سالہ جدوجہد کا ثمر ہے جس پر وہ ضلع مظفرگڑھ کے تمام تعلیمی، سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ ضلع مظفرگڑھ کے عوام کے اجتماعی حقوق کے مقدمہ کا فیصلہ ہوا ہے۔ انہوں نے مظفرگڑھ پریس کلب میں بلوچ ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر بشیر خان بلوچ، ادارہ فکرو ثقافت کے صدر حافظ محمد اکبر نقاش، سٹی کونسلر لیاقت خان پٹھان اور انجمن شہریان کے صدر مختیار حسین چوغطہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1992 ئمیں ممبر پنجاب بار کونسل سید منصور احمد شاہ بخاری کی مشاورت اور معاونت سے مشترکہ طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں عرضداشت پیش کی تھی جس کی 1993 ئسے سماعت شروع ہوئی اور ان 25 سالوں میں سپریم کورٹ کے مختلف بینچ اجتماعی مفاد عامہ کے اس اہم ترین معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے اپنی اپنی ابزرویشن دیکر 83 ہزار کنال سے زائد اراضی مفاد عامہ کیلئے وقف کرنے والے عظیم انسان سردار کوڑا خان جتوئی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عظیم وقف کی آمدن میں ہونیوالی خورد برد پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ اور ضلع کونسل مظفرگڑھ کے حکام کو جوابدہی کیلئے طلب کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور ضلع کونسل کے حکام کو یہ غلط فہمی لاحق رہی کہ طویل سماعت کی وجہ سے پٹیشنرمفاد عامہ کے اس اہم ترین معاملہ کی پیروی ترک کر دیں گے لیکن ہم مفاد عامہ کیلئے اس عظیم وقف کی حفاظت کیلئے مسلسل جدوجہد کرتے رہے اور سپریم کورٹ میں ہر تاریخ سماعت پر حاضر ہوکر اپنا مدعا عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کرتے آئے۔ انہوں نے کہا کہ طویل سماعتوں کے بعد 11 اکتوبر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے ہماری عرضداشت پر مختصر زبانی فیصلہ سناتے ہوئے سردار کوڑا خان ٹرسٹ کے معاملات کی نگرانی کیلئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مظفرگڑھ کی سربراہی میں ٹرسٹ کمیٹی کا حکم صادر کیا تاہم ابھی تک ہمیں سپریم کورٹ کے مفصل فیصلہ کی نقل نہیں مل سکی اس لیے وہ اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتے، سپریم کورٹ کے مفصل فیصلہ کی نقل ملنے کے بعد اس کا مطالعہ کرتے ہوئے آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سردار کوڑا خان وقف اراضیات کا معاملہ سپریم کورٹ میں لے جانے اور اسکی مسلسل پیروی کے دوران انہیں مقامی سیاسی، سماجی اور عوامی نمائندوں سے مطلوبہ تعاون نہ مل سکا جبکہ ضلع بھر کے نوجوان ہمارے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہے اور ہمیں خدا رسول کے واسطے دیکر اپنی عرضداشت کی پیروی کر کے ضلع مظفرگڑھ کی نئی نسل کیلئے تعلیمی ادارے اور سردار کوڑا خان یونیورسٹی کے قیام کیلئے تحرک کرنے کے مفید مشورے اور تجاویز بھی دیتے رہے جس پر وہ ضلع کے تمام سابقہ اور موجودہ طالب علموں کے بھی شکر گزار ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم اجتماعی حقوق کے تحفظ کیلئے اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنیکا واحد مقصدمحسن مظفرگڑھ سردار کوڑا خان جتوئی مرحوم کے مقصد اور مشن کی حفاظت اور اپنے ضلع کے غریب گھرانوں کے طالب علموں کو بہتر تعلیمی سہولیات دلانا تھا، سپریم کورٹ سے رجوع کرنے میں ہمارا کوئی ذاتی مفاد ہرگز نہ تھا بلکہ ہم نے اجتماعی حقوق کی بازیابی اور تحفظ کیلئے ملک کی سب سے بڑی عدالت سے رجوع کیا اور ہمیں خوشی ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی ہمیں پورے تحمل سے اس اہم ترین معاملے کی سماعت کی بلکہ جب عدالت کے سامنے تمام تر حقائق واضح ہوئے تو ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے تاخیری حربوں کے باوجود بھی معاملے کو پوری سنجیدگی اور دلچسپی سے سماعت کیا جاتا رہا اور بحیثیت پٹیشنر میری حوصلہ افزائی بھی کی جاتی رہی۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے ہم نے اپنی تجاویز پیش کی تھیں اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن نے بھی اپنا نقطہ نظر پیش کیا تھا، اس لیے ٹرسٹ کے قیام کے بارے میں سپریم کورٹ کاتفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ضلع بھر کے عوامی حلقوں کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے تمام احباب کی مشاورت سے آئندہ لائحہ عمل کا بھی فیصلہ کیا جائیگا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر