وحیدڈوگرکو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے یورپین نام کاکیسے علم ہوا؟ہوسکتاہے ڈوگرکے پاس مافوق الفطرت طاقت ہو،جسٹس مقبول باقر کا استفسار

وحیدڈوگرکو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے یورپین نام کاکیسے علم ...
وحیدڈوگرکو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے یورپین نام کاکیسے علم ہوا؟ہوسکتاہے ڈوگرکے پاس مافوق الفطرت طاقت ہو،جسٹس مقبول باقر کا استفسار

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس میں جسٹس مقبول باقرنے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وحیدڈوگرکو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے یورپین نام کاکیسے علم ہوا؟ہوسکتاہے ڈوگرکے پاس مافوق الفطرت طاقت ہو۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف ریفرنس کی سماعت ہوئی،جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وکلا ذہن میں رکھیں ہم صرف ریفرنس پر دلائل سنیں گے،بعض درخواستوں میں ر یفرنس سے ہٹ کر بھی نکات اٹھائے گئے ، تمام درخواستوں میں اگر ایک ہی بات ہے تو ایک وکیل کو سننا کافی ہے،جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ پٹیشنز اور وکلا کی تعداد سے فرق نہیں پڑے گا، دلائل کی اہمیت ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس پر نظر ثانی درخواستیں مارچ میں دائر کی گئیں،10اپریل 2019 کو ایسٹ ریکوری یونٹ کو ایک صحافی نے خط لکھا،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کیا ہے یہ وزیراعظم سیکریٹریٹ میں کیوں ہے؟منیر اے ملک نے کہا کہ 10مئی کو وزیر قانون کو ایک خط لکھا گیا جس میں ان سے موقف مانگا گیا،پہلی بار زرینہ کھوسو کریرہ اورارسلان کھوسوکے نام سامنے آئے۔

وکیل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ میں کوئی بھی سول سرونٹ نہیں ہے،جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ وحیدڈوگرکو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے یورپین نام کاکیسے علم ہوا؟ہوسکتاہے ڈوگرکے پاس مافوق الفطرت طاقت ہو۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ آن لائن پراپرٹی لندن لینڈ اتھارٹی سے لے سکتے ہیں؟ وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ صرف پلاٹ کاپتہ لگ سکتاہے،کس کے نام رہے پتہ نہیں لگ سکتا؟جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ یہ ممکن ہے کہ نام پر ریکارڈ سرچ کیا جا سکتا ہے،سوال یہ ہے کہ پھر کیسے اس پراپرٹی کے بارے معلومات ملیں؟وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ یہ سب معلومات درخواست گزار اور اس کے خاندان کا پیچھا کر کے لی گئیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد