نیشنل لائبریری اور لائبریری کلچر!

نیشنل لائبریری اور لائبریری کلچر!

  

علم و ادب کی دنیا میں لائبریری کلچر کو بہت اہمیت حاصل ہے

آپ میں سے اکثر کو یہ احساس ہو گا کہ بحیثیت قوم ہم علم و ادب اور آرٹ سے کچھ دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں معاشرے میں بے چینی، عدم برداشت اور حتیٰ کہ بدتہذیبی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ آپ بازار یا سڑک پر کسی سے کوئی بات کرکے دیکھیں تو جواب سے یقینا پچھتائیں گے۔ اِس کے ساتھ ساتھ ہم بحیثیت قوم آج تک بنیادی مسائل پر اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے۔ اس سے نہ صرف ترقی کا خواب ادھورا ہے، بلکہ معاشرہ بری طرح تقسیم ہو چکا ہے اور محاذ آرائی کی صورت پیدا ہو چکی ہے کاش کوئی ایسا تھینک ٹینک ہو جو اِس معاشرتی زوال پر غور کرے اور حکومتوں کو رہنمائی فراہم کرے۔ آیئے! ہم اِس افسوس ناک صورتِ حال کا ماتم کرنے کی بجائے کچھ حوصلہ افزاء باتیں کریں۔

علم و ادب کی دنیا میں لائبریری کلچر کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں اتنی بڑی بڑی لائبریریاں قائم ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے بھی آپ کو کئی دن چاہئیں اور پھر یہ لائبریریاں کچھ ملکوں میں تو 24 گھنٹے کھلی رہتی ہیں۔ ہمارے لئے یقینا ایک اچنبھے کی بات ہے میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں، لیکن میں یہ تجویز ایک دفعہ پھر پیش کروں گا شاید کہیں میری آواز سنی جائے۔میر ی خواہش ہے کہ اسلام آباد میں فاطمہ جناح پارک (ایف 9 پارک) میں ایک پبلک لائبریری قائم کی جائے جو اگر 24گھنٹے نہیں تو کم از کم رات 12 بجے تک کھلی رہے۔ ایک خوبصورت کیفے بھی اس لائبریری کا حصہ ہونا چاہئے اور اس کا افتتاح وزیراعظم یا صدر کریں۔

فی الحال میں آپ کو اسلام آباد میں قائم نیشنل لائبریری کی دلچسپ اور قدرے حوصلہ افزا کہانی سناتا ہوں بہت سارے لوگوں کو شاید پتہ نہ ہو اِس لئے میں شروع میں ہی نیشنل لائبریری کے بنیادی خیال کی وضاحت کر دوں۔ نیشنل لائبریری کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ ملک میں جو چیز بھی پرنٹ ہو اُس کی ایک کاپی اس لائبریری کو ریکارڈ کے لئے فراہم کی جانی چاہئے۔ یہ قانونی پابندی ہے اس پر کتنا عمل ہو رہا ہے وہ الگ بات ہے اس قسم کی نیشنل لائبریری کا خیال سب سے پہلے فرانس میں 1717 ء میں پیدا ہوا اب پاکستان سمیت 195 ملکوں میں اس قسم کی نیشنل لائبریریاں قائم ہیں۔ پاکستان میں یہ آئیڈیا 1962ء میں آیا۔ 1968ء میں اس سے متعلقہ قانون نافذ ہوا۔ اِس مقصد کے لئے کراچی میں لیاقت میموریل لائبریری کے نام میں نیشنل کا اضافہ کر دیا گیا۔ وزارت تعلیم کے سیکرٹری عبدالعلی خان نے اِسے اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا پہلے یہ لائبریری وزارت تعلیم میں ایک کمرے میں قائم ہوئی،چونکہ اسلام آباد ابھی پوری طرح آباد نہیں ہوا تھا اِس لئے لائبریری کو عارضی طور پر راولپنڈی میں سیٹلائٹ ٹاؤن میں کرائے کے مکان میں شفٹ کیاگیا۔ پھر کچھ عرصے کے بعد لائبریری اسلام آباد میں کورڈ مارکیٹ کے سامنے کرائے کے تین مکانوں میں کام کرتی رہی۔ نیشنل لائبریری کی موجودہ عمارت 1988ء میں مکمل ہوئی اور کیئر ٹیکر وزیراعظم معین قریشی نے 24 اگست 1993ء کو اس کا افتتاح کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے لائبریری کے معاملات میں کافی دلچسپی لی۔ انہوں نے بلڈنگ میں پیچھے کی طرف ایک دروازہ بھی رکھوایا تاکہ پچھلی طرف سے بلڈنگ کا رابطہ وزیراعظم ہاؤس اورایوان صدرسے قائم ہو سکے۔ لائبریری کی ایک برانچ کراچی میں بھی ہے۔نیشنل لائبریری کئی وزارتوں کے تحت کام کرتی رہی ہے آج کل یہ قومی ورثہ و کلچر ڈویژن کے ماتحت ہے۔

لائبریری میں تقریباً 4 لاکھ کتابوں کے علاوہ بہت سے ڈی وی ڈی اور سی ڈیز موجود ہیں۔ 47ہزار مائیکرو فلمیں، مائیکروفش اور 60 ہزار مجلہ اخبارات اور رسائل بھی لائبریری کا حصہ ہیں اس کے علاوہ 15000 پی ایچ ڈی تھیسز بھی موجود ہیں۔

 15000 کے قریب نادر اور نایاب قدیم نسخے بھی محفوظ ہیں مثلاً آئین اکبری ابوالفضیل کی تفسیر اور میرتقی میر کا پہلا مطبوعہ دیوان بھی یہاں موجود ہے۔ روزانہ پانچ چھ سو لوگ لائبریری سے استفادہ کرتے ہیں۔

نیشنل لائبریری ایک روایتی لائبریری نہیں، بلکہ یہ قومی ورثے کی امین ہے۔ لائبریری کے ڈائریکٹر جنرل سید غیور حسین نے مجھے لائبریری کا دورہ کرایا تو حقیقتاًمیں کافی متاثر ہوا کیونکہ اس سے میرے علم میں بہت سی چیزوں کا اضافہ ہوا۔ نیشنل لائبریری پر عموماً دو اعتراض کئے جاتے ہیں ایک یہ کہ یہ ریڈ زون میں وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ساتھ ہے، جس سے عام آدمی وہاں جانے میں دشواری محسوس کرتا ہے اور دوسرا یہ کہ یہاں کتابیں ایشو نہیں کی جاتیں۔ غیور صاحب نے اس عمارت کی لوکیشن کا بیک گراؤنڈ بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ ماسٹر پلان میں یہ جگہ ادب اور کلچر سے متعلقہ اداروں کے لئے مخصوص تھی، لیکن بعد میں کسی سٹیج پر ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وزیراعظم سیکرٹریٹ تعمیر کر دیا گیا ویسے انہوں نے کہا کہ نیشنل لائبریریاں دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی وزیراعظم یا صدر کے دفتر کے قریب واقع ہیں، لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کتابیں ایشو کرنے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ظاہر ہے نادر اور نایاب کتابیں یا جن کی ایک کاپی ہے وہ ایشو نہیں کی جاتیں، کیونکہ اِس طرح ایشو کرانے والے کی غیرذمہ داری کی صورت میں لائبریری اس سے محروم ہو جائے گی تاہم کتابیں ایشو کرنے کے لئے الگ سیکشن بنایا گیا ہے، جس میں تقریباً 80 ہزار کتابیں موجود ہیں۔

لائبریری میں 14 سے زیادہ ایسے کمرے بھی ہیں جو ریسرچرز کو اُن کے کام کے لئے کچھ ہفتوں کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ لائبریری میں ڈیجی ٹیلائزیشن اور مائیکرو فلمنگ کا شعبہ ہے، جس میں اخبارات اور رسائل کا مواد محفوظ کیا جا رہا ہے۔ بچوں کے لئے، خصوصی افراد کے لئے، سینئر سٹیزن کے لئے اور خواتین کے لئے الگ ہال اور لاؤنج ہیں۔ ایک ہال میں ایس ایم ظفر ڈاکٹر عطش درانی، احسان دانش، منشا یاد، نصرت زیدی، ڈاکٹر مجیب الرحمن اور حفیظ ہوشیار پوری جیسے ممتاز ادیبوں اور شاعروں کے ذاتی عطیات محفوظ ہیں۔ ایک خوبصورت آڈیٹوریم بھی لائبریری کا حصہ ہے جس میں 400 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اس کے علاوہ ایک لاؤنج ہے، جس میں تقریباً 70 آدمی بیٹھ سکتے ہیں۔ امریکہ، بیلاروس، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات اور ترکی کے کارنر یا لاؤنج بھی لائبریری کا حصہ ہیں۔ 

ڈائریکٹر جنرل نے لائبریری کی بہتری کے لئے قابل ِ قدر کام کیا ہے اگرچہ وہ متعلقہ محکمے کی بے توجہی کا شکار ہیں اور پچھلے چار سال سے کرنٹ چارج پر ہیں۔وہ نوجوان نسل کی تربیت کمیونٹی انوالمنٹ جیسے کئی پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں۔ لائبریری ہال ایک ایکڑ پر محیط ہے اور اس کی چار منزلیں ہیں۔آج کل کورونا کی وجہ سے لائبریری کے اوقات صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک ہیں نارمل حالات میں لائبریری 8 بجے رات تک کھلی رہتی ہے۔ اِس وقت سٹاف 58 افراد پر مشتمل ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -