نعلین پاک چوری کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم ، پٹواریوں کی تعیناتیوں کا نوٹس

نعلین پاک چوری کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم ، پٹواریوں کی ...

لاہور (نامہ نگار)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثارنے بادشاہی مسجد سے نعلین پاک چوری کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا،عدالت نے قراردیا کہ جے آئی ٹی میں حساس اداروں اور پولیس کے افسرشامل ہوں گے ۔چیف جسٹس نے پیر ایس اے جعفری کی بادشاہی مسجد سے نعلین مبارک کی چوری کے معاملے پر دی گئی درخواست کی سماعت شروع کی توسیکرٹری اوقاف ذوالفقار علی گھمن ،ڈی جی اوقاف اورایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل امتیاز کیفی عدالت میں پیش ہوئے،سیکرٹری اوقاف نے عدالت کوبتایا کہ 2002ء میں نعلین مبارک چوری ہوئے،وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم سمیت 10مرتبہ مختلف تحقیات کی گئیں،ڈیوٹی پر موجود ذمہ داروں کو بھی محکمانہ سزائیں دیں،چیف جسٹس نے محکمہ اوقاف کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ شرم کی بات ہے کہ اتنی مقدس چیز کی حفاظت نہیں کر سکے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل امتیاز کیفی نے بتایا کہ نعلین مبارک نمائش کے لئے 2001 برونائی لے جائے گئے جس کے بعددوبارہ انہیں بادشاہی مسجد میں رکھ دیا گیاتھا، 2002 ء میں زائرین کے بتانے پر چوری کا انکشاف ہوا،چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جے آئی ٹی اپنی تحقیقات مکمل کرکے جامع رپورٹ عدالت میں پیش کرے ۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثارنے مزاروں کے گلوں میں جمع ہونے والی رقم کے استعمال کے معاملے پر فرانزک آڈٹ کرنے کا حکم دے دیا،فاضل جج نے دوران سماعت ریمارکس د یئے کہ محکمہ اوقاف کے افسروں نے بندر بانٹ لگا رکھی ہے۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس نے زائرین سے مزاروں کو حاصل ہونے والی رقم کے استعمال کے معاملے پرسماعت کی،عدالت میں سیکرٹری اوقاف ذولفقار گھمن اور ڈی جی اوقاف پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امتیاز کیفی نے عدالت کوبتایا کہ 2018 ء میں مزاروں کے گلوں سے 80 کروڑ روپے جمع ہوئے،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ رقم زائرین کی بہتر سہولیات کے لئے استعمال ہونی چاہیے لیکن اس کا درست استعمال نہیں ہورہا ، محکمہ اوقاف کے وکیل نے کہا کہ اس رقم سے ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن ادا کی جاتی ہے جس پر چیف جسٹس نے سیکرٹری اوقاف سے استفسار کیا کہ وہ آخری دفعہ داتا صاحب دربار اور بابا سلطان باہو کے مزاروں پر کب گئے اور کیا اقدامات کئے؟ سیکرٹری اوقاف نے جواب دیا کہ وہ 6 دن پہلے دتا دربار گئے تھے ۔چیف جسٹس نے محکمہ اوقاف کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کر تے ہوئے محکمہ اوقاف کا فرانزک آڈٹ کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔چیف جسٹس پاکستان مسٹرجسٹس ثاقب نثار نے نابینا لڑکی کو تحریری امتحان نمایاں نمبروں میں پاس کرنے کے باوجود ملازمت نہ دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ نابینا لڑکی کو اس کا حق دیا جائے ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کے روبرو نابینا لڑکی حجاب قدیر پیش ہوئی ۔درخواست گزار لڑکی نے عدالت کوبتایا کہ اس نے تحریری امتحان میں نمایاں نمبر حاصل کئے لیکن انٹرویو میں اسے فیل کر دیا گیا ،سیکرٹری پبلک سروس کمشن نے عدالت کو بتایا کہ تحریری امتحان اور انٹر ویو کے لئے 100 سو نمبر مختص کئے گئے تھے لیکن لڑکی انٹرویو میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کے باوجود تحریری امتحان اور انٹرویو کے مساوی نمبر کیوں رکھے گئے ؟چیف جسٹس نے مزیدریمارکس دئیے کہ کیا مساوی نمبر رکھنے کی وجہ اپنے پیاروں کو ایڈجسٹ کرنا اور بڑوں کی سفارش پر عمل کرنے کے لئے رکھے گئے ہیں ،اللہ تعالی کا خوف کریں ایسے افراد کو دیکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس نے باور کروایا کہ عدلیہ میں بھی نابینا نوجوان سول جج کو بھرتی کیاگیا، لوگ تو نابینا افراد کو سڑک عبور کرواتے ہیں اور آپ ان کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں،عدالت میں نابینا لڑکی کے شوہر نے ملازمت نہ دینے کے اقدام کو امتیازی سلوک قرار دیا۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ نابینا لڑکی کو اس کا حق دیا جائے اور اس بارے عمل درآمد رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے عارف والا میں خواجہ سراؤں کے مکان پر قبضے کے خلاف درخواست پرڈی آئی جی لیگل عبدالرب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں عارف والا سے آئے خواجہ سراؤں کی درخواست پر سماعت کی، خواجہ سراؤں نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عارف والا میں ان کے گھر پر با اثر افراد نے قبضہ کر لیا ہے، ملزمان سفیان وغیرہ کے خلاف مقدمہ بھی درج ہے جبکہ ان کی ضمانتیں بھی خارج ہو چکی ہیں ،ملزمان نے پولیس کے ساتھ ساز باز کر رکھی ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ ہمارے گھر کا قبضہ دلوایا جائے ، چیف جسٹس نے مذکورہ بالا احکامات کے ساتھ مزید سماعت آئندہ پیشی تک ملتوی کردی۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثارنے لاہور کے پٹوارخانوں اور پٹواریوں کی تعیناتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے جواب طلب کر لیاہے۔چیف جسٹس نے قبرستانوں کی اراضی کے انتقال کے معاملے پرسپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں سماعت کی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ پٹواری اب کس قانون کے تحت کام کر رہے ہیں ؟ چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ معصوم لوگوں کے ساتھ فراڈ کیا جاتا ہے ،لینڈ ریونیو اتھارٹی کی بجائے پٹواری کس حیثیت میں انتقال کر رہے ہیں؟ ، چیف جسٹس نے خبردار کیا کہ اگر قانونی جواز پیش نہ کر سکے تو پٹواریوں کو نکال دیا جائے، چیف جسٹس نے اس معاملے پر مزید کارروائی ایک ہفتے تک ملتوی کر دی۔چیف جسٹس پاکستان نے نجی سکولوں کی بھاری فیسوں کی وصولی کا معاملہ کارروائی کے لئے سپریم کورٹ کے 3رکنی بنچ کو بھجوا دیا ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں والدین اور بچے چیف جسٹس کے روبرو پیش ہوئے اور عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ان سے بھاری فیسیں وصول کی جاری ہیں ،نجی سکول انتظامیہ عدالتی حکم کے باوجود کوئی بات سننے کو تیار نہیں،بچوں کے والدین نے مزید بتایا کہ بھاری فیسوں کے بارے میں عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا جارہا ،عدالت سے استدعا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کئے جائیں۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف دائردرخواست مسترد کردی ۔فاضل جج نے شہری کی جانب سے بے بنیاددرخواست دائر کرنے پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے قرار دیاکہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی معاہدہ کے مطابق سرچارج لینے کی مجاز اور خریدار واجب الادا واجبات اداکرنے کا پابند ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس نے عبدالرحمن بٹ کی درخواست پر سماعت کی ،نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ( سی ای او)گوہراعجاز عدالت میں پیش ہوئے ، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امتیاز کیفی نے عدالت میں رپورٹ پیش کی،درخواست گزار عبدالرحمن بٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اس نے ایک پلاٹ کی خریداری کے لئے رقم کی ادائیگی کردی ہے ، سرچارجز نہ دینے کے باعث پلاٹ نام نہیں کیاجارہا، چیف جسٹس کے استفسار پر نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے سی ای او گوہر اعجاز نے عدالت کوبتایا کہ درخواست گزار نے معاہدہ کے مطابق رقم کی ادائیگی نہیں کی ،10 سال تک ادائیگی نہ ہونے پر معاہدے کے مطابق پلاٹ کی الاٹمنٹ منسوخ کرسکتے تھے ، پھر بھی ہم نے پلاٹ منسوخ نہیں کیا،گوہر اعجاز نے عدالت کو مزیدبتایا کہ 10سالوں میں پلاٹ کی قیمت کئی گنا بڑھی لیکن ہم نے ان سے معاہدے کے تحت ہی رقم وصول کی،خریدار نے 5لاکھ روپے سرچارجز کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی ، ابھی تک درخواست گزار نے اپنے ذمہ تمام واجب الادا رقم بھی جمع نہیں کرائی ہے۔چیف جسٹس نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کے ذمہ واجبات ہیں تو ادا کیوں نہیں کرتے؟چیف جسٹس نے اظہاربرہمی کرتے ہوئے کہا کہ واجبات ادانہیں کرتے اورعدالت کاوقت ضائع کرنے آگئے ہیں ،چیف جسٹس نے درخواست گزار کو تمام واجبات ادا کرنے کا حکم دے دیاہے۔عدالت نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسرگوہر اعجاز کو ہدایت کی درخواست گزار کو تمام اجبات کی ادائیگی کے بعد اپنی پالیسی کے مطابق پلاٹ الاٹ کریں۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول