3جیتی ہوئی نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کی شلست کیس پیغام دیتی ہے ؟

3جیتی ہوئی نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کی شلست کیس پیغام دیتی ہے ؟
3جیتی ہوئی نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کی شلست کیس پیغام دیتی ہے ؟

  


تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

انتخابی فارمولے کی روشنی میں دیکھا جائے تو ضمنی انتخابات میں عموماً حکمران جماعت ہی کامیاب ہوا کرتی ہے، لیکن 14 اکتوبر کے ضمنی انتخابات چونکہ عام انتخابات کے محض 80 دن بعد ہی منعقد ہوئے، اس لئے ضروری نہیں کہ ان پر بھی وہی فارمولا نافذ ہو لیکن اتنا ضرور ہے کہ ووٹرز کا ٹرینڈ تو کم از کم وہی ہونا چاہئے تھا جو عام انتخابات میں دیکھا گیا۔ وزیراعظم عمران خان سے بات شروع کی جائے تو سمجھنے میں آسانی رہے گی، وہ غالباً واحد رہنما تھے جنہوں نے بیک وقت قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں سے کامیابی حاصل کی، اگر ان کا موازنہ 1971ء کے انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو کی کامیابی سے کیا جائے تو وہ بھی اگرچہ پانچ نشستوں پر جیت گئے تھے، لیکن ایک نشست پر ہارے بھی تھے اور یہ نشست تھی ڈیرہ اسماعیل خان کی جہاں مولانا مفتی محمود نے انہیں بڑے مارجن سے ہرایا۔ عمران خان کسی نشست سے نہیں ہارے، لیکن اب ضمنی انتخاب میں پارٹی کے ہاتھ سے عمران خان کی جیتی ہوئی دو نشستیں نکل گئیں۔ ایک تو بنوں کی نشست ہے جہاں عمران خان نے سابق وفاقی وزیر اور سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی کو بھاری اکثریت سے ہرایا، لیکن اب ضمنی انتخاب میں اکرم درانی کے صاحبزادے زاہد درانی نے یہ نشست جیت لی ہے۔ عام انتخابات میں بنوں سے اکرم درانی کی ہار پر حیرت کا اظہار کیا گیا تھا، اب جبکہ ان کے بیٹے نے یہ نشست جیت کر واپس لے لی ہے تو ان لوگوں کی حیرت بجا نظر آتی ہے، جن کا یہ خیال تھا کہ اکرم درانی ہی یہاں سے جیتیں گے۔

دوسرا حلقہ جہاں سے تحریک انصاف کو بڑا دھچکا لگا ہے وہ لاہور کا حلقہ این اے 131 ہے، جہاں عام انتخابات میں عمران خان اور خواجہ سعد رفیق کا مقابلہ ہوا تھا، اور عمران خان بہت کم ووٹوں 680) (سے یہ نشست جیت پائے تھے۔ خواجہ سعد رفیق نے جب ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دی تو اس پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ اپوزیشن جو حلقہ کھولنے کا مطالبہ کرے گی وہی کھول دیا جائے گا، حالانکہ اس وقت یہ مطالبہ الیکشن کمیشن سے تھا، عمران خان حکومت نہیں تھے۔ وہ بطور پارٹی لیڈر اپنا موقف دے رہے تھے، لیکن حیرت انگیز طور پر جب اس حلقے میں خواجہ سعد رفیق کی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی شروع ہوئی تو ابھی پانچ تھیلوں کی گنتی ہی ہوئی تھی کہ سپریم کورٹ کا حکم پہنچ گیا کہ دوبارہ گنتی نہیں ہوگی۔ سعد رفیق کا اس وقت یہی موقف تھا کہ دوبارہ گنتی میں عمران خان کے ووٹ کم ہو رہے تھے اور ان کے بڑھ رہے تھے کہ عمران خان اپنے اعلان کے برعکس سپریم کورٹ میں جاکر حکم امتناعی لے آئے۔ اس حلقے کے نیچے صوبائی اسمبلی کی نشست سعد رفیق نے جیت لی تھی۔ اب جب دوبارہ انتخابات ہوئے تو عمران خان کی چھوڑی ہوئی نشست پر ہمایوں اختر خان تحریک انصاف کے امیدوار تھے جبکہ مسلم لیگ کی طرف سے دوبارہ مقابلہ خواجہ سعد رفیق نے کیا۔ اگرچہ لوگ اس پر حیران ہیں کہ ہمایوں اختر خان اتنے زیادہ ووٹ کیونکر لے گئے، لیکن دوسری جانب یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کہ جس نشست پر ایک پارٹی کا پاپولر سربراہ محض 680 ووٹوں سے جیتا اس پر خواجہ سعد رفیق زیادہ مارجن سے جیت گئے۔ عام انتخابات میں یہ شکایت عام تھی کہ پولنگ ایجنٹوں کو فارم 45 پر مصدقہ نتیجہ نہیں دیا گیا، لیکن حیرت ہے کہ اس ضمنی انتخاب میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی یہ حیران کن انکشاف کر رہے تھے کہ پولنگ سٹیشنوں کے انچارج پریذائیڈنگ افسر ہوتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے حلقے کے 40 پولنگ سٹیشنوں کا دورہ کیا اور وہاں پریذائیڈنگ افسروں کا کنٹرول نہیں تھا، کنٹرول کون کر رہا تھا، اس کی وضاحت تو انہوں نے نہیں کی لیکن الیکشن کمیشن کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے بلکہ شاہد خاقان عباسی کو بلا کر یہ پوچھنا چاہئے کہ کن کن حلقوں میں ایسا ہو رہا تھا اور متعلقہ پریزائیڈنگ افسروں سے یہ پوچھنا چاہئے کہ وہ پولنگ سٹیشنوں کو کیوں کنٹرول نہیں کر پا رہے تھے۔ عام طور پر ایسی شکایات وہ امیدوار کرتے ہیں جو ہار جاتے ہیں یا جنہیں اپنی ہار نظر آرہی ہوتی ہے، لیکن یہاں ایک ایسا شخص یہ شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے جو ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہے اور جسے معلوم ہے کہ کس ادارے کے کیا فرائض ہیں۔ ایسے موقع پر جیتنے والے عام طور پر اپنی فتح کے شادیانے بجا رہے ہوتے ہیں، اپنی جیت کی خوشی میں مٹھائیاں بانٹ رہے ہوتے ہیں، لیکن اگر یہاں ایک جیتا ہوا امیدوار روایت سے ہٹ کر بات کر رہا ہے تو اسے سنجیدگی سے سننے کی ضرورت ہے۔ ان ضمنی انتخابات کا فوری طور پر تو پارٹی پوزیشن پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ البتہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ تحریک انصاف کی جیتی ہوئی تین نشستوں پر مخالفین قابضین ہوگئے۔ دو نشستیں مسلم لیگ (ن) نے جیت لیں اور ایک ایم ایم اے نے، یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنے اور مہنگائی کے مارے ہوئے لوگوں نے کیا ان نمائشی اقدامات کو پسند کیا جو تحریک انصاف کی حکومت کر رہی ہے۔ ایک جانب تو وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں نیلام کرکے چند کروڑ روپے کمائے گئے، 22,20 لاکھ کی بھینسیں بھی بک گئیں، مہمانوں کو چائے بسکٹ کھلا کر سموسوں کے پیسے بچا لئے گئے، لیکن روپیہ دھڑام سے گرا تو ایک ہی دن میں 9 سو ارب روپے کے قرضے بڑھ گئے اور جو بچت بھی ہوئی تھی وہ سب ہوا میں اڑ گئی۔ اسی طرح ایک ہی دن میں سٹاک ایکسچینج بیٹھ گئی، ایسے میں کفایت شعاری کی مہم تو فائر بیک کر گئی، اب جس کے کروڑوں روپے سٹاک ایکسچینج میں ڈوب گئے، اسے یہ کہہ کر دلاسہ تو نہیں دیا جاسکتا کہ تم لاہور یا کراچی کے گورنر ہاؤس کے لان کی سیر کر آؤ اور وہاں لگے ہوئے نادر پودوں کا دیدار کرلو، معیشت ایک ٹھوس حقیقت ہے جس کے ساتھ دل لگی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ایسے کسی مذاق سے لوگوں کے دل بہلتے ہیں۔ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی جیتی ہوئی نشستوں پر اس کے امیدواروں کو ہرا کر یہی پیغام دیا گیا ہے۔

پیغام

مزید : تجزیہ