گنے کے کاشتکاروں کو بقیا جات کی عدم ادائیگی ،سندھ حکومت حرکت میں آ گئی

گنے کے کاشتکاروں کو بقیا جات کی عدم ادائیگی ،سندھ حکومت حرکت میں آ گئی

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ میں گنے کے کاشتکاروں کو بقایاجات کی ادائیگی نہ کرنے والی شوگرملوں کے خلاف سندھ حکومت حرکت میں آگئی ہے۔ کین کمشنر آفیس کے مطابق سندھ کی 18 شوگرملوں نے دس ماہ گذرنے کے باوجود 98 کروڑ روپے ادا نہیں کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق کین کمشنر سندھ کی ہدایت پر دوشوگرملز کے خلاف مقدمات بھی درج کرا دیے گئے ہیں۔ مقدمات ڈگری شوگرمل اور سیری شوگرمل کے خلاف ٹیکنیکل افسران نے مقامی سول کورٹس میں درج کرائے ہیں۔ذرائع کے مطابق اومنی گروپ کی 8 شوگرملوں پر گنے کے آباد گاروں کے 20 کروڑ روپے کے بقایاجات ہیں۔کین کمشنر کی جانب سے اومنی گروپ کی انتظامیہ کو بقایاجات کی جلد ادائیگی کی ہدایت کر دی گئی ہیں مگر اومنی گروپ نے بقایا جات ادا کرنے سے انکار کردیا ہے۔منیجر اومنی گروپ کے مطابق منی لانڈرنگ کیس کی وجہ سے تمام اکاؤئنٹس منجمد ہیں لہذا فی الحال ادائیگی نہیں کر سکتے۔ذرائع کے مطابق اومنی گروپ کی انصاری شوگرمل پردو کروڑ 15 لاکھ اور باوانی شوگرمل پر دو کروڑ 48 لاکھ روپے کے بقایاجات ہیں۔نیو ٹنڈوالہیار شوگر مل چمبڑ پر دو کروڑ 17 لاکھ اور کھوسکی شوگرمل پر دو کروڑ 48 لاکھ روپے بقایا ہیں۔لاڑ شوگرمل پر دو کروڑ نو لاکھ اور نوڈیرو شوگرمل پر دو کروڑ 50 لاکھ روپے بقایا ہیں۔دادو شوگرمل کی جانب تین کروڑ 44 لاکھ اور مہران شوگرمل ٹنڈوالہیار پر دو کروڑ 56 لاکھ روپے کے بقایاجات ہیں۔ٹیکنیکل افسر کے مطابق ڈگری شوگرمل کی جانب گنے کے 200آبادگاروں کے 26 کروڑ روپے بقایا ہیں لیکن انتظامیہ کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کر رہی۔سیری شوگرمل پر دوکروڑ 44 لاکھ روپے بقایا ہیں مگر انتظامیہ نوٹس کا جواب نہیں دے رہی ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول