حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا پہلا امتحان!

 حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا پہلا امتحان!
 حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا پہلا امتحان!

  

مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام نئے سیاسی مخالف اتحاد پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کا پہلا جلسہ کل گوجرانوالہ میں ہونا ہے۔ حزب اختلاف کی طرف سے تیاریاں جاری ہیں، خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کا تو یہ اپنا اور پہلا جلسہ ہے، مریم نواز شریف کے لئے بھی یہ امتحان ہو گا کہ ”ووٹ کو عزت دو“ اور ”مجھے کیوں نکالا“ والے جلسوں کے بعد یہ غالباً پہلا جلسہ ہے، جس کی قیادت بھی مریم نواز ہی کو کرنا ہے، بتایا گیا ہے کہ اس کے لئے انہوں نے تقریر بھی خصوصی طور پر تیار کی ہے کہ پی ڈی ایم کی قیادت بھی تو ہو گی۔ مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو بھی خطاب کریں گے۔ یوں اس جلسے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو سنٹرل پنجاب کے صدر قمرزمان کائرہ کا بھی یہ امتحان ہے کہ بلاول بھٹو پنجاب میں ایک متوقع بڑے جلسے سے خطاب کریں گے، پیپلزپارٹی کو پنجاب میں اپنی بقاء کا بھی مسئلہ ہے کہ حالات حاضرہ میں مسلم لیگ (ن) کے بعد تحریک انصاف نے خلاء پر کیا تھا، قمر زمان کائرہ نے اپنی طرف سے کافی محنت کی اور وہ لالہ موسیٰ، گوجرانوالہ اور لاہور کے درمیان چکر لگا لگا کر جوش پیدا کرنے کی کوشش کرتے چلے آ رہے ہیں، ان کی محنت سے گوجرانوالہ میں کارنر میٹنگیں ہوئیں اور پولیس نے ابتداء ہی سے کرسیوں پر قبضہ کرکے گڑ بڑ کر دی۔ جیالوں کو احتجاج پر مجبور ہونا پڑا، بہرحال تصادم تو نہ ہوا اور جو دو کارکن گرفتار کئے گئے وہ بھی بعد میں رہا ہو گئے۔

ایسا ہی معاملہ مسلم لیگ (ن) کا ہے کہ عملی طور پر گوجرانوالہ اسی کا شہر ہے، یہاں سے قریباً سب نشستیں جیتی ہوئی ہیں، مسلم لیگ (ن) نے جو زر خرچ کیا اور بینروں سے شہر اور سڑکیں سجائیں، وہ انتظامیہ نے ناکام بنا دیں اور ترقیاتی اداروں کے کارکن پل پڑے، انہوں نے سارے بینرز وغیرہ اتار کر قبضہ میں کر لئے اور جلسے سے قبل ہی مالی نقصان پہنچا دیا۔

گوجرانوالہ کے اس پہلے جلسے کے حوالے سے حکمت عملی کی ”جنگ“ بھی جاری ہے۔ حزب اختلاف کا زور حکومت پر تنقید اور کارکنوں کو جوش دلا کر باہر نکالنے پر ہے، جبکہ حکومت دو قدم آگے اور تین قدم پیچھے والی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ پہلے یہ تاثر دیا گیا کہ جلسہ نہیں ہونے دیا جائے گا کہ یہ انتشار پھیلانے کا ذریعہ بنے گا اور پھر کہا گیا کہ کورونا پھیلنے کا خدشہ ہے، تاہم یہ عذر یوں نہ مانا گیا کہ خود تحریک انصاف کا ایک بڑا اجتماع حلف برداری کے نام پر ہو گیا، اس کے بعد وزیراعظم نے واضح اعلان کر دیاکہ اپوزیشن کو روکا نہ جائے کہ عوام میں تو ان کی ساکھ نہیں ہے، یہ مسترد لوگ ہیں اور عوام توجہ نہیں دیں گے، وزیراعظم کی اس اجازت کا منشاء جو بھی ہو،لیکن انتظامیہ تک ان کی بات نہیں پہنچی اور اس کی طرف سے وہی پرانے ہتھکنڈے جاری ہیں،جو ماضی سے اب تک طرہ امتیاز رہا، ڈرانا، دھمکانا اور گرفتاریاں، یہ سب جوں کا توں جاری ہے۔ یہ کیسا فری ہینڈ ہے کہ کارنر میٹنگ بھی نہیں کرنے دی جا رہی، اگر آج تک یہ حال ہے تو آج اور کل کیا ہوگا، اس کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے، مریم نواز نے جاتی امرا سے ایک جلوس کی شکل میں روانہ ہونا ہے، مسلم لیگ(ن) کی طرف سے کارکنوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ جاتی امرا پہنچیں اور جلوس بنا کر چلیں کہ مریم نواز کی سیکیوٹی کا بھی تقاضا ہے۔ دوسری طرف قمر زمان کائرہ نے بھی کچھ ایسے ہی انتظامات کئے اور وزیرآباد موڑ پر اجتماع رکھ لیا۔ بلاول بھٹو زرداری وہاں خطاب کرکے جلوس کی شکل میں گوجرانوالہ آئیں گے۔

یوں وزیرآباد سے گوجرانوالہ تک راستے میں سے بھی کارکن شامل ہوتے رہیں گے،جہاں تک مولانا فضل الرحمن کا تعلق ہے تو ان کے پروگرام کا اب تک اعلان نہیں کیا گیا اور یہ بھی تعجب کا مقام ہے کہ ان کی طرف سے جو پی ڈی ایم سربراہی اجلاس (15اکتوبر) بلایا گیا ہے اس کا مقام ظاہر نہیں کیا گیا۔ امکانی طور پر یہ اسلام آباد ہی میں ہوگا اور پھر اگلے روز (16اکتوبر) کو گوجرانوالہ کا رخ ہوگا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا یا تو خود اپنا سفر آپ کریں گے یا یہ امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ آ جائیں۔

ہم نے یہ ساری صورت حال بیان کر دی اور اب تک یہی سب کچھ ہو رہا ہے، لیکن حکومتی اقدامات اور خبروں کے علاوہ سوشل میڈیا محاذ پر تنقید سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کپتان نے یہ فیصلہ طوعاً قرعاً کیا ہے کہ جلسہ کرنے دیا جائے، شاید ان کو یہ مشورہ دیا گیا، تاہم اگر یہ فیصلہ کیا تھا تو پھر انتظامیہ کو بھی آگاہ کر دینا لازم تھا تاکہ اس کی طرف سے یہ ہتھکنڈے استعمال نہ کئے جاتے جو ہو رہے ہیں، ہمارا تجربہ ہے کہ ایسے منفی اقدامات سے حکمران جماعت کو فائدہ نہیں ہوتا اور حزب اختلاف میں جوش بڑھ جاتا ہے اور پھر کسی وقت تصادم کی صورت بھی پیدا ہو سکتی ہے، ایسے حالات حکمرانوں کے لئے نہیں، مظاہرین ہی کے لئے مفید ہوتے ہیں، بلاشبہ کپتان کو خود پر اپنی حکومت اور آئینی اداروں پر مکمل بھروسہ اور اعتماد ہے،

لیکن ماضی میں جو بھی تحریکیں، بڑھیں اور چلیں،وہ ایسے ہی انتظامی اختیارات کے استعمال کا نتیجہ تھیں اور اب بھی فائدہ حزب اختلاف ہی کو ہو رہا ہے، اور یہ جو مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آیا یہ انتظامی سختی سے تو قابو میں آنے سے رہا، اس کے لئے حکمت عملی ”ڈیمانڈ اور سپلائی“ مانگ اور بہمرسانی پر مبنی بنانا پڑتی ہے، یہاں تو ہمارے محکموں کے پاس مصدقہ اعدادو شمار ہی نہیں ہیں کہ پیداوار اور لاگت کے درمیان تفاوت کتنا ہے اور جو فرق ہے، اسے کس طرح پورا کرکے منافع خوری کو روکا جا سکتا ہے، پکڑ دھکڑ اور جرمانے نہ پہلے کام آئے اور نہ اب آئیں گے، ضرورت یہ ہے کہ آپ عوامی ضرورت پوری کریں، آج مہنگائی نے جو برا حال کر دیا ہے، اگر حزب اختلاف اس سے فائدہ نہ اٹھا سکی تو پھر اس کا بھی اللہ حافظ ہے۔ اپوزیشن نے شاید پہلی بار مہنگائی کا نعرہ اپنایا ہے اور بھوکوں کے لئے آواز بلند کرنا بڑی بات ہے۔

مزید :

رائے -کالم -