صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح شانگلہ میں بھی ڈاکٹر وں کی ہڑتال جاری

      صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح شانگلہ میں بھی ڈاکٹر وں کی ہڑتال جاری

  



الپوری (ڈسٹرکٹ رپورٹر)صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح شانگلہ میں بھی ڈاکٹروں کی ہڑتال بدستور جاری، مریض رل گئے، نجی ہسپتال مریضوں کو لوٹنے لگے، پرائیویٹ ہسپتالوں کی چاندی، نجی لیبارٹریوں میں ٹسٹ وایکسریزکی قیمتیں بڑھنے کا انکشاف۔ عوامی حلقوں میں شدید رد عمل۔حکومت سے ہڑتالی ڈاکٹروں کے غیر حاضری کے بنیاد پرتنخواہیں کاٹنے اور ان کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ۔ ادھر ہڑتالیوں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کی ڈی ایچ اے وآر ایچ اے کسی بھی صورت قبول نہیں، مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔شانگلہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال الپوری سمیت ضلع بھر کے سرکاری ہسپتال پورن،بشام،چکیسر،کروڑہ ودیگر ہسپتال کی بندش تیسرے ہفتے میں داخل۔ہسپتالوں کے او پی ڈی، اپریشن تھٹرز سمیت لیبارٹریز بند ہیں۔ مریض رل گئے۔ڈاکٹروں کی عدم موجودگی مریض بے چھین ہوگئی، رشتہ دار پریشان۔سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال سے نجی ہسپتالوں و کلینکس اور لیبارٹریز کی چاندی مریضوں کی نجی ہسپتالوں پر انحصار،غریب مریضوں کو یہی ڈاکٹر زاورعملہ دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگا،مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، نجی لیبارٹریوں میں ٹسٹ وایکسریزکی قیمتیں بڑھا دی گئی ہے۔عوام اور مریضوں کا شدید ردعمل۔شانگلہ میں ڈاکٹروں کی ہڑتال تیسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے ڈاکٹروں نے سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنا چھوڑدیا ہے اور بعض ڈاکٹرزچھپکے سے اپنے نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی چیک اپ کرتے ہیں غریبوں کوپرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج کرنا انتہائی مشکل ہے مہنگائی اور بے روزگاری سے نڈھال عوام نجی ہسپتالوں میں علاج سے قاصر ہیں، ٹیسٹ کرے یا ادویات لے یا ان ڈاکٹروں کو باہرفیسیں دے،حکومت ان ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرے اور یا گھٹنے ٹیک کرکے ان کے مطالبات تسلیم کریں۔پرائیوٹ ہسپتالوں کا فیس،ایکسرے،ٹیسٹ اور ادویات وغیرہ کا خرچ برداشت سے باہر ہیں مریض بیماری کے ساتھ ذہنی کفت میں مبتلا ہیں اور اس وقت اس صورت حال میں انتہائی مالی مشکلات میں ہیں۔غریب فریادکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جائے تو کہاں جائیں۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر