فلموں میں ہیرو پہلو بدل کر بندوق کی گولی سے بچ جاتا ہے لیکن کیا حقیقت میں کوئی انسان کسی بھی پستول کی گولی سے بچ سکتا ہے؟

فلموں میں ہیرو پہلو بدل کر بندوق کی گولی سے بچ جاتا ہے لیکن کیا حقیقت میں کوئی ...
فلموں میں ہیرو پہلو بدل کر بندوق کی گولی سے بچ جاتا ہے لیکن کیا حقیقت میں کوئی انسان کسی بھی پستول کی گولی سے بچ سکتا ہے؟

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) فلموں میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ہیرو پہلو بدل کر گولی لگنے سے بچ جاتا ہے ، اس حوالے سے سب سے مشہور فلم دی میٹرکس ہے جس کا ہیرو عجیب و غریب طریقے سے دیواروں پر اچھل کود کرکے یا پیچھے کی طرف جھک کر بندوقوں کی گولیوں سے بچ جاتا ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کوئی بھی انسان پستول کی گولی کو ڈاج نہیں دے سکتا۔

بندوق کی گولی کو ڈاج دینے کی اختراع ہالی ووڈ فلموں کے سائنس ڈائریکٹرز نے کی جنہوں نے فزکس کے اصولوں کو اچھی سٹوری لائن کی بدولت پس منظر میں دھکیل دیا لیکن حقیقت میں فزکس کے اصول تبدیل نہیں ہوسکتے۔ اگر سب سے کم کارکردگی کی حامل ہینڈ گن کی گولی کو دیکھا جائے تو اس کی سپیڈ 760 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ یعنی یہ گولی 340 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے جبکہ کوئی بھی انسان مخصوص حالات میں زیادہ سے زیادہ ایک سکینڈ کے 20 ویں حصے میں اپنا رد عمل ظاہر کرسکتا ہے ۔ عمومی طور پر انسانی رد عمل ڈیڑھ سیکنڈ میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔

ماہرین طبیعات نے کچھ عرصہ پہلے اس حوالے سے ایک تحقیق کی تھی جس میں انہوں نے یہ پتا لگانے کی کوشش کی تھی کہ کوئی انسان کتنے فاصلے سے گولی کو چکمہ دے سکتا ہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کیلئے ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سب سے ہلکی رفتار میں سفر کرنے والی گولی کو بھی چکمہ دینا ہو تو آپ کو اس گولی کے داغے جانے کے مقام سے 3 فٹبال فیلڈز کی دوری پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ خیال رہے کہ ایک فٹبال فیلڈ کی لمبائی 360فٹ ہوتی ہے۔

اس تحقیق سے ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کوئی شخص فلمی سٹائل میں گولی کو ڈاج دینا چاہتا ہے تو اسے گولی کے داغے جانے کے مقام سے لگ بھگ 360 میٹر دور یعنی گولی کے ایک سیکنڈ کے فاصلے پر کھڑا ہونا پڑے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس