پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا ایک بار پھر التوا؟

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا ایک بار پھر التوا؟

  

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مزید تاخیر کا شکار ہوتا نظر آتا ہے،صوبے میں بلدیاتی ایکٹ 2019ء نافذ ہو چکا ہے، ایکٹ کے تحت اپریل 2020ء تک بلدیاتی انتخابات کرائے جانے تھے،لیکن پنجاب حکومت نے ایکٹ میں ترمیم کر کے فروری2021ء تک گیارہ ماہ کی توسیع لے لی تھی،اب پھر مزید پانچ ماہ کی تاخیر کے لئے ایکٹ میں مزید ترمیم کی جائے گی،جس کے مطابق بلدیاتی انتخابات اگلے برس جولائی تک کرائے جا سکیں گے،نئی ترمیم منظوری کے لئے کابینہ کو بھجوائی جائے گی۔

ترمیم کی منظوری کابینہ سے  تو مل ہی جائے گی اور امکان یہی ہے کہ پنجاب اسمبلی بھی ترمیم پر انگوٹھا لگا دے گی،لیکن سوال یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں یہ غیر معمولی تاخیر کیوں روا رکھی جا رہی ہے،کیا حکومت انتخابات میں شکست سے خوفزدہ ہے؟ یا کوئی اور وجہ ہے، اس حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بلدیاتی ادارے ختم کر دیئے تھے، بظاہر تو اس کی وجہ جو بھی بتائی گئی ہو، لیکن ان اداروں میں چونکہ مسلم لیگ(ن) کی اکثریت تھی،اِس لئے تحریک انصاف کو کسی طرح یہ گوارا نہ تھا کہ بلدیاتی اداروں میں اُن کے سیاسی حریف بیٹھے ہوں،حالانکہ یہ سب لوگ باقاعدہ انتخابات میں منتخب ہو کر آئے تھے، کوئی نامزد لوگ نہیں تھے ان میں اگرچہ مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت تھی تاہم تحریک انصاف سمیت دوسری جماعتوں کے لوگ بھی تھے،لیکن یہ بلدیاتی ادارے ختم کر کے سرکاری افسروں کو ان کا سربراہ لگا دیا گیا،پھر گزشتہ برس ایک بلدیاتی ایکٹ بنایا گیا، جس میں اپریل2020ء تک انتخابات کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی،لیکن آخری تاریخ سے بہت پہلے ہی ان انتخابات کو التوا میں ڈالنے کی تیاری کر لی گئی، حالانکہ سال کے شروع میں بآسانی انتخابات ہو سکتے تھے۔ اس وقت ابھی کورونا کا کوئی کیس بھی سامنے نہیں آیا تھا۔

جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور میں دو بار بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے اور ان اداروں کی مدت چار سال تھی، انہوں نے جو بلدیاتی نظام متعارف کرایا تھا اس میں بہت کچھ نیا تھا اور ان اداروں کے آٹھ سال میں گراس روٹ لیول تک بہت سے ترقیاتی کام ہوئے تھے،جن علاقوں میں ترقی کا کوئی تصور نہیں تھا وہاں بھی پہلی مرتبہ ترقیاتی کام ہوئے، ان اداروں کی مدت 2009ء میں ختم ہو گئی تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی اپنی پسند کے بلدیاتی نظام متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کر دیا،وفاقی اور  تین صوبوں میں پیپلزپارٹی کی قیادت میں مخلوط حکومتیں قائم تھیں،ایم کیو ایم بھی سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ شریک اقتدار تھی، پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت تھی، چنانچہ جنرل پرویز مشرف کے نظام کو ختم کر کے دونوں جماعتوں نے اپنی اپنی پسند کے نئے بلدیاتی نظام متعارف کرائے اور انتخابات میں جتنی تاخیر ممکن تھی، کی گئی۔ اگر سپریم کورٹ کا حکم نہ ہوتا تو شاید کسی بھی جگہ بلدیاتی انتخابات نہ ہوتے، اسلام آباد میں بھی بلدیاتی ادارہ سپریم کورٹ کے حکم پر بنا۔یہ الگ بات ہے کہ آج تک اس کا کوئی چہرہ نمایاں نہیں ہو سکا اور اسی بنا پر شہر کے میئر نے قبل از وقت ہی استعفا دے دیا ہے، اس سے پہلے اُنہیں حکومت نے ہٹا دیا تھا تو وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر بحال ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ کا حکم تو اب بھی لاگو ہے،لیکن جب سے تحریک انصاف کی حکومتیں قائم ہوئی ہیں، بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے،سندھ میں بھی یہی صورتِ حال ہے۔ کراچی اور حیدر آباد کے میئر اختیار مانگتے مانگتے اپنی مدت پوری کر گئے اور اب سندھ میں بھی بلدیاتی ادارے سرکاری افسروں کے حوالے ہیں اور حکومت نئے انتخابات کے لئے کسی گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کر رہی،حتیٰ کہ انتخابی حلقہ بندیاں ہی شروع نہیں ہو سکیں،وجہ یہ بتائی گئی کہ نئی مردم شماری کے سرکاری نتائج ہی اب تک نہیں مل سکے،اِس لئے نہ تو حلقہ بندیوں کا کام ہو سکتا ہے اور نہ ہی ووٹر لسٹیں اپ ڈیٹ ہو سکتی ہیں، جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے یہاں تو ایسا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا،مردم شماری کے نتائج کا کوئی تنازع تھا، نہ انتظار،لیکن یہاں بھی حلقہ بندیوں کا کام تیز رفتاری سے نہیں ہوا، تاہم جس رفتار سے بھی یہ کام ہو رہا تھا جنوری2021ء میں انتخابات کا عندیہ دیا گیا تھا، اب جنہیں ملتوی کرنے کا پروگرام ہے۔

کورونا کی وبا کے دِنوں میں یہ بات شدت سے محسوس کی گئی کہ اگر بلدیاتی ادارے کام کر رہے ہوتے اور ان میں منتخب نمائندے بیٹھے ہوتے تو ریلیف وغیرہ کے بہت سے کام زیادہ بہتر طریقے سے اور آسانی سے ہو سکتے تھے،کیونکہ یہ نمائندے گلی محلوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اُنہیں ہر گھر کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں،لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو وہ بلدیاتی اداروں کی اہمیت کو دِل سے تسلیم نہیں کرتی،اسمبلیوں کے ارکان بھی ان اداروں کو اپنا ”دشمن“ تصور کرتے ہیں، حالانکہ عالمی سطح پر ان کی اہمیت بھی مسلّمہ ہے اور انہی اداروں کے ذریعے ملکوں کی قومی قیادت اُبھر کر سامنے آتی ہے،برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن لندن کے میئر  رہ چکے ہیں،ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی سیاسی کامیابیوں کی ابتدا استنبول کی میئر شپ سے ہوئی، ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد بھی میئر تہران رہے، دُنیا میں اور بھی ایسے لیڈر موجود ہیں،جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز بلدیاتی اداروں سے کیا،لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں بلدیاتی کلچر فروغ نہیں پا سکا، جو تھوڑا بہت کام ہوا وہ بھی غیر منتخب حکومتوں کے دوران ہوا، شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ ان ادوار میں اسمبلیوں کے انتخابات میں دانستہ تاخیر کی گئی اور متبادل کے طور پر بلدیاتی اداروں سے کام چلانے کی کوشش کی گئی۔

بلدیاتی نظام کو مستحکم کرنا سیاسی اور جمہوری حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ آئینی ضرورت ہے،لیکن کوئی بھی سیاسی حکومت اس سلسلے میں کوئی ایسی کارکردگی نہیں رکھتی، جس کا ذکر فخر کے ساتھ کیا جا سکے،تحریک انصاف چونکہ تبدیلی کی دعویدار تھی،اِس لئے اس سے توقع تھی کہ وہ بلدیاتی کلچر کو مضبوط بنائے گی،لیکن وہ بھی اس سلسلے میں دوسری حکومتوں سے مختلف ثابت نہیں ہوئی،حیلوں بہانوں سے اس کام میں تاخیر کی گئی، دو سال سے زیادہ عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔اب تو جو صورتِ حال بنتی نظر آ رہی ہے اور مہنگائی نے عوام کو جس طرح پریشان کر رکھا ہے اور وزیر تک یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ مہنگائی اس حکومت کی دشمن ہے، وزراء اور ارکانِ اسمبلی خود کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے حلقوں میں ووٹروں کا سامنا نہیں کر پا رہے، شاید حکومت نے بھی محسوس کر لیا ہے کہ وزراء ٹھیک ہی کہتے ہیں،اِس لئے اس نے بھی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مزید معرضِ التوا میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم تو کر لی جائے گی،لیکن کیا یہ اقدام سپریم کورٹ کے فیصلے کی روح کے بھی مطابق ہے؟ اس کی بھی وضاحت ہو جانی چاہئے۔ویسے ہو سکتا ہے اب کی بار بھی بلدیاتی انتخابات کروانے کے لئے کسی نہ کسی شہری کو سپریم کورٹ جانا پڑے،کیونکہ حکومت نے تو عندیہ دے دیا ہے کہ ایسے انتخابات اس کی ترجیحات میں کہیں نہیں ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -