نئی حکومت اور پرانا چیلنج !!!

نئی حکومت اور پرانا چیلنج !!!
نئی حکومت اور پرانا چیلنج !!!

  


وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر دس ارب ڈالراقتصادی پیکج اور گوادر میں آئل سٹی کی تعمیر کے تاریخی معاہدوں کے حکومتی دعوے دھرے کے دھر ے گئے۔ کوئی بتائے گا کہ باضابطہ معاہدوں سے قبل ہی ایسے دعوے کیوں کیے گئے؟ اور پھر اچانک کیا آفت ٹوٹ پڑی کہ وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ چونکہ سعودی شرائط قابلِ قبول نہیں تھیں , لہذا سعودی عرب سے امداد نہیں لی جائے گی۔

لگتا ہے کہ نئی حکومت نے برادر اسلامی ممالک سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلی تھیں۔ کبھی کبھی حد سے زیادہ خود اعتمادی لے ڈوبتی ہے۔ اربابِ اختیار دورہ سعودی عرب کی کامیابیاں گنواتے نہیں تھکتے تھے ,اچانک یہ کہہ کر یوٹرن لے لیا کہ سعودی شرائط ہمارے مفاد میں ہی نہیں تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے قبل از وقت ہی مٹھائیاں بانٹ دی تھیں۔ پی ٹی آئی حکومت سفارتکاری کابالکل تجربہ نہیں رکھتی۔ بہترہوتاکہ کسی باضابطہ بین الاقوامی معاہدے سے قبل اس کی تشہیرنہ کی جاتی۔ جبکہ حکومت نے یہ غلطی کرہی دی تو یہ بھی بتا دے کہ وہ کون سی شرائط تھیں کہ جن کی بناء حکومت نے سعودی عرب اور یو اے ای سے امداد نہ لینے کا فیصلہ کیا؟؟؟ 

نئے وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ برادراسلامی ممالک سعودی عرب اوریواے ای کے پہلے سرکاری دورے کا ایسا نتیجہ پہلی سفارتی ناکامی ہے , اور ظاہرہے کہ اس سفارتی ناکامی کے پس منظرمیں کئی وجوہات کارفرما ہیں ۔ یمن کے تناظرمیں سعودی مفادات , سعودی عرب پر امریکی اثرورسوخ , چین کا سعودی عرب کی سی پیک میں شمولیت پر ایک مختلف نقطہ نظر اور پاکستان میں بدترین حالیہ کرپشن اسکینڈلز کے باعث دنیا کاہم پرعدم اعتماد اس "سفارتی ناکامی "کی ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں۔ 

حکومت یہ بھی بتائے کہ پالیسی کے خلاف جاکر آئی ایم ایف سے مزید قرضے لینے کا فیصلہ کیوں کرنا پڑا ؟؟؟اسد عمر وزیر خزانہ بننے سے قبل آئی ایم ایف سے قرض لینے کو کسی اور نقطہ نظر سے دیکھتے تھے اور آج وہی اسد عمر سمجھا رہے ہیں کہ قرضے ادا کرنے کیلیے آئی ایم ایف سے مزید قرضے لینے پڑیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں مزید غیر ملکی قرضے نہ لینے اور خود انحصاری کی طرف قدم بڑھانے کا عزم ظاہر کیا تھا اوراب وہ بھی اسدعمر کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آرہے ہیں۔ آج ملک جس خطرناک صورتحال سے دوچارہے۔ اس کے پیشِ نظراقتصادی مشاورتی کونسل کے ایک رکن ڈاکٹر اشفاق حسن خان بھی آئی ایم ایف کے پاس جانے کو تباہ کن اور غلط فیصلہ قرار دے چکے ہیں ۔ ڈاکٹر اشفاق حسن خان کے مطابق پاک امریکہ تعلقات ماضی سے مختلف دور میں داخل ہو چکے ہیں اور آئی ایم ایف چونکہ امریکی اثرورسوخ سے آزاد نہیں لہذٰا آئی ایم ایف کے پاس جانا موجود حالات کی مناسبت سے بہتر نہیں ہوگا۔

حالیہ دنوں میں جس طرح اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رحجان دیکھنے میں آیا , اس کی ایک بڑی وجہ آئی ایم ایف کی مزید قرضوں کے اجراء کیلیے عائد کردہ کڑی شرائط ہیں۔ آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ہمیں بجلی , گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا , ڈالر کی قدر بڑھانی اور روپے کی قدر کم کرنا پڑی , جس کے نتیجے میں مہنگائی کا نیا طوفان آیا اور اشیائے خوردونوش کے نرخ بھی آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ آئندہ چند سالوں کے دوران ہم آئی ایم ایف کے گرداب میں یوں ہی پھنسں رہیں گے , نہ غیرملکی قرضے کم ہوں گے نہ معیشت بہتر ہوگی۔ اگر آئی ایم ایف سے ریلیف ملتا بھی ہے تو بھی قرض کی ادائیگی کیلئے مزید قرض لینا مسائل کاجامع حل نہیں ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کا آسان راستہ چن لیا ہے , یہ وہی راستہ ہے کہ جس پر ماضی کی حکومتیں چلا کرتی تھیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کہ اپوز یشن لیڈر پی ٹی آئی کو ماضی کی حکومتوں کے نقشِ قدم پر چلنے کا باضابطہ طور پر طعنہ بھی دے چکے ہیں۔ مجھے عمران خان کی اقتصادی ٹیم سے ایک بہتر اور نئی معاشی پالیسی کی توقع تھی۔ نئی حکومت پرانی ڈگر پر چل پڑی ہے ,جوکہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ کیا آئی ایم ایف کے پاس جانا آخری آپشن رہ گیاتھا؟ اس کاجواب ماہرین معاشیات زیادہ بہتر طورپر دے سکتے ہیں۔

۔

ادارے کا کسی بھی بلاگر کے ذاتی نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید : بلاگ