سیاسی ٹریفک کا بھی کوئی قانون ہے؟

سیاسی ٹریفک کا بھی کوئی قانون ہے؟
سیاسی ٹریفک کا بھی کوئی قانون ہے؟

  

دنیا میں جہاں جہاں بھی جمہوریت رائج ہے اور ملک کا نظام جمہوری ہے، وہاں مختلف قسم کے نظریات و سوچوں کا احترام بھی کیا جاتا ہے اور مختلف لوگ یا جماعتیں اپنے نظریات اور مطالبات کو منوانے کے لئے احتجاجی تحریکیں بھی چلاتی ہیں۔ جو زیادہ تر پُرامن ہی ہوتی ہیں۔ عوام کی اکثریتی رائے کو دیکھتے ہوئے حکومتیں ان کے مطالبات پر غور اور بعض اوقات عمل بھی کرتی ہیں، لیکن آج تک کسی بھی جمہوری ملک میں کبھی کوئی احتجاجی تحریک ایسی نہیں دیکھی، جیسی ہمارے ہاں چلتی ہیں۔ موجودہ پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی تحریک چلی ہو جس کے پس پشت ذاتی مفادات نہ ہوں یا کوئی ایسا احتجاج ہوا ہو، جس کا مقصد عوام کی بہتری ہو، 1977ء میں مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود مرحوم کی زیر قیادت اٹھنے والی نظام مصطفی کی تحریک ایک طویل مارشل لاء پر منتج ہوئی، جس نے ہمیں تقسیم در تقسیم کیا، برادری ازم اور علاقائی تحریکوں کا احیاء ہوا، ملک میں کلاشنکوف اور منشیات کلچر عام ہوا اور سیاسی افراتفری کی کئی نئی اقسام متعارف ہوئیں، اسمبلیوں کے اندر ہارس ٹریڈنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ابھی تک جمہوریت کا پودا کملا رہا ہے۔

کیا ہماری قوم نے اس کے بعد بھی کچھ نہیں سیکھا؟ اگر ہم ماضی قریب کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہی نظر آتا ہے کہ ہم نے کچھ نہیں سیکھا، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ بے مقصد احتجاجوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے دور میں طاہر القادری انقلاب کا نعرہ لے کر اپنے نظریاتی ساتھیوں خواتین اور بچوں کے ساتھ اسلام آباد میں جلوہ گر ہوئے، بظاہر ان کی باتیں اور دعوے مسحور کن تھے، لیکن اس انقلاب کے گند کے ڈھیر اسلام میں چھوڑ کر اصلی انقلاب جیب میں ڈال کر قادری صاحب کینیڈا سدھار گئے۔ اس کے بعد مسلم لیگ(ن) کے دور میں جب اپنے کپتان صاحب کو کہیں سے اطلاع ملی کہ خان صاحب آپ کو نہیں پتا کہ آپ تو انتخابات جیت چکے تھے، آپ کو دھاندلی سے ہرا دیا گیا ہے۔ جس میں 35 پنکچر نجم سیٹھی صاحب نے لگائے اور باقی کام افتخار چودھری اور جیو والے کر گئے ہیں پھر خان صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان کر دیا۔ ان کے اس اعلان کے ساتھ ہی طاہرالقادری کو بھی ایک بار پھر انقلاب یاد آگیا اور وہ بھی ساتھ ہو لیے۔

عمران خان کے ساتھ دھرنے میں بیٹھے قادری صاحب ایک بار پھر انقلاب اور ماڈل ٹاؤن میں ہونے والی ریاستی دہشت گردی کے انتقام کا نعرہ لے کر آئے تھے۔ یہاں تک کہ اپنی قبر بھی کھدوا لی۔ مقصد یہ کہ انقلاب لا کر رہیں گے یا پھر یہیں دفن ہو جائیں گے۔ ہم تو اتنے بڑے عالم کی بات پر یقین کئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے، لیکن دھرنے سے اٹھتے وقت انہوں نے چادر جھاڑی یا باندھی، یہ ہمیں نہیں پتا، لیکن اس کے بعد ایک بار پھر قادری صاحب نے اپنا مسکن کینیڈا کو ہی بنایا اور ہنوز وہاں گوشہ نشینی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ درمیان میں مولانا خادم رضوی نے کئی روز تک اسلام آباد کی ناکہ بندی کر کے پورے ملک کو یرغمال بنائے رکھا، آج کل وہی انقلاب ایک اور مولانا صاحب کو یاد آگیا ہے اور وہ بھی اپنا انقلاب اسلام آباد ہی میں لے جا رہے ہیں۔

سی ڈی اے کو ایک بار پھر تیاری کرنی ہے اپنی شاہرات کی صفائی کرنے کی!!

عوام کا سوال یہ ہے کہ ان بار بار کے انقلابات اور تبدیلی سے عوام کو کیا فائدہ ملا ہے یا ملے گا؟ ……بالخصوص اب کی بار مولانا فضل الرحمن صاحب جو اسلام آباد پر چڑھائی کرنے جا رہے ہیں اس کا مقصد کیا ہے؟ ان کا مسئلہ کیا ہے؟ مولانا صاحب کی طرف سے ابھی تک کوئی ایسا مطالبہ بھی سامنے نہیں آیا، جس کا تعلق عوام سے ہو۔ الٹا عوام کے لئے پریشانیوں میں اضافہ کرتے ہوئے کئی سال تک کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی سے مستفید ہونے والے مولانا صاحب ایک ایسے وقت میں نیا کٹا کھول رہے ہیں جس وقت کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور وہ دنیا کی توجہ کے طلبگار ہیں۔ اس سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن صاحب دنیا اور پاکستان کے میڈیا کی توجہ کشمیر سے ہٹا کر بھارت کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں، کیونکہ اس وقت پاکستان کے میڈیا نے اپنا موضوع مولانا صاحب کو بنا کر عوام کی ساری توجہ بھی اس احتجاج اور اس کے انجام پر مبذول کروا رکھی ہے۔

اب اس سارے قضیے میں کوئی ایک بھی لیڈر یا میڈیا ہاؤس ایسا ہے جو عوام کے دکھوں کا سوچ سکے یا ان پر بات کر سکے؟ یہ تماشے کب تک چلتے رہیں گے؟ کیا ہم کوئی ایسی قانون سازی نہیں کر سکتے جس کی رو سے ملکی بے ہنگم ٹریفک کی مانند یہ سیاسی ٹریفک کے لئے ہی کوئی ضابطہ اخلاق بن جائے کہ کسی بھی احتجاج سے پہلے کوئی ٹھوس وجوہات ہوں جو پاکستان یا پاکستان کے عوام سے متعلق ہوں نہ کہ کسی کے اپنے مفادات کے لئے ہو؟۔

مزید :

رائے -کالم -