زبانوں کی اہمیت و افادیت

 زبانوں کی اہمیت و افادیت
 زبانوں کی اہمیت و افادیت

  

 مارچ 1971ء میں جب میری پوسٹنگ آرمی سے فرنٹیئر کور میں ہوئی تو میں نیا نیا کیپٹن پروموٹ ہوا تھا۔ فوج میں کیپٹن رینک میں پروموشن پانے کے لئے دوشرائط تھیں۔ ایک یہ کہ آپ کی کمیشنڈ سروس کم سے کم دو سال ہو اور دوسری یہ کہ آپ نے لیفٹیننٹ سے کپتان تک کا پروفیشنل امتحان پاس کرلیا ہو۔ اس پروموشن امتحان کے لئے مجھے کوئی خاص محنت نہ کرنی پڑی اور اس دور میں تقریباً 95%لیفٹیننٹیہ امتحان (جس میں تین چار پیپرز ہوتے تھے) اپنی پہلی کوشش میں پاس کر لیا کرتے تھے۔ ان Papersمیں ملٹری لا (Law)، ایڈم اینڈ لاگ (ایڈمنسٹریشن اور لاجسٹکس) اور ایک مقالہ نما مضمون (Essay) لکھنا ہوتا تھا جس میں علاقائی یا بین الاقوامی موضوعات وغیرہ شامل ہوتے تھے۔ یعنی فوج اول روز سے ہی اپنے افسروں کو جسمانی محنت و مشقت کے علاوہ دماغی اور ذہنی کاوشوں کی راہ پر بھی ڈال دیتی ہے۔ اس دور میں چترال سے لے کر قلات تک افغان سرحد پر جو نیم مسلح فوج تعینات ہوتی تھی، وہ میجر جنرل رینک کے ایک آفیسر کے ماتحت ہوتی تھی جس کو انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (IGFC)کہا جاتا تھا۔ ریگولر فوج کے مقابلے میں اس فوج کی بھرتی علاقائی بنیادوں پر کی جاتی تھی۔اگر چترال سکاؤٹس میں چترالی آبادی کو ترجیح دی جاتی تھی تو چاغی ملیشیاء میں مقامی بلوچی باشندوں (نوشکی کے گرد و نواح کے علاقے کے باسی) کو بھرتی کیا جاتا تھا۔ ان یونٹوں کے نام سکاؤٹس یا ملیشیا ہوتے تھے۔ مثلاً چترال سکاؤٹس، گلگت سکاؤٹس، چاغی ملیشیا وغیرہ۔ان کی نفری بالعموم ریگولر فوج کی بٹالین کے برابر ہوتی تھی اور ان کی تنظیم بھی تقریباً ریگولر آرمی کی طرح ہوتی تھی۔ یعنی 900 سے لے کر 1000تک افراد (سپاہی سے لے کر صوبیدار میجر تک) ہوتے تھے۔ ان کی وردی بھی مقامی موسم اور آب و ہوا کو مدنظر رکھ کر مقرر کی جاتی تھی۔اور جہاں تک ہتھیاروں اور ملٹری ٹرانسپورٹ کا تعلق ہے تو وہ بھی ریگولر آرمی کی نسبت ہلکے اور علاقائی ضروریات کے مطابق ہوتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں بھاری توپخانہ، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں نہیں بلکہ ان کا جو توپخانہ ہوتا تھا وہ ہلکے بوروں (Bores) کا ہوتا تھا اور گنوں کی بجائے پہاڑی ہوٹزر استعمال کئے جاتے تھے۔

یہ تو آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ جہاں توپ کی بیرل لمبی سی ہوتی ہے وہاں ہوٹزر کی نالی صرف ڈھائی تین فٹ لمبی ہوتی ہے اس کا گولہ بھی نالی (بیرل) کے منہ کی طرف سے ڈالا جاتا ہے اور یہ افقی کی بجائے عمودی اڑان لائن (ٹریجکڑی) بناتا ہے۔ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ دشمن پہاڑی علاقوں میں پہاڑ کی عقبی ڈھلان پر صف بند ہوتا ہے اور نظر نہیں آتا۔ہوٹزر کا گولہ پہلے ایک خاص بلندی تک اوپر جاتا ہے اور پھر نیچے آتا ہے تو پہاڑ کی دوسری طرف جا گرتا ہے۔ باقی چھوٹے ہتھیار (رائفل اور مشین گن) وغیرہ وہی ہوتے ہیں جو ریگولر آرمی میں ایشو کئے جاتے ہیں۔

نیم مسلح فوج کی وردی میں مزری (ملیشیاء) کی قمیض شلوار اور پاؤں میں پشاوری چپل ہوتی ہے۔ میرے زمانے میں پیٹی (بیلٹ) بھی پیٹ پر باندھتے تھے۔ افسروں کو البتہ خاکی رنگ کی پتلون اور ملیشیا کی قمیض پہننی ہوتی تھی۔ سر پر جو ٹوپی پہنی جاتی تھی اس کو کیپ بیرٹ (بیری)کہا جاتا تھا…… کم و بیش آج بھی فرنٹیئر کور کی یونٹوں میں یہی طریقہ رائج ہے…… ہاں ایک بڑا فرق یہ ہوتا ہے کہ ان کوروں کے تمام کمیشنڈ آفیسرز ریگولر فوج سے لئے جاتے ہیں اور دو تین برس کی سروس کے بعد واپس ریگولر فوج میں چلے جاتے ہیں۔ اس لئے ”سپرٹ ڈی کور“ کی وہ روحِ رفاقت جو آرمی کی یونٹوں میں (آل رینکس میں) ہوتی ہے، وہ رینجرز اور سکاؤٹس / ملیشیا میں کم کم ہوتی ہے۔ جو آفیسر جس یونٹ میں پوسٹ ہوتا ہے اس کو وہاں کے ٹروپس کی زبان (زبانی اور تحریری) آنی ضروری ہے۔ اس کے لئے باقاعدہ امتحان پاس کرنا لازم ہوتا ہے جو آفیسر یہ امتحان پاس نہیں کر سکتا، اس کو واپس آرمی میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اس امتحان کے لئے آفیسر کو باقاعدہ اضافی ترقی (انکریمنٹ)دی جاتی ہے۔

میں 1971ء کی باتیں کررہا ہوں۔ 

25مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن لیا گیا تھا۔مغربی پاکستان میں بھی جو بنگالی آفیسر تھے (اور کافی تعداد میں تھے) ان کو یونٹوں سے نکال کر الگ آفیسرز میسوں میں لے جایا گیا تھا اور وہ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد واپس بھیجے گئے تھے۔ (شائد کچھ آفیسرز اس سے پہلے بھی واپس بھیجے گئے تھے۔ اب مجھے اچھی طرح یاد نہیں)…… میرے کورس میں بھی تین بنگالی آفیسر تھے۔ ان ایام میں فرنٹیئر کور کا ایک ہی IGFC ہوتا تھا (آج کل چار ہیں …… ایک IGFC نارتھ کہلاتا ہے، دوسرا IGFC ساؤتھ تیسرا IGFC بلوچستان اور چوتھا IGFC خیبرپختونخوا …… ان سب کا رینک میجر جنرل ہے)…… 1971ء میں بلوچستان میں کوئی IGFC نہیں تھا بلکہ DIG FC ہوتا تھا جس کا رینک کرنل یا بریگیڈیئر ہوتا تھا۔

جو آرمی آفیسر فوج سے فرنٹیئر کور میں جاتا تھا، اس کا انٹرویو پہلے IGFC سے ہوتا تھا۔ یہ IGFC قلعہ بالا حصار میں بیٹھتے تھے اور ان کا نام میجر جنرل شیریں دل خاں نیازی تھا۔ میں ہیڈکوارٹر 20بریگیڈ (23ڈویژن، جہلم) سے پوسٹ ہو کر فرنٹیئر کور گیا تھا۔ جب میں پشاور (قلعہ بالا حصار) میں پہنچا تو جنرل نیازی صاحب یونٹوں کے دورے پر گئے ہوئے تھے اور انہوں نے 8،10دن کے بعد واپس آنا تھا۔ چنانچہ مجھے مارچ 1971ء کا وہ عشرہ فرنٹیئر کور کے آفیسرز میس میں گزارنا پڑا…… یہ ایک تکلیف دہ عرصہ ء قیام تھا۔ جو بنگالی آفیسرز اس میس میں ٹھہرے ہوئے تھے ان میں میرا ایک کورس میٹ بھی تھا۔ خلافِ معمول وہ مجھے ملتے ہوئے کتراتا اور گھبراتا تھا اور بار بار اپنے بنگالی برادر افسروں کی طرف دیکھتا رہتا تھا جس سے مجھے ایک گونہ کوفت ہوتی تھی۔ میں نے کبھی اس سے سیاسیات پر بات نہ کی۔مجھے معلوم تھا کہ یہ حساس موضوع ہے اور بنگالی آفیسرز، اس موضوع پر مغربی پاکستانی اور بالخصوص پنجابی افسروں سے بات نہیں کرتے تھے۔ لیکن میں جب بھی دیکھتا تو ان کا ٹولہ میس کے اینٹی روم میں ایک طرف بیٹھا اونچی نیچی آوازوں میں ڈسکشن کر رہا ہوتا۔ مجھے دیکھ کر وہ لمحہ بھر کے لئے چپ ہو جاتے، مقبول کو آنکھ مارتے اور وہ میرے ساتھ ایک اور کمرے میں آکر اِدھر اُدھر کی باتوں میں لگ جاتا……یہ مشرقی پاکستانی (بنگالی)آفیسرز بڑی اچھی اردو بولتے اور سمجھتے بھی تھے بلکہ پشتو بھی کم از کم 25% بول اور سمجھ لیتے تھے۔ ان میں سے ایک میجر تھا جو میس ویٹروں سے پشتو میں بات کرتا اور بازار سے مختلف چیزیں منگوانے کا انتظام کرتا تھا۔

جب میری ملاقات جنرل شیریں دل سے ہوئی تو اگرچہ یہ ایک رسمی سا انٹرویو ہوتا ہے لیکن میرا بایوڈیٹا دیکھ کر جنرل صاحب نے پوچھا: ”تم پنجابی، انگریزی، اردو، فارسی وغیرہ تو جانتے ہو، کیا پشتو بھی جانتے ہو؟“…… اتنا کہہ کر وہ خود پشتو میں بولنا شروع ہوئے اور مجھے پوچھا کہ: ”بتاؤ میں نے کیا کہا ہے؟“…… میں نے کہا: ”سر، جہاں تک مجھے سمجھ آئی ہے آپ نے کہا ہے کہ فوج کے تمام مغربی پاکستانی افسروں کو بنگالی بھی آنی چاہیے“…… وہ یہ سن کر مسکرانے لگے اور کہا: ”میرے ہیڈکوارٹر کی لائبریری میں درجنوں کتابیں انگریز افسروں کی لکھی ہوئی ہیں اور تمام کی تمام افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بسنے والے قبائل کی تواریخ ہیں۔ یہ اس وقت تک نہیں لکھی جا سکتی تھیں جب تک ان افسروں کو پشتوسے گہری شناسائی نہ ہوتی۔ اگر برٹش آرمی کے آفیسرز پشتو سمجھ اور پڑھ سکتے تھے تو ہم پاکستانی بنگالی کیوں نہیں سمجھ سکتے؟…… ہم تو انگریزوں کے غلام تھے اور وہ ہمارے آقا تھے لیکن بنگالی تو ہمارے بھائی ہیں۔ ان کی زبان سے ناآشنائی ہماری نااہلی کا ثبوت ہے…… کیا خیال ہے تمہارا؟“

یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا اور میں دیکھ رہا تھا کہ جنرل صاحب اس موضوع پر خاصے ’رواں‘ تھے۔ میں نے جان بوجھ کر آفیسرز میس میں موجود بنگالی افسروں کے مشکوک رویوں اور ان میں بنگالی زبان سے ہماری لاعلمی کا ذکر نہ کیا۔ مجھے ڈر تھا کہ بات کسی اور طرف نکل جائے گی۔ لیکن انہوں نے خود ہی اس موضوع پر بولنا شروع کیا: ”مشرقی پاکستان میں جو ملٹری ایکشن ہو رہا ہے۔ وہ ہمارے لئے بہت تکلیف دہ ہے۔ اگر ہم اس میں کامیاب بھی ہو گئے تو پھر بھی مشرقی پاکستان کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے بڑی سخت محنت کی ضرورت ہو گی۔ میں یہ باتیں تمہارے ساتھ اس لئے شیئر کر رہا ہوں کہ تماری سروس تو اڑھائی تین سال ہے لیکن تمہیں لکھائی پڑھائی کا کافی تجربہ ہے اور تم نے گزشتہ برس ”ملٹری پرشین“ کے امتحان میں ٹاپ کرکے فوج کو اپنی لسانی اہلیتوں سے فائدہ اٹھانے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ ہماری سادرن کوروں میں کوئی ایسا آفیسر موجود نہیں جو فارسی جانتا ہو اور بلوچستان کے ایک بڑے حصے کے لوگ فارسی بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لئے میں تمہیں قلات سکاؤٹس میں بھیج رہا ہوں۔ بلوچستان میں اس وقت دو ملیشیا یونٹیں ہیں۔ ایک چاغی ملیشیا اور دوسری قلات سکاؤٹس۔ مجھے امید ہے کہ تم خضدار جا کر اپنی ’فارسی دانی‘ سے فوج کو ’مستفید‘ کرسکو گے“…… یہ کہہ کر وہ ہنسنے لگے۔ میں نے انہیں کہا: ”سر، میں کوشش کروں گا کہ آپ کی توقعات پر پورا اتروں۔ بلوچستان میرے لئے ایک نئی دنیا تو ہو گا لیکن میرے آباؤ اجداد لورالائی کے رہنے والے تھے اور دادا پشتو بولتے تھے۔ والد یہ زبان کم از کم بولتے اور سمجھتے ہیں۔ لیکن بلوچی اور براہوی زبانیں مجھے بالکل نہیں آتیں۔ ان کو سمجھنے کی کوشش بھی کروں گا…… انشاء اللہ!“…… یہ کہہ کر میں کرسی سے اٹھا دو قدم پیچھے ہٹ کر ان کو سمارٹ سلیوٹ کیا اور کمرے سے باہر آ گیا۔

اگلے ہفتے کوئٹہ پہنچا۔ وہاں DIG FC (کرنل محمود صاحب) سے ملاقات کی اور مستونگ اور قلات کے راستے RCD ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے خضدار چلا گیا۔ کوئٹہ سے خضدار کا فاصلہ 200میل (300کلومیٹر) تھا۔ آر سی ڈی (RCD) ہائی وے جو کوئٹہ کو کراچی سے ملاتی تھی، زیر تعمیر تھی۔ خضدار تک کا حصہ تقریباً تعمیر ہو چکا تھا۔ راستے میں کہیں کہیں دوچار کلومیٹر کا ٹکڑا ہنوز زیر تعمیر تھا……

’کوئٹہ‘ سے نکلا تو 150کلومیٹر کے فاصلے پر قلات آیا۔ خان آف قلات کا پرانا محل اب ریسٹ ہاؤس میں تبدیل کیا جا چکا تھا۔ (بحکم گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان آف کالا باغ)

اس ’محل‘ کی عمارت قابلِ دید تھی۔ اردگرد وسیع باغات تھے۔ جیپ جب اس ریسٹ ہاؤس کی طعام گاہ کی طرف بڑھی تو سڑک پر دو رویہ درختوں پر سیب اور آڑو کے درخت پھل سے لدے ہوئے تھے اور بعض شاخیں تو  اپنے پھل کے بوجھ سے زمین کو چھو رہی تھیں۔ ہمارے ظہرانے کا انتظام اسی ریسٹ ہاؤس (سابق خان آف قلات کا محل) میں تھا۔ سکاؤٹس کی یہ پکی ڈرل تھی کہ جب بھی کوئی آفیسر یونٹ سے باہر Moveہوتا تو اس کے ساتھ ایک بدرقہ (اسکارٹ) ضرور ہوتا تھا جو شرپسندوں سے آفیسر کی حفاظت پر مامور ہوتا تھا۔ ہم دوپہر دو بجے جب وہاں پہنچے تو کھانا تیار تھا۔ ایک نہایت عالیشان ڈائننگ ہال میں داخل ہوئے تو ایک سفید ریش بزرگ نے ”صبح بخیر“ کہہ کر ہمارا استقبال کیا۔

میس حوالدار نے بتایا کہ یہ بابا یہاں کا ہیڈ کک ہے اور اس نے قائداعظم کو جب وہ خان آف قلات سے ملنے یہاں تشریف لائے تھے تو اسی ٹیبل پر ان کو ظہرانہ Serve کیا تھا۔ میں یہ سن کر کرسی سے اٹھا اور اس سفید ریش بابا کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور پوچھا: ”فارسی بلدے“؟ (کیا آپ فارسی جانتے ہیں؟) تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر باتیں شروع ہوئیں۔ اب میں ان بابا صاحب کا نام بھول گیا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جن ظروفِ نقرہ میں آپ کو کھانا دیا جا رہا ہے یہ وہی برتن ہیں جن میں حضرت قائداعظم نے کھانا کھایا تھا!……

خضدار ابھی 150کلومیٹر دور تھا اور میں راستے بھر اس اتفاقیہ اور اچانک ملاقات کے سحر میں کھویا پابہ سفر رہا…… اس کے بعد کا احوال اور فارسی زبان نے اس پوسٹنگ میں میری کیا مدد کی اور میں نے اپنی عاجزانہ (Humble) حیثیت میں پاکستان کے لئے اس زبان کے توسط سے کیا کچھ حاصل کیا، اس کا ذکر انشاء اللہ کسی اگلے کالم میں ……

مزید :

رائے -کالم -