بھارت کی مذاکرات کے لئے خواہش اور پاکستان کی شرائط!

بھارت کی مذاکرات کے لئے خواہش اور پاکستان کی شرائط!

  

بھارت کی طرف سے پاکستان کو مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔ یہ دعوت وزیراعظم عمران خان کو  ملی، جس کا انکشاف وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بھارتی نیوز ویب سائٹ ”دی وائر“ کو انٹرویو میں کیا، جو معروف بھارتی صحافی کرن تھاپر نے کیا تھا۔ معاونِ خصوصی نے اِس حوالے سے مزید کوئی بات نہیں کی،تاہم انہوں نے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس کے لئے بھارت کو پہلے فضا بنانا ہو گی، کیونکہ کشمیر اور دہشت گردی دو اہم مسائل ہیں، پاکستان کے پاس بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں،ان میں آرمی پبلک سکول پر حملہ اور معصوم بچوں کی شہادتیں، کراچی میں چینی قونصل خانے پر دہشت گردی اور دوسرے واقعات بھی شامل ہیں،معید یوسف نے یہ کہا کہ مذاکرات کے لئے بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے حالات درست کرنا ہوں گے۔سیاسی قیدیوں کو رہا اور کرفیو ختم کر کے خصوصی حیثیت بحال کرنا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنا ہو گا۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے 5اگست 2019ء سے مسلسل کرفیو نافذ رکھا گیا اور کشمیریوں کو شہید کیا جا رہا ہے،جبکہ کشمیریوں کی اکثریت ختم کرنے کے لئے یہاں غیر کشمیریوں کو بھی بسایا جا رہا ہے۔ 5 اگست کے بعد سے پاک بھارت روابط سخت کشیدگی کا شکار ہیں اور یہ پہلا انٹرویو ہے، جو اس کے بعد کسی پاکستانی ذمہ ّ دار کی طرف سے کسی بھارتی میڈیا کو دیا گیا ہو، معاونِ خصوصی برائے قومی سلامتی نے بہت ہی واضح الفاظ میں پاکستانی موقف بیان کیا جو حقائق پر مبنی ہے۔انہوں نے یہ بھی درست کہا کہ مذاکرات مفید ہیں اور ہونا چاہئیں، تاہم بھارت کی کار گذاری یہ ثابت نہیں کرتی،اس کے لئے اسے نیک نیتی کا ثبوت دینا چاہئے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے حصول اور دُنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ردعمل کو زائل کرنے کے لئے یہ نئی حکمت ِ عملی ہے،بھارت خطے میں امن چاہتا ہے تو اسے بامقصد مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا، ورنہ حالات بدستور خراب ہوں گے اور اسے چین سے چھیڑ چھاڑ کا مزہ بھی چکھنا پڑے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -