وزیراعظم پاکستان کا سہولت کاری مشن!

وزیراعظم پاکستان کا سہولت کاری مشن!
وزیراعظم پاکستان کا سہولت کاری مشن!

  



وزیراعظم پاکستان آج سعودی عرب جا رہے ہیں۔ دو دن پہلے وہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔ مشن یہ تھا (اور ہے) کہ اس خطے میں جنگ نہ ہو اور ایران اور سعودی عرب دونوں جنگ و جدل کی بجائے امن و امان کی راہ پر گامزن ہوں ……

میرے ذہن میں پہلا سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا پاکستان کا بین الاقوامی سیاسی، عسکری اور سفارت کاری قد کاٹھ اتنا اونچا ہو گیا ہے کہ وہ عرب و عجم کی ایک دیرینہ بلکہ مزمّن آویزش میں کسی سہولت کار کا رول ادا کر سکے؟ میرا خیال ہے ایسا ہوا ہے…… تبھی تو سعودی عرب کے ولی عہد اور امریکی صدر ٹرمپ نے خان صاحب کو یہ مشن سونپا ہے۔ عمران خان نے اس مشن اور اس کے منابع کا برملا اظہار کرکے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے اور بتایا ہے کہ ان کا یہ دورہ کسی کے کہنے پر نہیں کیا گیا بلکہ یہ ان کی اپنی پہل کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں نیویارک کے دورے کے دوران کہا تھا کہ مَیں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کے ڈائیلاگ کا ڈول ڈا لوں۔

کہا جا سکتا ہے کہ یہ مشن مودی کو کیوں نہیں سونپا گیا۔ ان کے تعلقات بھی تو محمد بن سلمان (ایم بی ایس) اور ٹرمپ کے ساتھ بہت دوستانہ تھے۔ ایم بی ایس نے ایک ماہ قبل انڈیا میں 75بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور ٹرمپ،چین کے خلاف انڈیا کو اپنا سٹرٹیجک پارٹنر سمجھتے ہیں اس لئے نریندر مودی اس سہولت کاری مشن کے لئے عمران خان سے بہتر ’کوالی فائڈ“ تھے۔ رہا مذہب کا سوال تو بین الاقوامی معاملات میں مذہب کو چنداں دخل نہیں ہوتا۔ ایم بی ایس نے پاکستان کو 6بلین ڈالر اور کچھ برسوں کے لئے تیل ادھار دے کر ایسا کون سا تیر مارا تھا کہ شہزادے نے پاکستان کے دشمن نمبر ایک کو 75بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی بخشیش دے دی! اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایشیا کے اس خطے میں وزیراعظم پاکستان کو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کروانے کی یہ پیشکش نہ صرف عمران خان کے ذاتی امیج کو ایک عالمی مدبر (Statesman) کے طور پر سامنے لاتی ہے بلکہ ایک ایسے پاکستان کے امیج کو بھی بڑھاوا دیتی ہے جس کی معیشت اور حکمرانی کو بہت سے اندرونی بحرانوں کا سامنا ہونے کے باوجود اس کی عالمی سٹینڈنگ اپنا ایک الگ مقام رکھتی ہے۔

دوسرا سوال جو ذہن میں پیدا ہوا وہ یہ ہے کہ اگر وزیراعظم کو صدر ٹرمپ نے کسی طرح کے ڈائیلاگ کے لئے کہا تھا تو عمران خان نے نیویارک سے واپس آنے کے بعد اتنی دیر انتظار کیوں کیا، اور چین کے حالیہ دورے کے فوراً بعد ہی اس مشن پر کمربستہ کیوں ہو گئے؟…… میرے خیال میں پاکستان نے ایم بی ایس اور ٹرمپ کی دعوت تو سنی لیکن جب تک چینی صدر شی جِن پنگ کی اشیرباد حاصل نہیں کر لی، اس مشن کو ملتوی رکھا۔ ایسا کرنے میں پاکستان کی وزارت خارجہ کے مشورے اور تجاویز کا بھی بہت ہاتھ رہا ہو گا جس نے اپنے وزیراعظم کو اس موضوع پر بریف کیا، مطلوبہ Input دی اور یہ مشن تب تک ملتوی کروایا جب تک چین کی طرف سے اشارہ نہ ملا۔ ہم جانتے ہیں کہ چین کا نقطہ ء نظر گلوبل محیط کا حامل ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری (Initiative) پراجیکٹ کا داعی ہے جو تین براعظموں (ایشیاء یورپ اور افریقہ) تک پھیلا ہوا ہے اور مزید پھیل رہا ہے۔ اس پھیلاؤ کا اصل فوکس گلوبل تجارت ہے جسے چین اپنی اجارہ داری میں لانا چاہتا ہے اور جس کے ذیلی ثمرات ہم جیسے ممالک کو بھی ملنے کی امیدیں ہیں۔چونکہ چین کے اس منصوبے کے لئے تینوں براعظموں میں قیامِ امن کی بہت ضرورت ہے، اس لئے کل کلاں اگر ایران اور سعودی عرب میں جنگ ہو جاتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ امریکہ کو ہو گا اور سب سے زیادہ نقصان چین کو ہو گا……

امریکہ کا فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنے متروک اسلحہ کو مشرقِ وسطیٰ کے امیر ملکوں کے ہاتھ فروخت کرکے اپنے ہاں جدید ترین سلاحِ جنگ ذخیرہ کرنا چاہتا ہے۔اور چین کا نقصان یہ ہو گا کہ اس کی گلوبل تجارت کا پہیہ رک جائے گا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان کو ایران سے مذاکرات اور ایم بی ایس نے سہولت کاری کا جو مشن سونپا تھا، وہ ان کے اپنے اپنے مفادات کی وجہ سے بھی تھا اور چین نے اس مشن کے لئے عمران خان کو جو ”ہاں“ کی وہ بھی اسی حقیقت کی غماز ہے……یہ سارا کھیل ہی ذاتی مفادات کا ہے……چین اس وقت تک کسی جنگ میں کودنا نہیں چاہتا جب تک اسے یقین نہ ہو جائے کہ وہ فتح یاب ہو گا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جس طرح امریکہ ”فاتحِ عالم“ بن گیا تھا، چین اسی طرح آنے والی کسی تیسری عالمی جنگ میں لڑے اور اس میں شامل ہوئے بغیر ”فاتحِ عالم“بننا چاہتا ہے۔

چینی پارلیمنٹ نے ماضیء قریب میں صدر شی کے لئے تاحیات صدر رہنے اور ماؤزے تنگ ثانی بننے کے امکانات روشن کر دیئے ہیں۔ اس سے پہلے چینی دستور میں کوئی صدر دوبار سے زیادہ عہدۂ صدارت پر فائز نہیں رہ سکتا تھا لیکن اب دستور میں ترمیم کرکے چینی پارلیمنٹ نے صدر شی کو تاحیات صدر رہنے کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب صدر کی نگاہ علاقائی افق سے اوپر اٹھ کر عالمی آفاق کو اپنے حصار میں لینے کے لئے کوشاں ہے۔

امریکی صدر کا دوغلا پن ملاحظہ کیجئے کہ ایک طرف تو وہ عمران خان کو اپنے اور ایران کے مابین مذاکرات کے لئے کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف اپنے تین ہزار فوجی سرزمینِ سعودی عرب میں اتار رہے ہیں۔ یہ امریکی ٹروپس 5،6روز پہلے سعودی عرب میں لینڈ کر چکے ہیں اور ایم بی ایس نے اس کی منظوری بھی دے دی۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے جب پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے دو روز پہلے اتوار کو بات کی تو امریکہ کے لئے دو شرائط رکھیں …… ایک یہ کہ وہ اپنی افواج اور جنگی ہتھیار جو اس نے حال ہی میں اس خلیجی خطے میں بھیجے ہیں ان کو واپس لے جائے اور دوسرے اس جوہری ڈیل کو بحال کرے جو اوباما عہد میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پائی تھی اور ٹرمپ نے اسے منسوخ کر دیا…… ظاہر ہے یہ دونوں شرائط امریکہ واپس نہیں لے گا۔…… وہ کس طرح اپنا طیارہ بردار (ابراہم لنکن)، پیٹریاٹ بیٹریاں، بی 52 سٹرٹیجک بمبار اور ہزاروں فوجی واپس لے جائے گا جو اس نے ایران سے کسی ممکنہ تصادم کے لئے اس علاقے میں لا کر صف بند کر دیئے ہیں۔ دوسرے امریکہ اس جوہری معاہدے کو کیسے منسوخ کر دے گا جو اسرائیل کی غائت خوشنودی کا باعث ہے۔ امریکہ اپنی اس ملٹری آؤٹ پوسٹ (اسرائیل) کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا نہیں چاہے گا۔

آج عمران خان جب ریاض پہنچ کر ایم بی ایس اور ان کے والد محترم شاہ سلمان کے سامنے ایران کے قائدین کی ان دو شرائط کا ذکر کریں گے تو کیا ان کا فوری ری ایکشن یہ نہیں ہو گا کہ ایران اس خطے میں امن چاہتا ہی نہیں۔ جبکہ ایرانی قیادت کا استدلال اور مطالبہ ہے کہ امریکہ اس خلیجی خطے سے اپنی تازہ فرستادہ بری (3ہزار ٹروپس)، بحری (طیارہ بردار ابراہم لنکن)، فضائی (بی۔52طیارے) اور فضائی دفاعی (پیٹریاٹ بیٹریاں) فورسز واپس لے جائے؟…… ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد جو پابندیاں ایران پر لگائی تھیں،آئے روز ان میں اضافہ کئے جا رہا ہے۔ کیا ان سے ایرانی اقتصادیات بری طرح مجروح نہیں ہوئیں اور کیا ایرانی عوام کی زندگیاں ان پابندیوں کے سبب اجیرن ہو کر نہیں رہ گئیں؟ اس لئے میرے خیال میں ایرانی حق بجانب ہیں کہ وہ امریکیوں کے سامنے یہ شرائط رکھیں۔

ایک اور خیال بھی ذہن میں آ رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تہران میں اتوار کے روز پاکستانی وفد کے سامنے ایران نے امریکہ کے لئے یہ دو شرائط رکھی ہوں گی(امریکی افواج کی واپسی اور جوہری معاہدے کی طرف مراجعت) تو پاکستانی وفد نے یہ بھی پوچھا ہو گا کہ اگر امریکہ اور سعودی عرب دونوں نے ان شرائط کو ماننے سے گریز کیا تو ایران کس حد تک ان شرائط میں نرمی کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی سفارت کاری میں اس قسم کی آپشنز ایک معمول ہوتی ہیں لیکن ان کو اوپن نہیں کیا جاتا۔ سہولت کاری اور سفارتکاری کی روایات یہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کے درمیان بھی کوئی لکیر ڈھونڈی جائے۔…… سیاہ اور سفید رنگ کے درمیان ایک سرمئی رنگ بھی ہوتا ہے…… مجھے امید ہے کہ نہ صرف امریکہ بلکہ سعودی قیادت بھی مذاکرات کی پاکستانی میز پر بیٹھنے کو تیار ہو گی۔ پہلے بھی تو ایسا ہوتا رہا ہے……اب بھی امید کی جانی چاہیے کہ آج کی ملاقات کے بعد جو اعلامیہ جاری ہو گا اس میں مذاکرات پر صاد کیا جائے گا۔ اگر عرب و عجم ایک میز پر اکٹھے بیٹھ جائیں تو میرا خیال ہے یہ عمران خان کے سہولت کاری کے مشن کی ایک بڑی کامیابی ہو گی۔

امریکہ کو اس امر کا بھی یقین ہو چلا ہے کہ اگر وہ سعودی عرب میں تین ہزار کی بجائے تین لاکھ ٹروپس بھی لے آئے تو ایران اس سے مرعوب نہیں ہو گا۔ اس نے گزشتہ 18برسوں میں دیکھ لیا ہے کہ اگر افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ امریکی اور ناٹو ٹروپس طالبان کو مرعوب نہیں کر سکے تو یہ تین ہزار امریکی سولجرز اور دوسرا عسکری الا بلا (Parapharrnnalia)ایران کا کیا بگاڑ لے گا؟

ایران اور سعودی عرب کا عمران خان کا یہ دورہ ان کے عالمی امیج کا امتحان بھی ہو گا۔ ہماری دعا ہے کہ خدا ان کو اس مشن میں کامیاب کرے۔ چند روز بعد (23اکتوبر کو) ترکی کے صدر اردوان بھی پاکستان تشریف لا رہے ہیں۔ انہوں نے بھی شمالی شام پر کردوں کے خلاف حملہ کرکے تل العین اور تل العبید پر جو قبضہ کر لیاہے وہ امریکی اور ساری یورپی قیادتوں کو سخت گراں گزرا ہے۔ صدر اردوان کا یہ دورہ بھی پاکستان کے لئے ایک اور امتحان ہو گا۔ پاکستان، ترکی کے ساتھ ہے کیونکہ ترکی نے کشمیر کے سوال پر کھل کر پاکستان کی حمائت کی ہے۔ لیکن ترکی سے امریکی ناراضگی کی وجوہات صرف شمالی شام پر حملہ ہی نہیں بلکہ ترکی کی طرف سے ایس 400 سسٹم کی خرید کا معاملہ بھی ہے۔ امریکہ کے دو یورپی دُم چھلے (جرمنی اور فرانس) بھی ترکی سے شدید برہم ہیں۔ ان دونوں نے فوراً ترکی کو اسلحہ کی وہ فراہمی روک دی ہے جو پائپ لائن میں تھی۔دیکھتے ہیں اس خلاء کو روس کیسے پُر کرے گا…… اور یہ ایک دوسرا موضوع ہے……

مزید : رائے /کالم