نابیناؤں کا آج عالمی دن ، ملتان سمیت مختلف شہروں میں تقریبات ، سیمینار ، ریلیاں

نابیناؤں کا آج عالمی دن ، ملتان سمیت مختلف شہروں میں تقریبات ، سیمینار ، ...

ملتان‘ ٹھٹھہ صادق آباد(سٹی رپورٹر‘ نمائندہ پاکستان)دنیا بھر میں نابیناوں کاعالمی دن یوم تحفظ سفید چھڑی آج منایا جائے گا ،اس دن کو منانے کامقصد بینائی سے محروم افراد کے حقوق کی (بقیہ 56نمبرصفحہ7پر )

اہمیت کو اجاگر کرنا ہے یہ دن 1964 سے عالمی سطح پر ہر سال منایا جاتا ہے ، معذوری قدرت کافیصلہ ہے تاہم یہ بات ایک واضح حقیقت کے طور پر سامنے آئی ہے کہ بصارت سے محروم افراد بصیرت سے مالامال ہوتے ہیں صاحب بصارت میں سے بیشتر بصیرت وفراست سے محروم ہوتے ہیں جس کا شکوہ روزنامہ پاکستان کے سروے اور فورم میں گفتگو کرتے ہوئے نابیناوں نے کیا کہ بینا افراد ، صاحب بصارت لوگ ہم پر موٹر سائیکل ،گاڑیوں کے ساتھ چڑھ دوڑتے ہیں ہم متعدد بار بینا لوگوں کے ہاتھوں حادثات کا شکا ر ہوچکے ہیں ،ہماری طرف سے سفید چھڑی کے دیئے گئے اشارے کو دیکھنے کے باوجود کوئی نہیں رکتا جو کہ افسوناک ہے،سفید چھڑی کے اشارے کو ٹریفک قوانین میں شامل کیا جائے ،عالمی یوم تحفظ سفید چھڑی کے موقع پر ملتان میں مختلف ریلیوں ، تقاریب ، سیمینار کا اہتمام کیا جائے گا ، اس ضمن میں ملتان میں قائم نابینا وں کے فلاحی ادارے محمدبن قاسم بلائنڈ سنٹر کے بانی قائم خان کرمانی نے روزنامہ پاکستان فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تاحال نابینا افراد اپنے حقوق سے محروم ہیں نہ ملازمت میں کوٹے پر ایڈجسٹ کیا جارہاہے نہ ویسے قبول کیا جا رہاہے جو کہ معاشرتی بے حسی کی انتہا ہے،اس وقت سب سے بڑا مسئلہ تعلیمی میدان میں نابیناوں کو جائز سہولیات کی عدم فراہمی ہے ، حکومت وعدے اور دعوے تو بہت کرتی ہے عملدرآمد نہیں کرتی ، نابینا افراد کو تمام تر سہولیات اور حقوق ترجیحی بنیادوں پرفراہم کیئے جانے چاہیءں ، ایسے دن منا کر تقاریب کر کے تقریروں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات نظر آنے چاہیءں ۔نابینا ٹیچرنصراللہ اور ذوالفقار نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت جہاں دیگر امور میں نابیناوں کی حق تلفی کی جارہی ہے وہاں ملتان بورڈ کی طرف سے امتحانات کے لئے برل سسٹم اور رائٹر کی عدم فراہمی ہے ، مختلف دیگر بورڈ ز میں برل سسٹم بھی ہے اور بورڈز نابیناطلبا کو رائٹرز بھی خود مہیا کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے ملتان بورڈ میں ایسا ہر گز نہیں ہے ہمار ا تبدیلی کی دعوے دار حکومت سے یہی مطالبہ ہے کہ میٹرک کے امتحانات کے لئے برل سسٹم اور رائٹرز کا بندوبست کرنے کا ملتان بورڈ کو پابند بنایا جائے امتحان کے وقت ہمیں رائٹر ڈھونڈنے میں شدید دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہمیں اس اذیت سے نجات دلائی جائے ۔محمد عمران اور جاوید احمد کا کہنا تھا کہ معذور افراد کا ملازمت میں 2 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے مگر اس پر عملد رآمد نہیں کیا جارہایہ کہاجاتا ہے کہ نابینا افراد کام نہیں کرسکتے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ہم نہ صرف کام درست انداز میں انجام دے سکتے ہیں بلکہ مکمل ایمانداری کے ساتھ اور احسن انداز میں فرائض منصبی ادا کرسکتے ہیں ا س لئے 2 فیصد کوٹہ پر ہمیں ملازمتیں دی جائیں ،نابینا طالبات طوبی اور عائشہ نے کہاکہ ہمارے ساتھ بسااوقات جو امتیازی سلوک برتا جاتا ہے وہ کسی صورت قابل برداشت نہیں ہوتا ، ہم کسی سے کم نہیں اور کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتیں ، ہم تعلیم کے حصول میں کسی چیز کو آڑ نہیں بننے دینگی مگر حکومتی اور دیگر انتظامی اداروں ، بورڈ ز کو چاہیئے کہ وہ تمام تر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور امتیازی رویہ روا نہ رکھا جائے ہم ہر قسمی حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں اور حصول تعلیم کے مشن سے ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گی ، نابینا انسٹرکٹر محمد عمران نے پاکستان سے گفتگو کے دوران کہاکہ ہمیں افسوس ہوتا ہے جب بینا لوگ روڈ کراسنگ کے دوران ہم پرموٹر بائیک اور گاڑیاں چڑھا دیتے ہیں اور ہم متعدد بارحادثات کا شکار ہوچکے ہیں سفید چھڑی کااشارہ ہم دیتے رہتے ہیں مگرلوگ پھر بھی ہمیں حادثات سے دوچار کردیتے ہیں اسلیے ہم آ ج کے دن کے حوالے سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سفید چھڑی کے اشارے کو ٹریفک قوانین میں شامل کیا جائے ۔

سفید چھڑی

مزید : ملتان صفحہ آخر