اسلام آباد میں ایران اور سعودی عرب کی میزبانی

اسلام آباد میں ایران اور سعودی عرب کی میزبانی

  



پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری تنازعات حل کرنے کے لئے اسلام آباد میں اجلاس بلانے کی پیشکش کر دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان ثالث کا نہیں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دونوں ملکوں کو قریب لانے کی کوششوں اور دوستی کا آغاز پاکستان کا اپنا فیصلہ ہے، کسی اور کے کہنے پر ایسا نہیں کر رہے، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ پیچیدہ معاملہ ہے لیکن اسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے تنازع سے نہ صرف خطے کے امن و سلامتی بلکہ معیشت کو بھی شدید خطرہ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازع پیدا نہ ہو، ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لئے پاکستانی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، ایران چاہتا ہے کہ یمن میں جنگ فوراً بند کی جائے، امریکہ ایران پر پابندیاں اٹھائے، ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔

پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لئے کوششیں اپنے طور پر کی ہیں یا ان کوششوں کے پس پردہ بعض دوسرے ملکوں کی نیک خواہشات بھی شامل ہیں۔ دونوں صورتوں میں یہ کوششیں لائق تحسین ہیں اور ان کو نتیجہ خیز ہونا چاہئے، کئی سال سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں، حالانکہ دنیا بھر میں ایسے رسمی تعلقات متحارب ملکوں کے درمیان بھی ہوتے ہیں اور انتہائی کشیدگی کے دنوں میں بھی منقطع نہیں ہوتے، اس لئے پاکستان کو ابتدائی طور پر یہ کوشش کرنی چاہئے کہ سعودی عرب اور ایران سفارتی تعلقات دوبارہ قائم کرنے پر رضا مند ہو جائیں۔ اس سے حج اور عمرہ کے لئے ایرانیوں کی آمد آسان ہو جائے گی۔ اگرچہ سعودی حکومت کی مہربانی سے اس بار بھی ایرانی باشندوں کو حج کی سہولت فراہم کی گئی، تاہم اگر دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بھی ہوں تو حاجی یہ دینی فریضہ زیادہ بہتر انداز میں ادا کرسکتے ہیں اور دوران حج انہیں نقل و حرکت کی کم سے کم مشکلات پیش آسکتی ہیں، اب جبکہ پاکستان دونوں ملکوں کو قریب لانے کا بیڑہ اٹھا چکا ہے ابتدائی طور پر سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لئے اقدامات اٹھا لئے جائیں تو یہ ایک اچھی ابتدا ہوگی اور آگے بڑھنے کے لئے اسے ایک جمپنگ بورڈ کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، کیونکہ جب کبھی ملکوں کے درمیان شکررنجی پیدا ہوتی ہے تو پیچیدہ معاملات کو ایک طرف رکھ کر سادہ اور جلد حل ہوسکنے والے معاملات پر بات کرکے انہیں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سفارتی تعلقات تو معمول کی مشق ہی ہوتے ہیں اگر دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی اختلافات حل نہ بھی ہوں یا ان کے حل کے لئے مذاکرات زیادہ وقت لیں تو بھی سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کرکے ایک اچھی ابتدا کی جاسکتی ہے۔ ایسے اقدام کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگلے مراحل آسان ہو جائیں گے اور پھر قدم بہ قدم آگے بڑھا جا سکے گا۔ دونوں ملکوں میں اگرچہ اختلافات خاصے گہرے ہیں لیکن بہت سے مشترکہ امور ایسے ہیں جن پر کوئی اختلاف ہی نہیں اور انہیں فوری طور پر دور بھی کیا جاسکتا ہے، اب بہت سے مسائل ایسے ہیں جن میں وہ شدت بھی باقی نہیں رہ گئی جو اختلافات کے آغاز میں تھی، قطر کے معاملے میں دونوں ملکوں کے درمیان جو اختلافات پیدا ہوئے اب ان میں پہلے والی شدت باقی نہیں رہ گئی۔

کچھ عرصہ پہلے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران کے بارے میں بڑے مثبت خیالات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات جنگ کے ذریعے حل کرنا حماقت ہوگی، کیونکہ اس طرح تیل کی قیمتیں ناقابل تصور سطح تک پہنچ جائیں گی اور پوری دنیا کی معیشت اس جنگ سے متاثر ہوگی، سعودی ولی عہد تو جنگ کی تباہ کاریوں کے اثرات کو محسوس کرتے ہیں اور عالمی معیشت سمیت اس کے تباہ کن اثرات سے خائف ہیں، لیکن خطے میں بعض ملکوں کے مفادات امن سے نہیں جنگ سے وابستہ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات نہ صرف کشیدہ رہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان چھوٹی موٹی جنگ بھی ہو جائے۔ اسرائیل تو ایسی جنگ کو وسیع کرکے خوش ہوگا، کیونکہ خطے میں ایران واحد ملک ہے جو اسرائیل کی مسلمان دشمن پالیسیوں کا نہ صرف ناقد ہے بلکہ کھل کر انہیں ہدف تنقید بھی بناتا ہے۔ اسرائیل نے اپنے بڑے ہمسایہ ملکوں کی زمینیں جنگ میں ہتھیالی تھیں جو آج تک خالی نہیں کیں اور یہ ملک آج تک انہیں واپس لینے کے لئے کوئی اقدام نہیں کرسکے، اب اسرائیل نے ان علاقوں کو اسرائیل کا حصہ بنا لیا ہے۔ اسرائیل کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں پر ایرانی قیادت کھل کر نکتہ چینی کرتی ہے اور اسرائیل کے مربی ملک امریکہ کو بھی نشانہ بناتی ہے۔ اسی وجہ سے ایران ہمیشہ اسرائیل کی نگاہوں میں کھٹکتا رہتا ہے۔ اسرائیل خود تو براہ راست ایران پر حملے کی پوزیشن میں نہیں اس لئے وہ ایران کو خطے کے دوسرے ملکوں سے لڑانے کی سازشیں کرتا رہتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چونکہ نظریاتی اختلافات بھی ہیں اس لئے ان دونوں کو لڑانا آسان ہے۔ تاہم حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ شہزادہ محمد خطے میں جنگ کی ہولناکیوں کے بارے میں باخبر ہیں اور دنیا کو بھی اس سے باخبر رکھتے ہیں اس لئے ان کی ہوش مند قیادت سے یہی امید ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تنازعات کم سے کم کریں گے اور بہتری کے سفر کا آغاز کرنے کے ساتھ ہی فوری طورپر سفارتی تعلقات بحال کرلیں گے۔

سعودی اور ایرانی قیادت کی اسلام آباد میں میزبانی اچھا فیصلہ ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت اگر پاکستان کے دارالحکومت میں جمع ہوگی تو اختلافات کے خاتمے میں بڑی مدد ملے گی اور بہت سے امور طے ہونے کی بھی امید ہے۔ آغاز چھوٹے چھوٹے امور سے کرکے بڑے معاملات کی جانب تیزی سے آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے دونوں برادر ملکوں کے ساتھ جو قریبی تعلقات ہیں اس کا فائدہ اٹھا کر دونوں ملکوں کو قریب تر لایا جاسکتاہے۔ البتہ بعض امور ایسے ہیں جن کا ذرا زیادہ گہرائی میں جاکر جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ ان کی جڑیں صدیوں میں پیوست ہیں اور ان کا حل آسانی سے تلاش کرنا مشکل ہے۔ فریقین سمیت پاکستان کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ صدیوں پرانے یہ اختلافات آسانی سے حل کرنا مشکل ہے تاہم اکیسویں صدی میں روشن خیالی سے غور کرکے ان کا بھی کوئی نہ کوئی حل نکالا جاسکتا ہے۔ توقع ہے کہ اسلام آباد کی یہ کوششیں کامیاب ہوں گی اور امہ کے دو بڑے ملک پھر سے ایک دوسرے کے دوست بن جائیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ