کرپشن یا بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں بلکہ کس کیس کا فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کی وجہ بنا ؟ وکیل منیر اے ملک نے اب تک کا بڑا دعویٰ کردیا

کرپشن یا بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں بلکہ کس کیس کا فیصلہ جسٹس قاضی فائز ...
کرپشن یا بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں بلکہ کس کیس کا فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کی وجہ بنا ؟ وکیل منیر اے ملک نے اب تک کا بڑا دعویٰ کردیا

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق سپریم جوڈیشل کو نسل کی کارروائی کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی دائر درخواستوں کی سماعت میں ان کے وکیل نے کہا فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی ان کے موکل جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا، گز شتہ روزجسٹس عمر عطا ءبندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی لارجر بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی دائر کر د ہ درخواستوں کی سماعت کی۔اس موقع پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیراے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا ان کے مو کل نے کسی معززجج کیخلاف تعصب یاذاتی عناد کاالزام نہیں لگایا، فل کور ٹ اورالگ ہونیوالے ججز پرکوئی اعتراض نہیں، اعلیٰ عدلیہ کے ججز پر دباو¿ ڈالنا اس کیس کی جان ہے۔منیراے ملک نے کہا لندن کا پہلا فلیٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے 2004 میں لیا، پہلا فلیٹ خر یدنے کے پانچ سال بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جج بنے، دوسرا اور تیسرا فلیٹ 2013 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بچوں نے لیا، 2013 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تھے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بے ایمانی یا کرپشن کا کوئی الزام نہیں، وہ براہ را ست یا بالواسطہ فلیٹس کے بینیفیشل مالک نہیں، 28 مئی 2019 سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کردار کشی کی مہم جاری ہے، انہوں نے مستقبل میں چیف جسٹس بننا ہے، ان سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، اعلیٰ آئینی عہدوں پر بیٹھے افراد کے اخراجات سے اختلاف ہے، و کیل نے کہا فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف بنیاد بنا، فیض آباد دھرنا فیصلے کیخلاف 8 نظر ثانی درخواستیں آئیں جو تمام کی تمام باہمی مشاورت سے دائر ہوئیں، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، وزارت دفاع سمیت شیخ رشید نے نظر ثانی درخواستوں میں کہا فوجی اہلکا ر و ں اور افسران کے درمیان عدالتی فیصلے سے خلیج پیدا کی گئی اور افواج پاکستان کا مورال کم ہوا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ نے کوئٹہ کمیشن کا سربراہ بنایا، کوئٹہ کمیشن نے بھی انٹیلی جنس اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے تھے۔منیر اے ملک نے مزیدکہا سپریم کورٹ نے جج بنتے وقت بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اثاثوں کا جائزہ لیا ہوگا، جب وہ جج بنے تو سالانہ تنخواہ ماہانہ آمدن کے برابر آگئی، 2009 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آمدن سالانہ 36 ملین روپے تھی، ان کی لا فرم سب سے زیادہ ٹیکس دیتی تھی۔منیر ملک نے کہا اتحادی جماعتوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مشترکہ کوشش کی، 7 ماہ سے نظر ثانی درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی۔ وکیل منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا 2004 میں جسٹس قاضی فائز کی لائ فرم کو سب سے زیادہ ٹیکس دینے پر ستارہ امتیاز کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 2009 میں چھتیس ملین روپے کی آمدن ظاہر کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی جن حالات میں چیف جسٹس بلوچستان بنے معزز جج صاحبان اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل نے کوئٹہ کمیشن رپورٹ اور فیض آباد دھرنا کیس کا حوالہ دیااورکہا ایک جج کو اس کے فیصلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کو کوئٹہ بم دھماکہ کیس میں ایک رکنی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ کوئٹہ دھماکہ کیس میں وکلاءسمیت 75 سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ میرے موکل نے کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں اہم سوالات اٹھائے۔اس موقع پر لاجر بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ممکن ہے درخواست گزار چاہتے ہوں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس نہ سنیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کیا عدالتی فیصلے کی بنیاد پرریفرنس دائر ہو سکتا ہے؟۔منیر ملک نے کہا وزیر قانون جانتے ہیں جج کو اس انداز میں نہیں ہٹایا جا سکتا، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی دونوں اتحادی جماعتیں ہیں، دونوں کی درخواستوں میں ایک جیسے سوالات اٹھائے گئے۔جسٹس فیصل عرب نے کہا لگتا ہے دونوں جما عتوں کے وکلاءنے ڈرافٹ کا تبادلہ کیا ہے اور کمپیوٹر بھی ایک ہی استعمال کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا دونوں درخواستیں ایک ہی فو نٹ میں لکھی گئیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا حیرت ہے ایم کیو ایم کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراض نہیں لگایا۔ اس موقع پرجسٹس عمرعطاءبند یا ل نے کمرہ عدالت میں شور شرابا کرنیوالے وکیل کے بارے میں صدر بار کونسل امان اللہ کرانی سے کہا یقینی بنائیں عدالت کو برا بھلا کہنے وا لے لوگ روسٹرم کو ٹیک اوور نہ کریں، تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کر رہے۔عدالت نے کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...