مسئلہ کشمیر ممکنہ حل کیا ہیں ؟

مسئلہ کشمیر ممکنہ حل کیا ہیں ؟

  



مقبوضہ وادی میں پانچ اگست سے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ اے کی منسوخی ، کشمیر میں نو لاکھ بھارتی فوج کی تعیناتی ، چار ہزار سے زائد نہتے کشمیریوں کی گرفتاری ، وادی میں ڈیڑھ ماہ سے نافذ کرفیو، اشیائے خوردو نوش اور ادویات کی کمی نے بھارت کے سیکولر ہونے کے دعوی کی ایک طرح سے قلعی کھول دی ہے ۔

مسئلہ کشمیر ۷۲ سال پرانا ہے لیکن آج اس سوشل میڈیا کے دور میں کشمیر پر بھارتی تسلط اور ظلم و ستم کھل کر سامنے آیا ، تاریخ میں پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا ، بھارت کا اصلی چہرہ منظر عام پر ایسے ہی نہیں آگیا ، بلکہ اسکے پیچھے نوجوانوں کی قربانیاں ، مائوں اور بہنوں کی ردائیں اور بچوں کی معصومیت کا خاتمہ بھی ہے ۔

اس ترقی یافتہ دور میں زیادہ تر افراد باشعور اور اپنے حقوق سے آگاہ ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ خواہ کشمیر ہو ، فلسطین ہو ، شام ہو یا عراق ہر جگہ مظلومیت کی علامت مسلمان ہیں ، اگرچہ کہ دہشتگرد کا کوئی دین کوئی مذہب نہیں ہے اسے کسی ملک سے مشروط نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر یہ کہا جائے کہ دنیا بھر میں تمام مسلمانوں کو ایک سازش کے تحت نسل کشی کی طرف لایا جا رہا ہے تو یہ غلط نہ ہو گا ۔

بھارت کا سیکولر چہرہ تباہ کرنے میں مودی کا بھی بہت ہاتھ ہے حالانکہ وہاں تو گاندھی جیسے لیڈر بھی گذرے ہیں جنہوں نے پاکستان کے قیام کے وقت پاکستان کو جائز اثاثے نہ دئیے جانے پر بھوک ہڑتال بھی کی تھی لیکن مودی نے اپنے اقتدار کے نشے میں سبھی کچھ بھلا ڈالا ہے ، کشمیری عوام صدیوں سے اپنی آزادی کی تمنا لئے قربانیوں پر قربانیاں دے رہے ہیں لیکن مودی نے نہ صرف کشمیر بلکہ اپنے ہی ملک کے اندر مسلمانوں ، سکھوں اور نچلی ذات کے ہندووں کیساتھ امتیازی سلوک کر کے اپنی رہی سہی عزت بھی گنوادی ہے ۔

آئے روز اخبارات مودی اور اسکے دیگر انتہا پسند وزرا کے اشتعال انگیز بیانات سے بھرے ہوتے ہیں ، کشمیر کی موجودہ حیثیت تبدیل کر دینے کی باوجود مودی کا یہ دعوی ہے کہ اس اقدام سے یہاں خوشحالی آئے گی جبکہ کوئی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ ایسا ناممکن ہے کیونکہ کسی بھی انتشار والے علاقے میں جہاں ڈیڑھ مہینے سے کاروبار زندگی معطل ہو ، ادویات اور خوراک کی قلت ہو ، جہاں طبی سہولیات ناپید ہو جائیں ، جہاں اٹھارہ ماہ کی معصوم بچی حبہ پیلیٹ گولیوں کا نشانہ بن جائے ، جہاں نہتے جوان عابد اور اسکے ذہنی پسماندہ بھائی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جائے وہاں امن اور ترقی کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے ؟

کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے والا بھارت مودی سرکار اس جدید دور میں بھی مواصلات کے ذرائع کی بندش کر کے اس علاقے کو پتھر کے دور میں دھکیل رہا ہے ، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ملک جو کسی دوسرے ملک پر تسلط جما کر اسے اپنا اٹوٹ انگ اپنا حصہ قرار دے اور اسکی ترقی پر قدغن لگا دے تو پھر وہ کیسے اس پر اپنا حق جتا سکتا ہے ۔

اب اس پر آجائیں کہ ہم پاکستانی کشمیر کا حل کیوں چاہتے ہیں ؟ اسکی بہت سی وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ کشمیری ہماری دینی بہن بھائی ہیں ، ان کا ہمارے ساتھ ایک گہرا رشتہ ہے اور ان کے دل بھی ہمارے ساتھ دھڑکتے ہیں ، دوسری بات ہم انسانی ہمدردی کے ناتے بھی صرف کشمیر نہیں بلکہ دنیا بھر کی مظلوم اقوام کی سفارتی اور اخلاقی سطح پر حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تیسری اور اہم وجہ یہ ہے کہ کشمیر علاقائی اعتبار سے ایسی جگہ واقع ہے جس کے امن سے ہی جنوبی ایشیا کا امن وابستہ ہے ، بھارت اور پاکستان میں مانا کہ اور بہت سے تنازعات کی بنیاد قیام پاکستان کے بعد سے ڈالی جا چکی تھی تاہم اہم اور بنیادی تنازعہ کشمیر ہے ۔ دونوں ممالک میں کشمیر کو لے کر تین جنگیں ہو چکی ہیں اب ان روایتی جنگوں کے بعد یہ دونوں ممالک اٹیمی قوتیں بھی ہیں ، جنگ تو دونوں ممالک افورڈ نہیں کر سکتے لیکن لائن آف کنٹرول پر دیکھا جائے تو ہر روز ایک نئی جنگ کا سامنا ہے اور بھارت اپنے مکروہ ہتکھنڈوں سے باز نہیں آرہا ۔

ان سب حقیقتوں کی باوجود اگر ہم اس کے حل پر آئیں تو بہت سے ایسے ممکنہ حل ہیں جن پر عمل درآمد میرے خیال کے مطابق ہو سکتا ہے ، مسئلہ کشمیر صرف اکیلی عمران خان حکومت حل نہیں کر سکتی ۔ تاہم اسکے لئے ایک اور موثر فضا یقننا وزیر اعظم عمران خان نے ہموار کی ہے ، گذشتہ دنوں ان کا یہ کہنا کہ یہاں سے مقبوضہ کشمیر جا کر بھارت سے لڑنے والا پاکستانی کشمیریوں سے غداری کرے گا ، بہت موثر اور بہترین بیان کہا جا سکتا ہے کہ جذباتی قوم کو زمینی حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔ کون کشمیریوں پر مظالم کے خلاف نہیں لیکن پہلے فوج اور حکومت پر اعتماد ضروری ہے ، مسئلہ کے حل کے لئے جہاد صرف تلوار اور بندوق سے نہیں ہوتا ، آج جہاد کا تصور الگ ہے ، بلکہ ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنا اور ظلم کو برا کہنا افضل ترین جہاد ہے ۔

جہاں تک رہا اقوام متحدہ کا تعلق ، مسئلہ کشمیر اسکی قراردادوں کے مطابق ضرور حل ہونا چاہیے لیکن اسکے لئے یواین او کا دوہرا رویہ ختم ہونا چاہیے کشمیریوں کو ان کا اصل حق یعنی حق خودارادیت دینا چاہیے کہ وہ خود اپنی ریاست اور اپنی مملکت کے بارے میں کیا چاہتے ہیں اور کس ملک کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔

نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ او آئی سی ، بیرونی دنیا اور دیگر تنظیمیں بھی اپنا موثر کردار ادا نہیں کر سکیں ، ان ممالک کی غیرت سوئی ہوئی ہے کیونکہ ظلم کے شعلے ابھی ان تک نہیں پہنچے ۔ مغربی ممالک اسلئے خاموش ہیں کہ اگر مسئلہ حل ہو گیا تو ان کے اسلحے کے ذخیرے کہاں استعمال ہوں گے ؟

لہذا مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ اور او آئی سی کو اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا ، پاکستانی حکومت خواہ کوئی بھی ہو اس کو سفارتی اور اخلاقی سطح پر اس مسئلہ کے حل پر زور دینا ہو گا بلکہ ہماری فوج تو لائن آف کنٹرول پر روز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے ۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر مسلمان ممالک پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنا ہوگا ۔ ساتھ ہی ساتھ کشمیریوں کو خود بھی اور زیادہ بیدار ہونا ہوگا اپنی صفوں میں داخل ہونے والے آستینوں کے سانپوں سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا تبھی آزادی کی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ