شہری نے قانون کے رکھوالوں کی قانون شکنی اور پولیس گردی سے پردہ اٹھا لیا

شہری نے قانون کے رکھوالوں کی قانون شکنی اور پولیس گردی سے پردہ اٹھا لیا

چارسدہ (بیورو رپورٹ)19کلو چرس سمگلنگ اور گاڑی کے اغواء کیس میں ہائی کورٹ کے حکم پر رہا ہونے والے شہری نے قرآن پر خلف اُٹھا کر قانون کے رکھوالوں کی قانون شکنی اور پولیس گردی سے پردہ ہٹا دیا ۔ چارسدہ پولیس کے اے ایس آئی نے پنجاب کے شہری سے گاڑی اغواء کی ۔اگلے روز سرقہ شدہ گاڑی اے ایس آئی کے گھر سے برآمد کی گئی اور گاڑی میں 19 کلو چرس رکھ کر مجھ پر اور میرے بھتیجے پر اغواء اور چرس سمگلنگ کا مقدمہ درج کیا گیا ۔ بخت روان ۔تفصیلات کے مطابق قومی وطن پارٹی کے رہنماء بخت روان نے رہائی کے بعد اپنے حجرے میں جرگہ اور میڈیا کے سامنے قرآن پاک پر خلف اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ اور اس کا بھتیجا انعام اللہ گاڑی کے اغواء اورنہ چرس سمگلنگ میں ملوث ہے ۔ پولیس نے ناکردہ جرم کے پاداش میں گرفتار کرکے سمگلنگ اور گاڑی اغوا ء کرنے کے مقدمے میں پھنسا یا ۔ 76دن جیل میں گزارنے کے بعد ہائی کورٹ نے رہا کیا جبکہ بھتیجا انعام اللہ اب بھی جیل کی صعوبتیں بر داشت کر رہے ہیں۔ بخت روان نے انکشاف کیا کہ چارسدہ پولیس کے اے ایس آئی ناصر نے غنی خان روڈ پر پنجاب کے شہری سے لین دین کے تنازعہ پر گاڑی چھین لی اور اگلے روز انذر قلعہ میں چارسدہ پولیس کے اے ایس آئی ناصر کے گھر سے گاڑی برآمد کی گئی ۔ بخت روان نے کہا کہ 16جولائی کو خانمائی پولیس نے دن ایک بجے کے قریب مجھے اور میرے ساتھیوں کو اپنے حجرے سے گرفتار کیا اور خانمائی تھانہ لے گئے جہاں سے میرے ساتھیوں کو چھوڑا گیا جبکہ مجھے سرڈھیری پولیس سٹیشن لے جا کر ڈی ایس پی فضل شیر کے سامنے پیش کیا گیا جہاں سے چار بجے کے قریب مجھے تھانہ بٹگرام منتقل کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ تھانہ بٹگرام میں ملاقات کیلئے آئے ہوئے میرے بھتیجے انعام اللہ کو بھی پولیس نے گرفتار کیا ۔ رات گئے پولیس نے ہمارے آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا ۔ اگلے روز 17جولائی کو ہمیں واپس تھانہ بٹگرام لایا گیا تو سرقہ شدہ گاڑی تھانے میں موجود تھی ۔انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او تھانہ بٹگرام ابراہیم شاہ نے مجھ پر اور میرے بھتیجے پر 17جولائی کی تاریخ میں گا ڑی کے اغواء اور 19کلو چرس سمگل کرنے کا جھوٹا مقدمہ درج کیا جبکہ ڈی ایس پی صابر گل خان نے ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا اور 20ہزار روپے بھی ہتھیا لئے ۔ بخت روان نے سوال اٹھایا کہ 16جولائی کو دوپہر ایک بجے سے ہم پولیس کی تحویل میں تھے تو کس طرح ہم ہتھکڑیوں میں تھانے سے بھاگے اور مہمند ایجنسی سے سرقہ شدہ گاڑی میں چرس سمگلنگ میں ملوث پائے گئے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے ماربل اور چوکر کے پیکٹ بنا کر اسے چرس ظاہرکیا۔ اس موقع پر بخت روان کے بھائی اور ایلیٹ فورس کے جوان غازی روح اللہ جو ایڈیشنل آئی جی خیبر پختونخوا اشرف نور پر خود کش حملے میں معذور ہوئے ہیں نے کہا کہ وہ اپنے محکمے کے تمام افسران کے بڑے شکر گزار ہیں جن کی کو ششوں اور مالی معاونت سے میرا علاج ہو رہا ہے مگر آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود اور دیگر اعلی حکام سے عاجزانہ التماس ہے کہ میرے بھائی بخت روان کے ساتھ جو زیادتی ہو ئی ہے اس حوالے سے شفاف انکوائری کی جائے اور اگر میرا بھائی گاڑی اغوا اور چرس سمگلنگ میں ملوث پایا گیا تو بے شک قانون کے مطابق ان کو سزا دی جائے اور ایسا نہ ہو تو ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے کیونکہ پولیس نے نہ صرف ایک غازی کے گھر کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا بلکہ ان کی بھائی اور بھتیجے کو ناکردہ جرم میں پھنسایا ۔ بخت روان نے بھی وزیر اعظم عمران خان، چیف جسٹس ثاقب نثار ، وزیر اعلی خیبر پختونخو ا محمود خان اور آئی جی خیبر پختونخوا سے انصاف کی فراہمی ،واقعہ کے حوالے سے شفاف انکوائری کرنے اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر دیا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر