ضمنی الیکشن،پی تی آئی 4،مسلم لیگ ن 3قومی سیٹوں پر کامیاب،ق لیگ بھی 2نشستیں جیت گئی ،شاہد خاقان کی پارلیمنٹ میں واپسی

ضمنی الیکشن،پی تی آئی 4،مسلم لیگ ن 3قومی سیٹوں پر کامیاب،ق لیگ بھی 2نشستیں جیت ...

لاہور،اسلام آباد، کراچی ، پشاور، کوئٹہ (رپورٹنگ ٹیم ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) ملک بھر میں 35 قومی اور صوبائی نشستوں پر ہونیوالے ضمنی انتخابات میں اب تک موصول ہونیوالے نتائج کے مطابق تحریک انصاف 4مسلم لیگ ن 3اور مسلم لیگ ق 2قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہو گئی ۔ تحریک انصاف کے امیدوار عمراں خان کی چھوٹی ہوئی چار میں سے 2نشستوں پر کامیاب ہو گئے جبکہ بنوں سے زاہد اکرم درانی کامیاب ہو گئے لاہور کے حلقہ 131میں بھی مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ سعد رفیق کو ہمایوں پر 7ہزار ووٹوں کی بتری حاصل تھی۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق این اے 135 میں ایم ایم اے کے زاہد اکرم درانی این اے 153 میں تحریک انصاف کے علی نواز خان این اے 56 سے مسلم لیگ (ن) کے ملک سہیل خان این اے 60 سے تحریک انصاف کے شیخ راشد شفیق این اے 63 سے تحریک انصاف کے منصور حیات خان این اے 65 سے مسلم لیگ (ق) کے چودھری سالک حسین این اے 69 سے مسلم لیگ (ق) کے چودھری مونس الٰہی این اے 129 سے مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی کامیاب قرار پائے جبکہ این اے 131 میں خواجہ سعد رفیق 52015 ووٹ لے کر سبقت لئے ہوئے تھے جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے ہمایوں اختر کان 43715 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ 27 پولنگ سٹیشنوں کا رزلٹ ابھی آنا باقی ہے۔ این اے 243 کراچی سے تحریک انصاف کے محمد عالمگیر خان 35727 کامیاب قرار پائے۔ پنجاب اسمبلی کے پی پی 3 سے تحریک انصاف کے محمد اکبر خان، پی پی 27 سے مسلم لیگ (ن) کے ناصر محمود پی پی 87 سے تحریک انصاف کے احمد خاں پی پی 103 سے مسلم لیگ (ن) کے جعفر علی پی پی 118 سے آزاد امیدوار چودھری بلال اصغر وڑائچ، پی پی 184 سے مسلم لیگ (ن) کے سہیل شوکت بٹ پی پی 165 سے مسلم لیگ (ن) کے ملک سیف الملوک کھوکھر پی پی 201 تحریک انصاف کے سید صمصمام بخاری پی پی 222 کے آزاد امیدوار قاسم خان پی پی 261 سے تحریک انصاف کے فواد احمد، پی پی 272 تحریک انصاف کے زہرہ بتول اور پی پی 292 مسلم لیگ (ن) کے سردار اویس لغاری کامیاب قرار پائے۔ سندھ اسمبلی کے حلقہ 30 پر پیپلز پارٹی کے احمد رضا شاہ اور پی ایس 87 پر محمد ساجد کامیاب ہوئے جبکہ کے پی کے میں پی کے 3 پر مسلم لیگ (ن) کے سردار خان پی کے 7 پر اے این پی کے وقار احمد، پی کے 44 پر پی ٹی آئی کے عاقب اللہ پی کے 53 پر تحریک انصاف کے عبدالسلام پی کے 61 پر ابراہیم خٹک، پی کے 64 پر پی ٹی آئی کے لیاقت خان، پی کے 78 پر اے این پی کی ثم ہارون بلور، پی کے 97 پر پی ٹی آئی کے فیصل امین اور پی کے 99 سے پی ٹی آئی کے اکرام اللہ گنڈا پور کامیاب ہوگئے۔قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 35 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے چاروں صوبوں میں پولنگ ہوئی۔قومی اسمبلی کی 11 اور صوبائی اسمبلی کی 24 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے شہریوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تاہم بعض حلقوں میں ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ بہت کم دکھائی دیا۔ تمام حلقوں پر پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے شروع ہوا جو بلاتعطل شام 5 بجے تک جاری رہا۔جن حلقوں پر پولنگ ہوئی اس میں اسلام آباد کی نشست این اے 53 سمیت پنجاب میں قومی اسمبلی کی 9، سندھ اور خیبرپختونخوا میں ایک ایک حلقہ شامل تھی پنجاب اسمبلی کی 11، سندھ اور بلوچستان کی دو دو جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے 9 حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوئے۔الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 35 حلقوں میں ووٹنگ کے لیے 7 ہزار 489 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے اور ایک ہزار 727 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا۔پنجاب کے حلقہ پی پی 87 میانوالی اور پی پی 296 راجن پور پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوگئے۔ترجمان الیکشن کمیشن ندیم قاسم کے مطابق ضمنی انتخابات میں پہلی بار سمندر پار پاکستانیوں نے آئی ووٹنگ کے ذریعے حق رائے دہی استعمال کیا اور 5 ہزار سے زائد افراد نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ کیونکہ یہ پائلٹ پراجیکٹ ہے اس لیے اگر اس میں کوئی تکنیکی مسئلہ نہ آیا تو الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹوں کو گنتی میں شامل کیا جا سکتا ہے ورنہ ان کو گنتی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔لاہور کے دو حلقوں پر ملک بھر کے عوام کی نظریں تھیں جن میں این اے 131 پر مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق اور تحریک انصاف کے ہمایوں اختر کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ این اے 124 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا مقابلہ تحریک انصاف کے غلام محی الدین سے ہے جب کہ گجرات سے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الٰہی میدان میں تھے۔۔25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات قومی و صوبائی اسمبلیوں کی بعض نشستوں پر ووٹنگ ملتوی کردی گئی تھی جس میں قومی اسمبلی کا حلقہ این 60 راولپنڈی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حنیف عباسی کی سزا کے بعد انتخاب ملتوی کیا گیا۔بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 35 میں سراج رئیسانی کی شہادت کے باعث ووٹنگ ملتوی کی گئی جب کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشست پی کے 78 میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور کی شہات کی وجہ سے 25 جولائی کو انتخاب ملتوی کیا گیا۔خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشست پی کے 99 پر تحریک انصاف کے امیدوار اکرام اللہ گنڈا پور کی شہادت پر 25 جولائی کو ووٹنگ ملتوی کی گئی تھی۔وزیراعظم عمران خان کی چھوڑی گئی قومی اسمبلی کی 4 نشستوں پر بھی انتخابات ہوئے جن میں این اے 53 اسلام آباد، این اے 131 لاہور، این اے 243 کراچی اور این اے 35 بنوں کی نشست شامل ہے۔این اے 103 فیصل آباد میں آزاد امیدوار کی خودکشی اور پی پی 103 فیصل آباد پر امیدوار کے انتقال پر الیکشن ملتوی کیا گیا۔پی پی 87 میانوالی میں امیدوار احمد خان، پی کے 99 ڈی آئی خان اور پی ایس 87 ملیر کراچی میں بھی امیدواروں کی وفات پر 25 جولائی کو الیکشن ملتوی ہوا تھا۔ضمنی الیکشن 2018 کے دوران پاک فوج کی زیر نگرانی سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے فوج کے جوان پولنگ سٹیشنوں کے اندر اور باہر بھی تعینات کئے گئے تھے1727 پولنگ سٹیشنز انتہائی حساس قرار دیئے گئے پولنگ سٹیشنز کی سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی گئی ۔الیکشن کمشن کی جانب سے ووٹنگ کا عمل شفاف بنانے کیلئے پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر فوجی اہکار تعینات کئے گئے تھے لاہور کے 4 حلقوں میں 15 ہزارپولیس افسران واہلکار تعینات جن میں 650 خواتین پولیس اہلکاربھی شامل تھیں ۔ لاہور کے حلقہ این اے 124 میں 131 پولنگ سٹیشنز حساس قرار دیئے گئے، 284 کو بی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ۔ این اے 131 میں 13 پولنگ سٹیشنز حساس، 229 بی کیٹیگری میں شامل تھے ۔ پی پی 165 کے 9 پولنگ اسٹیشنز حساس اور 113 کو بی کیٹیگری دی گئی ۔ پی پی 164 میں 102 پولنگ اسٹیشنز بی کیٹیگری میں شامل تھے ۔ ایکیٹیگری پولنگ اسٹیشنز پر 2ہزار 754 اہلکار اور بی کیٹیگری پولنگ اسٹیشنز پر 9 ہزار 233 اہلکار تعینات کئے گئے ۔خیبرپختونخوا کی ایک قومی اور9 صوبائی نشستوں پر الیکشن کیلئے سینٹرل پولیس آفس میں الیکشن مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ، سکیورٹی پلان کے تحت کوئیک رسپانس فورس ،بیک اپ، ریزرو اور بکتربند گاڑیاں الرٹ رہی ۔ 1 ہزار 649 پولنگ سٹیشنز میں 584 انتہائی حساس قرار دیئے گئے جبکہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر 12ہزار 148 اہلکار تعینات کئے گئے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول