آمریت سے کرپشن بڑھتی اور ترقی گھٹتی ہے

آمریت سے کرپشن بڑھتی اور ترقی گھٹتی ہے

  

کرپشن ہر دور حکومت کی روایت رہی ہے۔ یہ اندازِ کار سراسر غیر قانونی اور غیر آئینی ہونے کے باوجود آمرانہ حکومتوں میں بھی بیشتر سرکاری محکموں، پرائیویٹ اداروں اور انفرادی کارروائیوں میں بھی کبھی ختم یا کم ہونے میں نہیں آیا۔ آج کل عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں، وہ  دو سال قبل، اس مقتدر منصب پر براجمان ہو کر پاکستان کے 22 کروڑ عوام کے بیشتر مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کے، اپنے دعوؤں پر عمل درآمد کرنے سے قاصر، بلکہ ناکام نظر آ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت میں ان کے ساتھ 50 سے زائد وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کام کر رہے ہیں، لیکن عوام کو روز مرہ اشیاء کی فراہمی سابقہ قیمتوں سے کافی گراں نرخوں پر ہو رہی ہے۔ ملک بھر کے اکثر لوگوں کے لئے اپنے قانونی طور پر جائز ذرائع آمدن کے مطابق ایک اوسط درجے کے معیار کی زندگی گزارنا بہت مشکل، بلکہ ناممکن ہو گیا ہے۔ دوائیوں کی قیمتوں میں حالیہ 262 فی صد تک اضافہ اس غریب ملک میں پانچ فی صد سے بھی کم لوگ برداشت کرنے کی  سکت رکھتے ہیں۔ اس طرح بقیہ 95 فیصد لوگ تو اپنی صحت و تندرستی کو قائم رکھنے کی خواہش کو حقیقت بنانے میں ناکام و نامراد ہی رہیں گے، لیکن اپنے حامی چند ہزار افراد کو صحت کارڈ فراہم کر کے حکومت ذرائع ابلاغ میں شب و روز اپنی عوام دوستی  کا ڈھول پیٹتی رہتی ہے۔ اگر کوئی حکمران طبقہ محض اپنے چند قریبی حامی کارکنوں، دوست احباب اور عزیز و اقارب کے مفادات کو ترجیح دے کر عوامی خدمت کی انجام دہی کے بلند بانگ دعوے کرتا ہے تو پھر ایسی کارکردگی کو صاف طور پر خود غرضی اور اقربا پروری پر مبنی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

کیا آج کل ملک میں کرپشن کا خاتمہ ہو گیا ہے؟ یہ دعویٰ درست ہونے کے حوالے سے کوئی حکومتی ترجمان، وزیر اور مشیر اپنے موقف پر قائم ہے تو وہ  یہ بتائے کہ قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر جو کرپشن کے جو الزامات ٹھوس قانونی ثبوتوں کے ساتھ آئے دن، دیکھنے اور پڑھنے میں آتے ہیں، کیا وہ تمام غلط، جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت ہیں؟ کیا گزشتہ 73 سال کے طویل عرصے کے دوران سابقہ حکمرانوں نے جو غیر قانونی کارروائیاں کیں؟ کیا ان میں متعلقہ حکمران طبقے اور ان کے قریبی لوگ ملوث اور مفاد پرست موجود نہیں تھے؟ نیز جو لوگ انتخابات میں دھونس، دھاندلی اور غیر قانونی حربے اپنا کر اور اقتدار حاصل کر کے جمہوریت کی بجائے آمریت کی بدنام زمانہ حرکات و  روایات کی تشہیر و ترویج کر کے وطنِ عزیز کی عزت و شہرت کو تباہ اور ناکام کرنے کی روش میں مبتلا رہے، ان کی سیاہ کاریوں کو منظر عام پر لاکر پردہ ڈالنے کی روایت کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے، کیونکہ غیر جمہوری اطوار سے ملکی اداروں کی کارکردگی میں محنت و دیانت اور میرٹ و انصاف کی بجائے، محض حکمران طبقے کے اپنے اور قریبی حواریوں کے ناجائز مفادات کو ہی تحفظ دینے پر زور دیا جاتا ہے۔ سرکاری محکموں کی ملازمتوں پر نظر ڈالی جائے تو میرٹ پر آئے ٹاپ پوزیشنوں اور بہتر کارکردگی کے حامل امیدواروں کو انٹرویو کے کال لیٹر ہی جاری نہیں کئے جاتے، کیونکہ گزشتہ چند سال سے بیشتر سرکاری محکموں میں ممکنہ اور متوقع ملازمین کی شارٹ لسٹیں بنائی جا رہی ہیں، جن میں حکمران طبقے کے منظور نظر حامی افراد یا جو امیدوار مٹھی گرم کر دیتے ہیں، ان کو انٹرویو اور حتمی منظوری کی فہرست میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ سرکاری محکموں میں ایک اور مروجہ روایت یہ بن گئی ہے کہ عموماً ایک یا دو نشستوں پر پانچ سات یا زیادہ افراد کو بھرتی کر لیا جاتا ہے، جو محض فارغ رہ کر تنخواہیں اور مراعات قومی خزانے سے وصول کرتے ہیں۔

 سرکاری اداروں کو کسی کام کے بغیر لوٹنے والا ایک طبقہ گھوسٹ ملازمین کا بھی ہے۔ ایسے افراد بااثر لوگوں اور سیاست کاروں کی حمایت و سفارش سے بھرتی کرائے جاتے ہیں۔ وہ اپنے دفاتر، اداروں یا سکولوں و کالجوں میں اکثر اوقات حاضر ہو کر اپنی قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے گاہے گاہے محض اپنی تنخواہیں اور مراعات وصول کرنے جاتے ہیں۔ یہ معاملہ بعض اوقات اعلیٰ عدالتوں کے علم میں بھی لایا گیا ہے۔ وہ اس غیر قانونی دھندے کو یکسر ختم کرنے کے فیصلے کرتی ہیں، لیکن اس غلط روش کو کچھ عرصے بعد کسی اور مقام اور محکمے میں پھر بحال کر کے قومی خزانے کی بے رحمانہ خورد برد اور بددیانتی کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل لاہور سے کراچی جانے والے پی آئی اے کے طیارے کے حادثے میں متعدد افراد کے جاں بحق ہونے والے واقعہ  میں کئی بڑے عہدیداروں، ملازمین اور پائلٹس کی قابلیت، تجربے اور تعلیمی ڈگریوں کے جعلی اور ان کی نا اہلی کے بارے میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کیا ان کی بھرتی اور تقرری کوئی جن یا بھوت کر گئے تھے؟

 ایسے غیر منصفانہ واقعات کے ظاہر ہونے پر متعلقہ، سیاست کار اور حکام محض یہ کہہ کر  خود کو بری الذمہ قرار دینے  کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ تو گزشتہ 73سال سے جاری ہے، اسے ختم کرنے کے لئے وقت درکار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ اور آئندہ ہر حکومت اور حکمران طبقے کو ایسی کارروائیوں اور ملک کو بدنام کرنے کی حرکات کے ارتکاب کی روایت سے ہمیشہ کے لئے نجات دلانے کے جلد اور موثر اقدامات کئے جائیں۔ غلط کار اعلیٰ حکام اور سیاست کاروں کو بھی بلیک لسٹ کر کے ملکی خزانے کو بھاری مالی نقصانات سے بچانے کے انتظامات ممکن بنائے جائیں۔ موجودہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اراکین قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے کافی ممبران کے بارے میں عام لوگوں کی اکثریت کا خیال یہ ہے کہ انہیں اپنے حلقوں کے ووٹروں کی اکثریت نے عام انتخابات میں آزادانہ اور منصفانہ طور پر منتخب نہیں کیا تھا،اس لئے مذکورہ بالا حکومتوں کا انتخاب غیر جمہوری اور غیر آئینی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -