ضمنی انتخابات امن وامان کی مجموعی صورتحال کنٹرول میں رہی

ضمنی انتخابات امن وامان کی مجموعی صورتحال کنٹرول میں رہی

لاہور(رپورٹنگ ٹیم ) صوبائی درالحکومت میں ضمنی انتخابات کیلئے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے دو دو حلقوں میں پر امن انداز میں بڑے کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملے ۔گوالمنڈی اور مصری شاہ کے علاقہ میں تحریک انصاف اور ن لیگ کے کارکنوں کے درمیان تصادم، فائرنگ کے نتیجہ میں ایک کارکن شدید زخمی ہوگیا۔این اے 124میں این اے 131کے مقابلے میں کارکنوں میں انتخابی بخار سر چڑ ھ کر بولا اور یہاں کارکنوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا اسی طرح پی پی 165کے مقابلے میں پی پی 164میں کارکنوں کا انتخابی جوش و جذبہ بھی عروج پر رہا ۔تاہم پورے شہر میں پر امن انداز میں پولنگ کا عمل مکمل ہوا صرف این اے 131میں نادر آباد کے پولنگ سٹیشن پر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں اس وقت بد مزگی پیدا ہو گئی اور (ن) اور جنون آمنے سامنے آگئے جب پی ٹی آئی کے امیدوار ہمایوں اختر خان اس پولنگ سٹیشن پر پہنچے تو (ن) لیگ کے کارکنوں نے ان کا گھیراؤ کر لیا اور لوٹا لوٹا کے نعرے لگانے شروع کردئیے جس کے جواب میں جنون کے نوجوان بھی اپنے امیدوار کے دفاع میں آئے اور انہوں نے بھی جوابی طور پر چور چور کے نعرے فضاء میں بلند کئے تو حالات خراب ہوتے دیکھ کر پاک فوج کے جوانوں نے مداخلت کرتے ہوئے (ن) اور جنون کو الگ الگ کردیا اور ان کو وہاں سے روانہ کیا ۔این اے 124میں (ن) لیگ کے شاہد خاقان عباسی اور پی ٹی آئی کے غلام محی الدین دیوان میں مقابلہ ہوا ۔این اے 131میں ہمایوں اختر خان اور سعد رفیق میں دن بھر کانٹے دار مقابلہ جاری رہا ۔اسی طرح پی پی 164میں پی ٹی آئی کے یوسف علی اور سہیل شوکت بٹ میں مقابلہ رہا جبکہ پی پی 165میں ملک سیف کھوکھر اور منشاء سندھو میں مقابلہ رہا ۔پولنگ صبح آٹھ بجے سے لیکر بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہی اس موقع پر پولیس رینجرز اور افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں نے سیکورٹی کے اعلیٰ انتظامات کا ثبوت پیش کیا پولنگ سٹیشنوں کے باہر پولیس مین دروازوں پر رینجرز اور اور اند ر افواج کے جوان تعینات کئے گئے تھے ۔اسی طرح سیکورٹی کے تین سطحی انتظامات کئے گے تھے زیادہ تر پولنگ سٹیشنوں پر امیدواروں کی طرف سے ووٹرز اور سپورٹرز کے لئے پر تکلف کھانے کا انتظام کیا گیا تھا اور بعض جگہوں پر دودھ کی سبلیں بھی لگائی گئی تھیں ۔ان حلقوں میں دن بھر (ن) اور جنون کے کارکنان آمنے سامنے آتے رہے اور ٹولیوں کی صورت میں ریلیاں نکال کر اپنے اپنے امیدواروں کا جوش و جذبہ بڑھاتے رہے ان چاروں حلقوں میں جشن کا ساسماں رہا بعض پولمنگ سٹیشنوں پر پولنگ سٹیشن دوپہر تک ویران رہے لیکن دوپہر کے بعد کی صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی اور ووٹرز بڑی تعداد میں نکل آئے بعض پولنگ سٹیشوں پر یہ شکایات سامنے آئی کہ ان کے ووٹ ان کے متعلقہ پولنگ سٹیشنوں پر نہیں ہیں جبکہ ڈی ایچ اے کے اکچھ پولنگ سٹیشنوں پر رش انتہائی کم رہا ۔مرد ووٹرز کیساتھ ساتھ خواتین کی بڑی تعداد بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے پولنگ سٹیشن پہنچی۔تاہم دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں نے مداخلت کرکے معاملہ کو رفع دفع کردیا۔ اس کے باجود پولیس نے کارکنوں کو چیئرمین سمیت گرفتار کرلیا ، جس پرمسلم لیگ ن کے چئیرمین فیاض ورک اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین گلو خان نے ملکر پولیس کی غنڈہ گردی سے تنگ آکر روڈ کو بلاک کر دیا۔اورچوک ناخدا بلاک کرکے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ گوالمنڈی کے علاقہ میں زخمی ہونے والے کارکن محمد اسلم کو میوہسپتال میں داخل کروادیا گیا جہاں اُس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے پولیس کے مطابق واقع کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور دوسری جانب مصری شاہ کے علاقہ میں کارکنوں کی گرفتاری پر رات تک مظاہرے کا سلسلہ جاری رہا۔آخری اطلاع کے مطابق پولیس نے گرفتار کارکنوں کو رہا کردیا ہے۔

لاہور پولنگ سٹیشنز

راولپنڈی،ملتان،ٹیکسلا(نیوزایجنسیاں) 35قومی اور صوبائی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے موقع پر امن و امان کی مجموعی صورتحال کنٹرول میں رہی تاہم راولپنڈی کے حلقہ این اے 63کے پولنگ سٹیشنوں کے باہر (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکنوں میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کئی کارکن زخمی ہو گئے ،پولیس کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قائم کئے جانے والے کیمپ اکھاڑ دئیے گئے ، امیدواروں کے دوروں کے دوران کارکن ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ۔تفصیلات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موثر حکمت عملی کی وجہ سے امن و امان کی مجموعی صورتحال کنٹرول میں رہی تاہم چند ایک مقامات پر سیاسی کارکنوں کے درمیان لڑائی جھگڑوں کے واقعات ہوئے۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 63 راولپنڈی میں بھی مسلم لیگ (ن)اور پی ٹی آئی کے کارکنوں میں تصادم ہوا اور کئی کارکنوں کے کپڑے پھٹ گئے ۔ملتان میں پی پی 222 جلالپور پیروالہ کے علاقے میں پولنگ اسٹیشن نمبر 88 کھاکھی پنجانی پر بھی جھگڑا ہوا۔ تحریک انصاف کے امیدوار رانا سہیل نون کی گاڑی پر آزاد امیدوار شازیہ کھاکھی کے حامیوں نے دھاوا بولتے ہوئے مبینہ طور پر پتھرا ؤکیا جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی امیدوار کی گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ٹیکسلا کے حلقے این اے 63 میں ن لیگ اورپی ٹی آئی کے کارکنان آمنیسامنے ا? گئے، دونوں جانب سے ایک دوسے کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تاہم صورتحال مزید بگڑنے سے قبل ہی معززین علاقہ نے معاملہ رفع دفع کروا دیا۔ذرائع کے مطابق علاقے میں صورتحال کنٹرول میں ہے تاہم دونوں جماعتوں کے کارکنان میں کشیدگی تاحال موجود ہے۔

کارکن زخمی

مزید : صفحہ اول