کوہاٹ، 8 سال گزرنے کے باوجود برن سینٹر منصوبہ مکمل نہ ہو سکا

  کوہاٹ، 8 سال گزرنے کے باوجود برن سینٹر منصوبہ مکمل نہ ہو سکا

  



 کوھاٹ (بیورو رپورٹ) 8 سال گزرنے کے باوجود بھی برن سینٹر منصوبہ مکمل نہ ہو سکا ان آٹھ سالوں میں سینکڑوں حادثات کا شکار مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے‘ صحت کی سہولیات عوام تک پہنچانے کے دعویداروں کے جھوٹے وعدوں کی قلعی کھل گئی تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کی خاتون سابقہ رکن قومی اسمبلی محترمہ خورشید بیگم سعید جن کی کوھاٹ کی عوام کے لیے خدمات یقینا کسی سے ڈھکی چھپی نہیں انہوں نے سال 2011 میں کے ڈی اے ہسپتال میں جنوبی اضلاع کے پہلے برن سنٹر کا سنگ بنیاد رکھا اور ابتدائی طور پر اس کے لیے دو کروڑ کا فنڈ بھی مختص کر کے کام کا آغاز کیا مگر 2013 میں جب صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو سابقہ ایمایناے اور موجودہ وفاقی وزیر سیفران شہریار آفریدی نے اس عوام دوست منصوبے کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے 1 کروڑ کا فنڈ بھی مختص کر دیا مگر افسوس کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود تاحال برن سنٹر مکمل نہ ہو سکا اور عمارت کے نام پر ہسپتال میں ایک ڈھانچہ کھڑا ہے جو کہ کسی کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے اور برن سنٹر کے نام پر زیر تعمیر عمارت سے سٹور کا کام لیا جا رہا ہے عوامی حلقوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کوھاٹ کے دو ممبران اسمبلی صوبے اور وفاق میں مشیر اور وزیر کے عہدوں پر موجود ہیں مگر اس کے باوجود برن سنٹر کی تعمیر کا نہ ہونا سوائے بدقسمتی کے اور کیا ہو سکتا ہے شہریوں نے صوبائی اور وفاقی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر نہ صرف برن سنٹر کی تعمیر مکمل کروائیں بلکہ اس کے لیے ماہر ڈاکٹروں اور عملے سمیت مشینری کا بھی بندوبست کریں تاکہ آئندہ کسی بھی حادثے کی صورت میں جھلس جانے والے مریض کو اذیت ناک حالت میں ٹیکسلا اور کھاریاں ریفر نہ کرنا پڑے بلکہ ایسے مریضوں کا اپنے ہی شہر میں باآسانی علاج ممکن ہو سکے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر