ہم تو معجزوں کے منتظر ہیں

ہم تو معجزوں کے منتظر ہیں
ہم تو معجزوں کے منتظر ہیں

  



اب اس بات میں کتنی صداقت ہے کہ حکومت ٹھیک ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا؟ اسی سے جڑا سوال یہ بھی ہے کہ اگر قوم ٹھیک نہ ہو تو حکومت کیسے ٹھیک ہو سکتی ہے۔؟ جیسی قوم ویسے حکمران، ”جیسا منہ ویسی چپیڑ“ کی کہاوت تو بہت پرانی چلی آ رہی ہے، آج ہم عمران خان کی حکومت کو پیٹ رہے ہیں، برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ اسے بڑے لاڈ پیار سے لایا گیا تھا۔ آج آدھے سے زیادہ مخالفین وہ ہیں جو اس بات پر ناراض ہیں کہ حکومت ان پر ٹیکس کیوں نافذ کر رہی ہے۔ انہیں ٹیکس نیٹ میں کیوں لانا چاہتی ہے۔ ہم تو لینے والے ہیں، ہمیں دینے والے کیوں بنا رہی ہے۔ کچھ ایسے ہیں جنہیں ڈیوٹی دیانتداری سے دینے کا کہا جا رہا ہے، وہ دفاتر بند کر کے سڑکوں پر آ جاتے ہیں یا ہسپتالوں کو تالے لگا دیتے ہیں ایک طرف ہم نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اصلاح کہیں سے بھی ہونے نہیں دینی اور دوسری طرف یہ واویلا بھی کرنا ہے کہ حکومت کچھ بھی نہیں کر رہی۔

سیاستدانوں کے معاملات تو سیاسی ہیں، وہ جانیں اور ان کا کام لیکن جو کام عوام کی سطح کے ہیں ان کی راہ میں روڑے کیوں اٹکائے جاتے ہیں؟ اب کروڑوں روپے کمانے والے تاجر اگر صرف اس بات پر اڑ جائیں کہ ایف بی آر نے شناختی کارڈ کی کاپی جمع کرانے کی جو پابندی لگائی ہے، اسے ہم نہیں مانیں گے، تو کیسے سمجھا جائے گا کہ وہ اصلاح کی طرف کوئی قدم اٹھانا چاہتے ہیں نیت صاف ہو اور ہاتھ بھی تو ان چھوٹی موٹی باتوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن اگر بدنیتی موجود ہو تو اس نوعیت کے فیصلے بھی پہاڑ لگتے ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی قوم صرف حکومت کے سخت اقدامات کی وجہ سے بڑی اور اعلیٰ قوم نہیں بنی۔ قوم بننے کے لئے ہر فرد کو اپنا حساب آپ رکھنا پڑتا ہے۔

زیادہ دور نہ جائیں اب کراچی ہی کو دیکھیں، ادھر کچرا صاف ہوتا ہے، اُدھر دوبارہ ڈال دیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اس عمل کو روکنے کے لئے مقدمات درج کرانے پڑے ہیں اور بھاری جرمانے بھی کئے جا رہے ہیں اسے کیا نام دیا جائے، اس طرح تو فرشتوں کی حکومت بھی آ جائے، وہ بھی کراچی کو صاف نہیں رکھ سکے گی، کیونکہ جہاں لاکھوں گند پھیلانے والے ہوں اور چند ہزار صفائی کرنے والے وہاں صفائی کیسے ہو سکتی ہے۔؟

ہم گھر سے باہر کوڑا پھینک کر حکمرانوں کو بد دعائیں دیتے ہیں۔ یہ منظر تو پورے پاکستان میں دیکھا جاتا ہے کہ کوڑا کچرے دان میں پھینکنے کی بجائے سڑک پر پھینکا جاتا ہے۔ یہ مناظر تو آپ نے اکثر دیکھے ہوں گے کہ جہاں نو پارکنگ کا بورڈ لگا ہو، وہاں گاڑیاں ضرور پارک کی گئی ہوں گی۔ اب ایسے میں کون فرشتہ سیرت حکمران آئے کہ جو لوگوں کے دل پھیر دے۔ انہیں احساس دلائے کہ تم بھی ٹھیک ہو جاؤ صرف مجھے ہی ٹھیک کرنے کے جنون میں مبتلا نہ رہو۔ خیر یہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، یہاں تو بڑی بڑی باتیں بھی ہم کر گزرتے ہیں، پھر کوسنے نظام اور حکمرانوں کو دیتے ہیں۔

میں اکثر جب یہ سنتا ہوں کہ تحریک انصاف میں اکثریت ایسے ارکان اسمبلی اور وزراء کی ہے۔ جو پہلے بھی مختلف حکومتوں کا حصہ رہے ہیں تو سوچتا ہوں یہ کس کا کیا دھرا ہے۔ کیا یہ وزیر اعظم عمران خان کی خرابی ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کے بانی ارکان کو چھوڑ کر اپنی پارٹی کے دروازے کھول دیئے کیا انہیں علم نہیں تھا کہ ان لوگوں نے پچھلی حکومتوں میں رہ کر کیا کچھ نہیں کیا، اب تحریک انصاف کی حکومت میں آکر کیا کریں گے، مگر پھر خیال آتا ہے، اس میں عمران خان کا کیا قصور، انہیں تو زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنا تھیں۔ حکومت بنانی تھی، انہیں یہ علم تھا کہ اس ملک میں عوام کسی نظریئے یا فلسفے پر ووٹ نہیں دیتے بلکہ شخصیات کو دیتے ہیں، یہاں ”الیکٹیبلز“ کے نام سے ایک مخلوق پائی جاتی ہے۔ یہ سیاسی جماعتوں کی اس لئے مجبوری ہے کہ عوام نے اسے اپنی مجبوری بنا رکھا ہے۔ عوام اسے مسترد کر دیں تو کوئی سیاسی جماعت انہیں منہ نہ لگائے۔ یہ مخلوق کام کرے یا نہ کرے مگر عوام اسے ووٹ دیتے ہیں، بار بار اسمبلیوں میں پہنچاتے ہیں، پھر جب حکومتیں کام نہیں کرتیں تو کوسنے حکمرانوں کو دیتے ہیں۔ انہیں پھر بھی کچھ نہیں کہتے یعنی ہم نے نہ بدلنے کی قسم کھا رکھی ہے، مگر خواہش یہ رکھتے ہیں کہ کسی طرح تبدیلی آ جائے۔

یہ تو کنوئیں کے رہٹ جیسی صورت حال ہے، وہی ڈول بار بار آتے ہیں، اب پھر یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ ختم ہو، نئے انتخابات کرائے جائیں، نئی حکومت آئے، جو عوام کے مسائل حل کرے مگر جونہی تبدیلی کی ہوا چلے گی، مفاداتی سائبیریا کے یہ فصلی پرندے اڑ کر اس طرف کو چلے جائیں گے، جس کے اقتدار میں آنے کی امید ہو گی۔ صرف وزیر اعظم کا چہرہ بدل جائے گا باقی سب کچھ وہی رہے گا، کیونکہ عوام نے تو پھر انہی کو منتخب کرنا ہے، جو”اسٹیٹس“ کو کے سب سے بڑے محافظ ہیں۔ کتنی ہی ایسی باتیں ہیں، جو ہم انفرادی سطح پر کر سکتے ہیں، مگر مجال ہے جو کریں، ابھی میں سنگاپور کی ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا۔ ایک طرف سینکڑوں گاڑیوں کی لائن لگی ہوئی تھی اور لکیر کے دوسرے طرف ایک گاڑی بھی نہیں تھی۔

مگر مجال ہے کہ کوئی کار یا موٹر سائیکل والا وہ لکیر کراس کر کے دوسری طرف جائے۔ یہاں کیا ہوتا ہے خالی جگہ دیکھ کر گاڑی یا رکشہ گھسا دیا جاتا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ سامنے سے آنے والے کو راستہ نہیں ملے گا تو ٹریفک کیسے چلے گی، ایک اور ویڈیو ہانگ کانگ کی دیکھی۔ سڑک پر احتجاج ہو رہا تھا، رکاوٹیں کھڑی کر کے مظاہرین نے اسے بند کر دیا تھا، اچانک ایک فائر بریگیڈ کی گاڑی اور ایمبولینس آ گئی 2 منٹ سے بھی کم وقفے میں مظاہرین نے وہ رکاوٹیں ہٹا کر راستہ صاف کر دیا۔ ہمارے ہاں ایک ایمبولینس تو کیا دس ایمبولینسیں بھی آ جائیں، احتجاجی راستہ نہیں دیتے الٹا پتھراؤ کر دیتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں ہر دوسرے چوتھے روز ہسپتالوں کو بند کر دیا جاتا ہے۔ صرف اپنے معاشی مفادات کے لئے ڈاکٹر ہڑتال کر دیتے ہیں، انہیں اس بات کی ہرگز پروا نہیں ہوتی کہ ان کی ہڑتال کے نتیجے میں انسانی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں، جن کی ہرگز کوئی تلافی نہیں ہو سکتی۔

کچھ تو اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ٹی وی چینلوں پر مریضوں کے مرنے کی خبریں چلیں، حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو، اب اس رویے کو کیسے تبدیل کیا جائے۔ حکمران صرف انضباطی کارروائی سے ڈرا دھمکا ہی سکتے ہیں، سودہ کرتے ہیں لیکن ہوتا تو پھر بھی کچھ نہیں، معاشرے کی کوئی بھی اینٹ اٹھا کر دیکھ لیں، نیچے سے زمین شور زدہ ہی نظر آئے گی۔ پھر بھی ہر فرد کی خواہش یہی ہے کہ ملک کی عمارت شاندار نظر آئے۔ کوئی ایسا مستری مل جائے جو اس عمارت کو چار چاند لگا دے۔ کوئی معجزہ کر دے، کوئی معجزہ دکھا دے…… اپنے ہاتھوں سے خرابی کا بیج بونے والو! کوئی معجزہ کیسے رونما ہو سکتا ہے۔ پہلے خود کو بدلنے کا معجزہ تو دکھاؤ، پھر کسی معجزے کی امید لگاؤ، یہ باتیں علامہ اقبالؒ نے بھی کئی دہائیاں پہلے ہمیں سمجھائیں اور قائد اعظمؒ بھی سمجھاتے رہے، ہم باتیں کہاں سنتے ہیں، ہم تو معجزوں کے منتظر ہیں۔

مزید : رائے /کالم